آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)
اشاعت: 1973ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔
آرٹیکل 175F: وفاقی آئینی عدالت کا اپیلی دائرۂ اختیار
- (1)
وفاقی آئینی عدالت کو ہائی کورٹ کے فیصلوں، ڈگریوں، حتمی احکامات یا سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت اور فیصلے کا دائرۂ اختیار حاصل ہوگا، جیسا کہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے-
- (a)
جہاں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا ایکٹ ایسا بندوبست کرے؛
- (b)
اگر ہائی کورٹ تصدیق کرے کہ مقدمے میں آئین کی تعبیر کے بارے میں قانون کا کوئی اہم سوال شامل ہے؛ یا
- (c)
آرٹیکل 199 کے تحت کیے گئے ہائی کورٹ کے فیصلے یا حکم کے خلاف صرف اس صورت میں جب وفاقی آئینی عدالت اپیل کی اجازت (leave to appeal) دے: بشرطیکہ آرٹیکل 199 کے تحت کیے گئے ہائی کورٹ کے فیصلے یا حکم کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکے گی اس مقدمے میں جو کرایہ اور خاندان سے متعلق ہو، سوائے سرپرستی (guardianship) اور ایسے دیگر امور کے جو قانون کے ذریعے متعین کیے جائیں۔
- (a)
- (2)
اپیل کی اجازت کی تمام درخواستیں، اپیلیں یا نظرثانی کی درخواستیں، جن پر شق (1) لاگو ہوتی ہو یا وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آنے والی کوئی دوسری کارروائیاں، جو آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ، 2025ء کے نفاذ سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہوں یا زیرِ التوا ہوں، وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جاتی ہیں اور صرف وہی عدالت ان کی سماعت اور فیصلہ کرے گی۔