آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)
اشاعت: 1973ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔
آرٹیکل 8: وہ قوانین جو بنیادی حقوق سے متصادم یا ان کی تنقیص کرتے ہوں کالعدم ہوں گے
- (1)
کوئی قانون، یا کوئی رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، جس حد تک اس باب کے عطا کردہ حقوق سے متصادم ہو، اس تصادم کی حد تک کالعدم ہوگا۔
- (2)
مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو اس طرح عطا کردہ حقوق کو سلب کرے یا ان میں کمی کرے، اور اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا گیا کوئی قانون خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔
- (3)
اس آرٹیکل کے احکام کا اطلاق درج ذیل پر نہیں ہوگا:-
- (a)
مسلح افواج، یا پولیس یا ایسی دیگر افواج کے ارکان سے متعلق کوئی قانون جنہیں امنِ عامہ کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، جو ان کے فرائض کی مناسب ادائیگی یا ان کے درمیان نظم و ضبط کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ہو؛ یا
- (b)
درج ذیل میں سے کوئی:-
- (i)
وہ قوانین جو پہلے شیڈول میں مذکور ہیں، جس طرح وہ یومِ آغاز سے فوراً پہلے نافذ تھے یا جس طرح ان میں اس شیڈول میں مذکور کسی قانون کے ذریعے ترمیم کی گئی؛
- (ii)
دیگر قوانین جو پہلے شیڈول کے حصہ اول میں مذکور ہیں؛
- (i)
اور ایسا کوئی قانون یا اس کا کوئی حکم اس بنا پر کالعدم نہیں ہوگا کہ ایسا قانون یا حکم اس باب کے کسی حکم سے متصادم یا منافی ہے۔
- (a)
- (4)
شق (3) کے فقرہ (ب) میں مذکور کسی امر کے باوجود، یومِ آغاز سے دو سال کی مدت کے اندر مناسب مقننہ پہلے شیڈول کے حصہ دوم میں مذکور قوانین کو اس باب کے عطا کردہ حقوق کے مطابق بنائے گی: بشرطیکہ مناسب مقننہ قرارداد کے ذریعے مذکورہ دو سال کی مدت میں چھ ماہ سے زیادہ کی توسیع کر سکے گی۔ توضیح:- اگر کسی قانون کے بارے میں مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) مناسب مقننہ ہو تو ایسی قرارداد قومی اسمبلی کی قرارداد ہوگی۔
- (5)
اس باب کے عطا کردہ حقوق معطل نہیں کیے جائیں گے سوائے اس کے جو آئین میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہو۔