اسلامی لائبریری
قرآن، حدیث کے مجموعے، اسلامی کتب اور شخصیات کو ایک جگہ تلاش اور مطالعہ کریں۔ مآخذ اور طریقۂ کار.
حدیث تلاش کریں
حدیث کے متن یا نمبر سے تلاش کریں۔
حدیث کے مجموعے دستیاب نہیں
فی الحال اس حصے میں کوئی حدیث مجموعہ موجود نہیں۔ آپ احادیث کے صفحے پر جا سکتے ہیں۔
تمام احادیث دیکھیںکتابیں اور دستاویزات
حال ہی میں شامل کردہ تحریریں — شائع کرنے سے پہلے جائزہ لیا گیا۔
آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء
پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔
262 ابواب · دو لسانی (انگریزی/اردو) · 33,378 الفاظ
مجموعہآئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
28 اجزاء · دو لسانی (انگریزی/اردو)
کتابآئینِ جمہوریہ پاکستان 1962ء
ایوب خان کا صدارتی نظام والا آئین، 8 جون 1962ء سے 25 مارچ 1969ء تک نافذ رہا۔
269 ابواب · دو لسانی (انگریزی/اردو) · 32,947 الفاظ
کتابتحریک پاکستان اور مولانا مودودی
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔ کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔
8 ابواب · اردو · 18,205 الفاظ
کتابنماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ ایک وسیع فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی نماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ آغاز میں وہ اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا امام ابوحنیفہؒ کا واقعی یہ اجتہاد تھا کہ نماز عجمی زبان میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، اور آیتِ "لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ما تقولون" سے نماز کی زبان سمجھنے کے لیے استدلال کی صحت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ائمہ اربعہ کے مسالک کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر زبان میں نماز جائز ہے، جب کہ صاحبین اور امام شافعیؒ کے نزدیک عربی پر قدرت رکھنے والے کے لیے غیر عربی میں نماز درست نہیں۔ اسی تفصیلی طریقِ استدلال کو خطبۂ جمعہ کی زبان پر بھی منطبق کرتے ہوئے وہ نماز اور خطبے کے مقاصد کے فرق کی بنیاد پر اپنا مسلک متعین کرتے ہیں۔
24 ابواب · اردو · 13,037 الفاظ
کتابقربانی
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ مضمون حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے تناظر میں قربانی کی روایت کی اصل حقیقت بیان کرتا ہے۔ مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آج سے چار ہزار برس قبل عراق کی سرزمین میں ایک ایسی قوم اور ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو ستارہ پرستی میں مبتلا تھی اور جس کا شاہی خاندان انہی معبودوں کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، مگر آپ نے موروثی تعصب کی بنا پر باپ دادا کے طریقے کو بلاتحقیق قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی تحقیق و جستجو کی روش نے انہیں توحید کی حقیقت تک پہنچایا، اور قربانی کی رسم دراصل اسی مقام تسلیم و رضا کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند نے اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ مولانا اسی پس منظر میں قربانی کے حقیقی مفہوم اور اس کے پیچھے کارفرما روحِ اطاعت کو اجاگر کرتے ہیں۔
1 ابواب · اردو · 2,022 الفاظ
کتابپاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ ۶ جنوری ۱۹۴۸ء کو لا کالج لاہور میں کی گئی ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی اسلامی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیے جانے لگے تھے۔ وہ ان سوالات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا صدیوں پرانا قانون جدید معاشرے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، کیا حدود کی سزائیں اس مہذب دور میں قابلِ عمل ہیں، پاکستان میں کس فرقے کی فقہ نافذ ہوگی، اور غیر مسلم اقلیتیں مسلمانوں کے مذہبی قانون پر کیسے مطمئن ہوں گی۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ اعتراضات دراصل اسلامی قانون سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں، اور قانون کا کسی معاشرے کے مجموعی اخلاقی، معاشرتی اور فکری نظام سے گہرا تعلق ہونے کی بنا پر انہیں الگ تھلگ سمجھنا درست نہیں۔
4 ابواب · اردو · 2,132 الفاظ
کتابکلمہ طیبہ کا پیغام
