آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)
اشاعت: 1973ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔
آرٹیکل 270: بعض قوانین وغیرہ کی عارضی توثیق
- (1)
مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اس طریقے سے وضع کردہ قانون کے ذریعے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست کے حصہ I کے کسی معاملے کے بارے میں قانون سازی کے لیے مقرر ہے، تمام اعلانات، صدارتی احکامات، مارشل لا ضوابط، مارشل لا احکامات اور دیگر قوانین کی، جو انیس سو انہتر کے مارچ کے پچیسویں دن اور انیس سو اکہتر کے دسمبر کے انیسویں دن کے درمیان (دونوں دن شامل) وضع کیے گئے، توثیق کر سکتی ہے۔
- (2)
کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود، شق (1) کے تحت مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے وضع کردہ قانون پر کسی بنا پر بھی کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔
- (3)
شق (1) کے احکام، اور اس کے برعکس کسی عدالت کے فیصلے کے باوجود، یومِ آغاز سے دو سال کی مدت کے لیے، شق (1) میں مذکور تمام ایسی دستاویزات کی صحت کے بارے میں کسی بنا پر بھی کسی عدالت کے روبرو سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔
- (4)
تمام احکامات، کارروائیاں اور افعال جو کسی اتھارٹی یا کسی شخص نے انیس سو انہتر کے مارچ کے پچیسویں دن اور انیس سو اکہتر کے دسمبر کے انیسویں دن کے درمیان (دونوں دن شامل) دیے، کیں یا کیے، یا جن کے بارے میں مبینہ طور پر دیے گئے، کی گئیں یا کیے گئے ہونا ظاہر کیا گیا، کسی صدارتی حکم، مارشل لا ضوابط، مارشل لا احکامات، قوانین، نوٹیفکیشنز، قواعد، احکامات یا ضمنی قوانین سے حاصل ہونے والے اختیارات کے استعمال میں، یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مبینہ استعمال میں کسی اتھارٹی کے دیے ہوئے کسی حکم یا سنائی ہوئی کسی سزا کی تعمیل میں، کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود، سمجھے جائیں گے کہ وہ درست طور پر اور ہمیشہ سے درست طور پر دیے گئے، کی گئیں یا کیے گئے، اس طرح کہ ایسے کسی حکم، کارروائی یا فعل کو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) یومِ آغاز سے دو سال کی مدت کے اندر کسی بھی وقت دونوں ایوانوں کی قرارداد کے ذریعے، یا دونوں ایوانوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں، مشترکہ اجلاس میں منظور کردہ ایسی قرارداد کے ذریعے ناجائز قرار دے سکتی ہے، اور کسی بنا پر بھی کسی عدالت کے روبرو ان پر سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