مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 154: کام اور قواعدِ کار

  1. (1)

    کونسل وفاقی قانون سازی کی فہرست کے حصہ دوم میں شامل امور کے سلسلے میں پالیسیاں وضع اور منضبط کرے گی اور متعلقہ اداروں پر نگرانی اور کنٹرول رکھے گی۔

  2. (2)

    کونسل وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے تیس دن کے اندر تشکیل دی جائے گی۔

  3. (3)

    کونسل کا ایک مستقل سیکرٹریٹ ہوگا اور وہ نوے دن میں کم از کم ایک بار اجلاس کرے گی: بشرطیکہ وزیراعظم کسی صوبے کی درخواست پر کسی فوری معاملے پر اجلاس بلا سکتا ہے۔

  4. (4)

    کونسل کے فیصلے اکثریت کی رائے کی صورت میں ظاہر کیے جائیں گے۔

  5. (5)

    جب تک مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اس بارے میں قانون کے ذریعے بندوبست نہ کرے، کونسل اپنے قواعدِ کار وضع کر سکتی ہے۔

  6. (6)

    مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) مشترکہ اجلاس میں وقتاً فوقتاً قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت کے توسط سے کونسل کو عمومی طور پر یا کسی خاص معاملے میں ایسی کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کر سکتی ہے جو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) مناسب اور موزوں سمجھے، اور ایسی ہدایات کونسل کے لیے پابند کن ہوں گی۔

  7. (7)

    اگر وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت کونسل کے کسی فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو وہ معاملہ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کر سکتی ہے جس کا اس بارے میں فیصلہ حتمی ہوگا۔