مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 223: دہری رکنیت پر پابندی

  1. (1)

    کوئی شخص بیک وقت رکن نہیں ہوگا،

    1. (a)

      دونوں ایوانوں کا؛ یا

    2. (b)

      کسی ایوان اور کسی صوبائی اسمبلی کا؛ یا

    3. (c)

      دو یا زیادہ صوبوں کی اسمبلیوں کا؛ یا

    4. (d)

      کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کا ایک سے زیادہ نشستوں کے سلسلے میں۔

  2. (2)

    شق (1) کی کوئی بات کسی شخص کو بیک وقت دو یا زیادہ نشستوں کے لیے امیدوار بننے سے نہیں روکے گی، خواہ ایک ہی ادارے میں ہو یا مختلف اداروں میں، لیکن اگر وہ ایک سے زیادہ نشستوں پر منتخب ہو جائے تو وہ آخری ایسی نشست کے نتیجے کے اعلان کے بعد تیس دن کی مدت کے اندر ایک کے سوا اپنی تمام نشستوں سے مستعفی ہو جائے گا، اور اگر وہ اس طرح مستعفی نہ ہو تو مذکورہ تیس دن کی مدت کے اختتام پر وہ تمام نشستیں جن پر وہ منتخب ہوا ہو خالی ہو جائیں گی، سوائے اس نشست کے جس پر وہ سب سے آخر میں منتخب ہوا ہو یا، اگر وہ ایک ہی دن ایک سے زیادہ نشستوں پر منتخب ہوا ہو، اس نشست کے جس کے انتخاب کے لیے اس کے کاغذاتِ نامزدگی سب سے آخر میں داخل کیے گئے ہوں۔ توضیح:- اس شق میں “ادارہ” سے مراد کوئی ایوان یا صوبائی اسمبلی ہے۔

  3. (3)

    وہ شخص جس پر شق (2) لاگو ہو، جس ایوان یا صوبائی اسمبلی کے لیے وہ منتخب ہوا ہو اس میں اس وقت تک نشست نہیں سنبھالے گا جب تک وہ ایک کے سوا اپنی تمام نشستوں سے مستعفی نہ ہو جائے۔

  4. (4)

    شق (2) کے تابع، اگر کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کا رکن دوسری نشست کے لیے امیدوار بن جائے جو، شق (1) کے مطابق، وہ اپنی پہلی نشست کے ساتھ بیک وقت نہیں رکھ سکتا، تو اس کی پہلی نشست اسی وقت خالی ہو جائے گی جب وہ دوسری نشست پر منتخب ہو۔