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ ایک مختصر خطاب ہے جس میں مولانا مودودی کلمہ طیبہ "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے پیغام کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ اس بات کی نشاندہی سے آغاز کرتے ہیں کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے پڑھا جانے والا یہ کلمہ بظاہر مختصر اور چند الفاظ پر مشتمل ہے، مگر اس کے اندر ایک مکمل نظامِ حیات اور دعوت کا نچوڑ پوشیدہ ہے۔ مولانا مختصراً اس کلمے کے دونوں اجزاء یعنی توحید اور رسالت کے باہمی تعلق اور اس سے پیدا ہونے والے عملی تقاضوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ سامعین اس بنیادی اقرار کی گہرائی اور اس کے زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کو سمجھ سکیں۔
5 ابواب · اردو · 168 الفاظ
کتابدیہات میں نمازِ جمعہ اور مسلکِ حنفی
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ مضمون "دیہات میں نمازِ جمعہ" کے موضوع پر پیش کردہ مسلکِ حنفی کی تعبیر پر دو بزرگوں کے اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ یہ تعبیر مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر بھی منطبق نہیں ہوتی۔ مولانا مودودی فقہ حنفی کی معتبر کتابوں (مبسوط، فتح القدیر، شرح العنایہ) کے حوالوں سے فرضیتِ جمعہ اور اس کی شرائط کی تفصیل پیش کرتے ہیں، اور یہ دکھاتے ہیں کہ جس طرح فقہائے حنفیہ نے تاریخ میں شرطِ سلطان اور مصر کی تعریف میں حالات کے مطابق تدریجاً ترمیم کی ہے، اسی طرح دیہات میں جمعہ کے قیام کے لیے تجویز کردہ نیا نظام بھی اصولِ مذہبِ حنفی کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک جائز تطبیق ہے، محض فقہا کے فتاویٰ سے مختلف ہونا اسے حنفیت کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
9 ابواب · اردو · 6,551 الفاظ
کتابدیہات میں نمازِ جمعہ
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ مضمون ایک دیندار زمیندار کے اس سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے جس نے اپنے گاؤں میں مسجد اور مکتب قائم کیا تھا مگر مقامی علماء اسے شہر نہ ہونے کی بنا پر جمعہ کے قیام کی اجازت نہیں دیتے تھے، جس کی وجہ سے دیہاتی آبادی جمعہ کی برکات اور دینی تعلیم سے محروم ہو رہی تھی۔ مولانا مودودی اسلام کے اجتماعیت پسند مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے فرضیتِ جمعہ کی حکمت اور اہمیت بیان کرتے ہیں، پھر ان تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جن پر امت کا اتفاق ہے اور ان پر بھی جن میں فقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، خصوصاً "مصرِ جامع" کی تعریف اور دیہات میں جمعہ کے قیام کی شرائط سے متعلق مختلف مسالک کا تقابل پیش کرتے ہیں۔
11 ابواب · اردو · 5,033 الفاظ
کتابعیدِ قربان
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
اس مضمون میں مولانا مودودی تہواروں کی سماجی اہمیت پر بحث کرتے ہوئے آغاز کرتے ہیں کہ انسانی معاشرتی زندگی میں تہوار ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور یہ کسی قوم کے مشترک جذبات و روایات کو زندہ رکھنے اور اجتماعی روح پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ عیدِ قربان کی خصوصیت اور اس کے پیچھے کارفرما تاریخی و مذہبی روایت کی وضاحت کرتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ تہوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت سے جڑا ہوا ہے اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
1 ابواب · اردو · 2,713 الفاظ
کتابپاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟
بذریعہ سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ
یہ ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو لا کالج لاہور میں دی گئی ایک تقریر ہے جو پچھلی تقریر "پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟" کا تسلسل ہے۔ اس میں مولانا مودودی اس سوال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں کہ اگر پاکستان میں اسلامی قانون از سرِ نو نافذ کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے عملی طور پر کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ وہ سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تمام پرانے قوانین یک لخت منسوخ ہو جائیں گے، اور تدریج کے اصول کی وضاحت نبیِ کریمﷺ کے اپنے طرزِ عمل اور انگریزی دورِ استعمار کی مثالوں سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اسلامی قانون کے نفاذ کے عملی مراحل، ایک قانونی اکیڈمی کے قیام، تدوینِ احکام اور قانونی تعلیم کی اصلاح جیسے ٹھوس تجاویز پیش کرتے ہیں۔
15 ابواب · اردو · 6,229 الفاظ