آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)
اشاعت: 1973ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔
آرٹیکل 272: سینیٹ کی پہلی تشکیل
آئین میں مذکور کسی امر کے باوجود، لیکن آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 223 کے تابع،
- (a)
سینیٹ، جب تک آئین کے تحت پہلی قومی اسمبلی قائم رہے، پینتالیس ارکان پر مشتمل ہوگی اور آرٹیکل 59 کے احکام اس طرح مؤثر ہوں گے گویا اس کی شق (1) کے فقرہ (a) میں لفظ “چودہ” کی جگہ لفظ “دس” اور اس شق کے فقرہ (b) میں لفظ “پانچ” کی جگہ لفظ “تین” رکھا گیا ہو، اور آئین میں سینیٹ کی “کل رکنیت” کے حوالے کا مفہوم اسی کے مطابق لیا جائے گا،
- (b)
سینیٹ کے ارکان کے طور پر منتخب یا چنے گئے ارکان کو قرعہ اندازی کے ذریعے دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا، پہلا گروہ ہر صوبے سے پانچ ارکان، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے دو ارکان اور وفاقی دارالحکومت سے ایک رکن پر مشتمل ہوگا اور دوسرا گروہ ہر صوبے سے پانچ ارکان، مذکورہ علاقوں سے ایک رکن اور وفاقی دارالحکومت سے ایک رکن پر مشتمل ہوگا؛
- (c)
پہلے گروہ اور دوسرے گروہ کے ارکان کے عہدے کی میعاد بالترتیب دو سال اور چار سال ہوگی؛
- (d)
ان اشخاص کے عہدے کی میعاد جو سینیٹ کے ارکان کی ان کی متعلقہ میعادوں کے ختم ہونے پر جانشینی کے لیے منتخب یا چنے جائیں چار سال ہوگی؛
- (e)
اتفاقی خالی آسامی پُر کرنے کے لیے منتخب یا چنے گئے شخص کے عہدے کی میعاد اس رکن کی بقیہ میعاد ہوگی جس کی خالی آسامی پُر کرنے کے لیے وہ منتخب یا چنا گیا؛
- (f)
جونہی قومی اسمبلی کا پہلا عام انتخاب منعقد ہو، سینیٹ کے لیے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں سے چار اضافی ارکان منتخب کیے جائیں گے؛ اور
- (g)
فقرہ (f) کے تحت منتخب ارکان میں سے ایسے نصف کے عہدے کی میعاد، جو قرعہ اندازی کے ذریعے متعین ہو، پہلے گروہ کے ارکان کی بقیہ میعادِ عہدہ ہوگی اور دوسرے نصف کے عہدے کی میعاد دوسرے گروہ کے ارکان کی بقیہ میعاد ہوگی۔