آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)
اشاعت: 1973ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔
آرٹیکل 228: اسلامی کونسل کی ترکیب وغیرہ
- (1)
یومِ آغاز سے نوے دن کی مدت کے اندر اسلامی نظریاتی کونسل (Council of Islamic Ideology) تشکیل دی جائے گی، جسے اس حصے میں اسلامی کونسل کہا گیا ہے۔
- (2)
اسلامی کونسل ایسے ارکان پر مشتمل ہوگی، جو آٹھ سے کم اور بیس سے زیادہ نہ ہوں، جنہیں صدر ایسے اشخاص میں سے مقرر کرے جو اسلام کے اصولوں اور فلسفے کا، جیسا کہ قرآنِ پاک اور سنت میں بیان ہوا ہے، علم رکھتے ہوں، یا پاکستان کے معاشی، سیاسی، قانونی یا انتظامی مسائل کی سمجھ رکھتے ہوں۔
- (3)
اسلامی کونسل کے ارکان کا تقرر کرتے وقت صدر اس امر کو یقینی بنائے گا کہ:
- (a)
جہاں تک عملاً ممکن ہو کونسل میں مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی ہو؛
- (b)
ارکان میں سے کم از کم دو ایسے اشخاص ہوں جن میں سے ہر ایک سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج ہو یا رہ چکا ہو؛
- (c)
ارکان میں سے کم از کم ایک تہائی ایسے اشخاص ہوں جن میں سے ہر ایک کم از کم پندرہ سال کی مدت کے لیے اسلامی تحقیق یا تدریس میں مصروف رہا ہو؛ اور (d) کم از کم ایک رکن عورت ہو۔
- (a)
- (4)
صدر اسلامی کونسل کے ارکان میں سے ایک کو اس کا چیئرمین مقرر کرے گا۔
- (5)
شق (6) کے تابع، اسلامی کونسل کا رکن تین سال کی مدت کے لیے عہدے پر فائز رہے گا۔
- (6)
رکن اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ اور صدر کے نام مخاطب تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتا ہے یا اسے صدر اس وقت ہٹا سکتا ہے جب اسلامی کونسل کی کل رکنیت کی اکثریت اس کی برطرفی کی قرارداد منظور کر لے۔