مرکزی مواد پر جائیں
آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء (بمع ترامیم)

اشاعت: 1973ء

مجموعہ: آئینِ پاکستان 1973ء اور اس کی ترامیم

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا موجودہ نافذ العمل آئین، ستائیسویں ترمیم (2025ء) تک کی تمام ترامیم سمیت۔

آرٹیکل 250: صدر وغیرہ کی تنخواہیں، الاؤنس وغیرہ

  1. (1)

    یومِ آغاز سے دو سال کے اندر، صدر، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اور قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے رکن، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین اور سینیٹ کے رکن، وزیراعظم، وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت، وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر اور چیف الیکشن کمشنر کی تنخواہوں، الاؤنسوں اور مراعات کے تعین کا بندوبست قانون کے ذریعے کیا جائے گا۔

  2. (2)

    جب تک قانون کے ذریعے دوسرا بندوبست نہ ہو،

    1. (a)

      صدر، سپیکر یا ڈپٹی سپیکر یا قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے رکن، وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت، وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر اور چیف الیکشن کمشنر کی تنخواہیں، الاؤنس اور مراعات وہی ہوں گی جن کا صدر، سپیکر یا ڈپٹی سپیکر یا قومی اسمبلی پاکستان یا صوبائی اسمبلی کا رکن، وفاقی وزیر، وزیرِ مملکت، وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر یا، جیسی بھی صورت ہو، چیف الیکشن کمشنر یومِ آغاز سے فوراً پہلے حق دار تھا؛ اور

    2. (b)

      چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین، وزیراعظم اور سینیٹ کے رکن کی تنخواہیں، الاؤنس اور مراعات ایسی ہوں گی جو صدر بذریعہ حکم متعین کرے۔

  3. (3)

    درج ذیل عہدے پر فائز شخص کی تنخواہ، الاؤنس اور مراعات

    1. (a)

      صدر؛

    2. (b)

      چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین؛

    3. (c)

      سپیکر یا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی؛

    4. (d)

      گورنر؛

    5. (e)

      چیف الیکشن کمشنر؛ یا

    6. (f)

      آڈیٹر جنرل؛

    اس کی میعادِ عہدہ کے دوران اس کے نقصان میں تبدیل نہیں کی جائیں گی۔

  4. (4)

    جب کبھی چیئرمین یا سپیکر بطور صدر کام کر رہا ہو، وہ صدر کی تنخواہ، الاؤنس اور مراعات کا حق دار ہوگا لیکن چیئرمین یا سپیکر کے عہدے کا کوئی کام یا مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کا کوئی کام انجام نہیں دے گا، اور نہ چیئرمین، سپیکر یا ایسے رکن کی حیثیت سے تنخواہ، الاؤنس یا مراعات کا حق دار ہوگا۔