مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 248: صدر، گورنر، وزیر وغیرہ کو تحفظ

  1. (1)

    کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود، صدر، گورنر، وزیراعظم، وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر اپنے اپنے عہدوں کے اختیارات کے استعمال اور کاموں کی انجام دہی کے لیے یا ان اختیارات کے استعمال اور کاموں کی انجام دہی میں کیے گئے یا مبینہ طور پر کیے گئے کسی فعل کے لیے کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے: بشرطیکہ اس شق کا یہ مطلب نہیں لیا جائے گا کہ وہ کسی شخص کے وفاق یا صوبے کے خلاف مناسب کارروائی لانے کے حق کو محدود کرتی ہے۔

  2. (2)

    صدر کے خلاف عمر بھر اور گورنر کے خلاف اس کی میعادِ عہدہ کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری کارروائی شروع یا جاری نہیں کی جائے گی۔

  3. (3)

    صدر کی گرفتاری یا قید کے لیے عمر بھر اور گورنر کی گرفتاری یا قید کے لیے اس کی میعادِ عہدہ کے دوران کسی عدالت سے کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا: بشرطیکہ شقوں (2) اور (3) کے احکام اس مدت کے دوران لاگو نہیں ہوں گے جس میں صدر، صدر نہ رہنے کے بعد کوئی سرکاری عہدہ رکھے۔

  4. (4)

    صدر یا گورنر کے خلاف کوئی ایسی دیوانی کارروائی، جس میں اس کے خلاف ریلیف مانگا گیا ہو، اس کی میعادِ عہدہ کے دوران اس کے ذاتی حیثیت میں کیے گئے یا نہ کیے گئے کسی امر کے سلسلے میں، خواہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہو یا بعد میں، شروع نہیں کی جائے گی، الا یہ کہ کارروائی شروع کیے جانے سے کم از کم ساٹھ دن پہلے اسے تحریری نوٹس پہنچا دیا گیا ہو، یا قانون کے مقرر کردہ طریقے سے اسے بھیجا گیا ہو، جس میں کارروائی کی نوعیت، وجۂ دعویٰ، اس فریق کا نام، تفصیل اور جائے رہائش جس کی جانب سے کارروائی شروع کی جانی ہے اور وہ ریلیف جس کا فریق دعویٰ کرتا ہے، بیان کیے گئے ہوں۔