مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 101: گورنر کا تقرر

  1. (1)

    ہر صوبے کا ایک گورنر ہوگا، جسے صدر وزیراعظم کے مشورے پر مقرر کرے گا۔

  2. (2)

    کوئی شخص گورنر مقرر نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ وہ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل ہو، اس کی عمر پینتیس سال سے کم نہ ہو اور وہ متعلقہ صوبے کا رجسٹرڈ رائے دہندہ اور رہائشی ہو:

  3. (3)

    گورنر صدر کی خوشنودی تک عہدے پر فائز رہے گا اور ایسی تنخواہ، الاؤنس اور مراعات کا حق دار ہوگا جو صدر مقرر کرے۔

  4. (4)

    گورنر اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ اور صدر کے نام مخاطب تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتا ہے۔

  5. (5)

    صدر گورنر کے فرائض کی انجام دہی کے لیے کسی ایسی ہنگامی صورت میں جس کا اس حصے میں بندوبست نہ ہو، ایسا بندوبست کر سکتا ہے جو وہ مناسب سمجھے۔