مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 233: ہنگامی حالت کے دوران بنیادی حقوق وغیرہ کو معطل کرنے کا اختیار

  1. (1)

    آرٹیکل 15، 16، 17، 18، 19 اور 24 میں مذکور کوئی امر، جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ ہو، مملکت کے، جیسا کہ آرٹیکل 7 میں متعین ہے، کوئی ایسا قانون وضع کرنے یا کوئی ایسی انتظامی کارروائی کرنے کے اختیار کو محدود نہیں کرے گا جسے وضع کرنے یا کرنے کی وہ مذکورہ آرٹیکلوں کے احکام کے بغیر اہل ہوتی، لیکن اس طرح وضع کیا گیا کوئی قانون عدمِ اہلیت کی حد تک مؤثر نہیں رہے گا اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس وقت منسوخ ہو گیا جب اعلان واپس لیا جائے یا نافذ نہ رہے۔

  2. (2)

    جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ ہو، صدر بذریعہ حکم اعلان کر سکتا ہے کہ حصہ II کے باب 1 کے عطا کردہ ایسے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق جو حکم میں متعین ہوں، اور کسی عدالت میں کوئی کارروائی جو اس طرح متعین کردہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کے لیے ہو یا اس میں ان کی خلاف ورزی کے بارے میں کسی سوال کے تعین پر مشتمل ہو، اس مدت کے لیے معطل رہے گی جس کے دوران اعلان نافذ ہو، اور ایسا کوئی حکم پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے سلسلے میں دیا جا سکتا ہے۔

  3. (3)

    اس آرٹیکل کے تحت دیا گیا ہر حکم، جس قدر جلد ممکن ہو، مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں کے سامنے علیحدہ علیحدہ منظوری کے لیے رکھا جائے گا اور آرٹیکل 232 کی شقوں (7) اور (8) کے احکام ایسے حکم پر اسی طرح لاگو ہوں گے جس طرح وہ ہنگامی حالت کے اعلان پر لاگو ہوتے ہیں۔