مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 203DD: عدالت کا نظرثانی اور دیگر دائرۂ اختیار

  1. (1)

    عدالت حدود کے نفاذ سے متعلق کسی قانون کے تحت کسی فوجداری عدالت کے فیصلہ کردہ کسی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر کے اس کا جائزہ لے سکتی ہے، تاکہ ایسی عدالت کے قلمبند کردہ یا دیے گئے کسی نتیجے، سزا یا حکم کی درستی، قانونی حیثیت یا موزونیت اور ایسی عدالت کی کسی کارروائی کی باقاعدگی کے بارے میں اپنا اطمینان کر سکے اور ایسا ریکارڈ طلب کرتے وقت ہدایت دے سکتی ہے کہ کسی سزا پر عمل درآمد معطل رکھا جائے اور، اگر ملزم قید میں ہو، تو ریکارڈ کے جائزے کے زیرِ التوا اسے ضمانت پر یا اس کے اپنے مچلکے پر رہا کر دیا جائے۔

  2. (2)

    کسی بھی مقدمے میں جس کا ریکارڈ عدالت نے طلب کیا ہو، عدالت ایسا حکم دے سکتی ہے جو وہ مناسب سمجھے اور سزا میں اضافہ کر سکتی ہے: بشرطیکہ اس آرٹیکل کی کسی بات کا یہ مطلب نہیں لیا جائے گا کہ وہ عدالت کو بریت کے نتیجے کو سزا کے نتیجے میں تبدیل کرنے کا اختیار دیتی ہے اور اس آرٹیکل کے تحت کوئی ایسا حکم ملزم کے نقصان میں نہیں دیا جائے گا جب تک اسے اپنے دفاع میں سنے جانے کا موقع نہ مل چکا ہو۔

  3. (3)

    عدالت کو ایسا دیگر دائرۂ اختیار حاصل ہوگا جو کسی قانون کے ذریعے یا اس کے تحت اسے تفویض کیا جائے۔