مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 175: عدالتوں کا قیام اور دائرۂ اختیار

  1. (1)

    پاکستان کی ایک وفاقی آئینی عدالت ہوگی، جسے بعد ازیں وفاقی آئینی عدالت کہا گیا ہے، پاکستان کی ایک سپریم کورٹ، جسے بعد ازیں سپریم کورٹ کہا گیا ہے، ہر صوبے کے لیے ایک ہائی کورٹ اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے ایک ہائی کورٹ اور ایسی دیگر عدالتیں ہوں گی جو قانون کے ذریعے قائم کی جائیں۔ توضیح.- جب تک سیاق و سباق سے دوسرا مفہوم مراد نہ ہو، آئین میں جہاں کہیں “ہائی کورٹ” کے الفاظ آئے ہیں ان میں “اسلام آباد ہائی کورٹ” شامل ہوگی۔

  2. (2)

    کسی عدالت کو کوئی دائرۂ اختیار حاصل نہیں ہوگا سوائے اس کے جو آئین کے ذریعے یا کسی قانون کے ذریعے یا اس کے تحت اسے تفویض کیا گیا ہو یا کیا جائے۔

  3. (3)

    عدلیہ کو یومِ آغاز سے چودہ سال کے اندر بتدریج انتظامیہ سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

بشرطیکہ اس آرٹیکل کے احکام کا اطلاق پہلے شیڈول کے حصہ I کے ذیلی حصہ III کے سیریل نمبر 6 اور 7 میں مذکور کسی ایکٹ کے تحت ان اشخاص کے مقدمات پر نہیں ہوگا جو کسی ایسے دہشت گرد گروہ یا تنظیم سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کریں یا ان کا تعلق اس سے معلوم ہو جو مذہب یا کسی فرقے کے نام کا غلط استعمال کرتی ہو۔ توضیح.- اس شرطیہ حصے میں “فرقہ” کی اصطلاح سے مراد مذہب کا فرقہ ہے اور اس میں کوئی ایسی مذہبی یا سیاسی جماعت شامل نہیں جو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر، 2002ء کے تحت منضبط ہو۔