مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 155: پانی کی فراہمی میں مداخلت کے بارے میں شکایات

  1. (1)

    اگر کسی صوبے، وفاقی دارالحکومت یا ان کے کسی باشندے کے مفادات، کسی قدرتی ذریعۂ فراہمی یا ذخیرے سے پانی کے سلسلے میں، ان امور سے نقصان دہ طور پر متاثر ہوئے ہوں یا ہونے کا امکان ہو-

    1. (a)

      کوئی انتظامی کارروائی یا قانون سازی جو کی گئی یا منظور کی گئی ہو یا جس کی تجویز ہو، یا

    2. (b)

      اس ذریعے سے پانی کے استعمال اور تقسیم یا کنٹرول کے سلسلے میں کسی اتھارٹی کا اپنا کوئی اختیار استعمال کرنے میں ناکامی،

    تو وفاقی حکومت یا متعلقہ صوبائی حکومت کونسل کو تحریری شکایت کر سکتی ہے۔

  2. (2)

    ایسی شکایت موصول ہونے پر، کونسل معاملے پر غور کرنے کے بعد یا تو اپنا فیصلہ دے گی یا صدر سے درخواست کرے گی کہ وہ ایسے اشخاص پر مشتمل ایک کمیشن مقرر کرے جو آبپاشی، انجینئرنگ، انتظامیہ، مالیات یا قانون میں خصوصی علم اور تجربہ رکھتے ہوں، جیسا کہ وہ مناسب سمجھے، جسے بعد ازیں کمیشن کہا گیا ہے۔

  3. (3)

    جب تک مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اس بارے میں قانون کے ذریعے بندوبست نہ کرے، پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ، 1956ء کے احکام، جس طرح وہ یومِ آغاز سے فوراً پہلے نافذ تھے، کونسل یا کمیشن پر اس طرح لاگو ہوں گے گویا کونسل یا کمیشن اس ایکٹ کے تحت مقرر کردہ کمیشن ہو جس پر اس کی دفعہ 5 کے تمام احکام لاگو ہوں اور جسے اس کی دفعہ 10A میں تصور کردہ اختیار تفویض کیا گیا ہو۔

  4. (4)

    کمیشن کی رپورٹ اور ضمنی رپورٹ، اگر کوئی ہو، پر غور کرنے کے بعد، کونسل ان تمام امور پر جو کمیشن کو بھیجے گئے تھے اپنا فیصلہ قلمبند کرے گی۔

  5. (5)

    کسی مخالف قانون کے باوجود، لیکن آرٹیکل 154 کی شق (5) کے احکام کے تابع، وفاقی حکومت اور زیرِ بحث معاملے میں متعلقہ صوبائی حکومت کا فرض ہوگا کہ وہ کونسل کے فیصلے پر اس کی شرائط اور مفہوم کے مطابق دیانتداری سے عمل درآمد کریں۔

  6. (6)

    کسی ایسے معاملے کے سلسلے میں، جو کونسل کے روبرو زیرِ بحث ہو یا رہا ہو، کسی فریق یا کسی بھی شخص کی درخواست پر کسی عدالت میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی، اس معاملے کے سلسلے میں جو دراصل اس آرٹیکل کے تحت کونسل کے روبرو شکایت کا مناسب موضوع ہو یا رہا ہو یا ہو سکتا تھا یا ہونا چاہیے تھا۔