آئینِ پاکستان – نویں ترمیم
اشاعت: 1986ءمجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم
· دو لسانی (انگریزی/اردو)
آئین (نویں ترمیم) بل، 1985ء — نافذ نہیں ہوا؛ قومی اسمبلی کی تحلیل پر بل ختم ہو گیا
خلاصہ / Summary of changes
[بل کا مسودہ، کبھی نافذ نہیں ہوا] یہ بل آرٹیکلز 2، 203-ب اور 203-د میں ترمیم کے ذریعے “قرآنِ مجید اور سنت میں بیان کردہ احکاماتِ اسلامی” کو پاکستان کا سب سے بالادست قانون قرار دینے کی کوشش کرتا تھا، جو آئین کی کسی بھی دوسری دفعہ پر فوقیت رکھتا۔ سینیٹ نے اسے 7 اگست 1986 کو منظور کر کے قومی اسمبلی کو بھجوایا، جہاں وزیرِ قانون نے اسے کمیٹی کے سپرد کر دیا؛ کمیٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی اسمبلی تحلیل کر دی گئی اور بل ازخود کالعدم ہو گیا۔ یہ کبھی قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا اور اسے یہاں صرف اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ ویکیپیڈیا اور پریس ذرائع اسے آٹھویں اور دسویں ترمیم کے درمیان آئینی ترمیمی بلوں کی ترتیب میں شمار کرتے ہیں۔