مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 159: نشریات اور ٹیلی کاسٹ

  1. (1)

    وفاقی حکومت کسی صوبائی حکومت کو نشریات اور ٹیلی کاسٹ کے بارے میں ایسے کام سونپنے سے غیر معقول طور پر انکار نہیں کرے گی جو اس حکومت کو اس قابل بنانے کے لیے ضروری ہوں کہ وہ-

    1. (a)

      صوبے میں ٹرانسمیٹر تعمیر اور استعمال کرے؛ اور

    2. (b)

      صوبے میں ٹرانسمیٹروں کی تعمیر اور استعمال اور وصولی کے آلات کے استعمال کی ضابطہ بندی کرے اور ان کے سلسلے میں فیس عائد کرے: بشرطیکہ اس شق کی کسی بات کا یہ مطلب نہیں لیا جائے گا کہ وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ کسی صوبائی حکومت کے سپرد ان ٹرانسمیٹروں کے استعمال پر جو وفاقی حکومت یا اس کے مجاز اشخاص نے تعمیر کیے ہوں یا چلا رہے ہوں، یا ایسے مجاز اشخاص کی جانب سے وصولی کے آلات کے استعمال پر کوئی کنٹرول سپرد کرے۔

  2. (2)

    صوبائی حکومت کو اس طرح سپرد کیے گئے کسی بھی کام کا استعمال ایسی شرائط کے تابع ہوگا جو وفاقی حکومت عائد کرے، بشمول، آئین میں مذکور کسی امر کے باوجود، مالی امور سے متعلق کوئی شرائط، لیکن وفاقی حکومت کے لیے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ ایسی شرائط عائد کرے جو صوبائی حکومت کی جانب سے یا اس کے اختیار کے تحت نشر یا ٹیلی کاسٹ ہونے والے مواد کو منضبط کرتی ہوں۔

  3. (3)

    نشریات اور ٹیلی کاسٹ کے بارے میں کوئی وفاقی قانون ایسا ہوگا کہ اس اَمر کو یقینی بنائے کہ اس آرٹیکل کے مذکورہ بالا احکام پر عمل ہو سکے۔

  4. (4)

    اگر کوئی سوال اٹھے کہ آیا کسی صوبائی حکومت پر عائد کی گئی کوئی شرائط قانونی طور پر عائد کی گئی ہیں، یا کاموں کے سپرد کرنے سے وفاقی حکومت کا کوئی انکار غیر معقول ہے، تو یہ سوال چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے مقرر کردہ ثالث کے ذریعے طے کیا جائے گا۔

  5. (5)

    اس آرٹیکل کی کسی بات کا یہ مطلب نہیں لیا جائے گا کہ وہ آئین کے تحت وفاقی حکومت کے ان اختیارات کو محدود کرتی ہے جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن یا سکون کو لاحق کسی سنگین خطرے کی روک تھام کے لیے ہوں۔