رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تعداد رکعات تروایح:
سوال: آپ کا ایک جواب دربارۂ تراویح ہفت روزہ ’’ایشیا‘‘لاہور مؤرخہ ۶۲۔۳۔۷ میں شائع ہوا ہے جسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مسئلے کی کوئی عالمانہ تحقیق نہیں کی، بلکہ ایک چلتی سی بات سمجھوتہ کرانے والوں کی سی کردی ہے جس سے مسئلہ بجائے سلجھنے کے الجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعت ہی تھیں۔ دوسری طرف آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے بیس جاری کیں اور تمام صحابہ ؓ نے اس پر اتفاق کیا، اور بعد کے خلفا نے اسی کو دستور بنایا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سنت نبوی آٹھ ہی ہے تو پھر حضرت عمرؓ نے بیس کہاں سے لے لیں اور کیوں کر ان کو مقرر کردیا۔ تمام صحابہ ؓ اور خلفانے سنت نبوی کو نظر انداز کرکے بیس پر کیسے اجماع کرلیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ صحابہ ایسی جسارت کریں؟ (مولانا یا تو آٹھ سنت نبوی نہیں ،یا پھر بیس پر اجماع نہیں)۔
جب سنت نبوی بقول آپ کے آٹھ ہی رکعت ہیں، تو بجائے یہ کہنے کے کہ حضرت عمر ؓ نے بیس جاری کیں، کیا یہ کہنا زیادہ قرین قیاس نہیں کہ حضرت عمر ؓ نے آٹھ ہی جاری کی تھیں۔ کیوں کہ اوّلاً تو مسنون تعداد آٹھ ہی ہے۔ ثانیاً اتباع سنت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ آٹھ جاری کرتے۔ ثالثاً روایت کے اعتبار سے ثابت بھی یہی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آٹھ ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا۔جیسا کہ مؤطا امام مالکؒ کی سائب بن یزید کی روایت سے ظاہر ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
عَنِ السَّائِبِ بْنَ یَزِیْدَ اَنَّہٗ قَالَ اَمَرَ عُمَرُ ؓ اُبَی ؓ بنِ کَعْبٍ وَتَمِیْمًا الدَّارِیِّ اَنْ یَّقُوْ مَا النَّاسِ فِیْ رَمَضَانَ بِاِحْدَی عَشَر رَکَعَاتِ (الحدیث)
’’حضرت عمر ؓ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کوحکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو رمضان شریف میں گیارہ رکعتیں پڑھایا کریں۔‘‘(بحوالہ مشکوۃ)
قَالَ الْبَاجِیْ لَعَلَّ عُمَرَ اَخَذَ ذَالِکَ مِنْ صَلٰوۃِ النَّبِیّﷺ
’’باجی نے کہا:حضرت عمر ؓ نے آٹھ کی تعداد شاید صلوٰۃرسولؐ سے لے لی ہے۔‘‘
(تنویر الحوالک)
عن مالک انہ الذی جمع علیہ الناسَ عمرُ بن الخطاب اَحَبُّ اِلیَّ وھو احدی عشر رکعۃ وھی صلٰوۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قیل لہ احدی عشرۃ رکعۃ بالوتر؟ قال نعم وثلٰث عشرۃ قریب ۔ قال ولا ادری من این احدث ھذا الرکوع الکثیر۔
’’امام مالکؒ نے فرمایا: جتنی رکعتوں پر حضرت عمرؓ نے لوگوں کو جمع کیا،وہ مجھے زیادہ پیاری ہیں، اور وہ گیارہ رکعت ہی ہیں،اور یہی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ ان سے پوچھا گیا: ’’گیارہ رکعت مع وتر؟‘‘کہا:’’ ہاں اور تیرہ رکعت قریب ہے۔اور کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ بہت سارے رکوع یعنی رکعتیں کہاں سے ایجاد کرلی گئی ہیں۔‘‘ (المصابیح فی صلوٰۃ التراویح للسیوطی)
آپ کا جواب دیکھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ جب سنت نبوی ؐآٹھ تھیں تو حضرت عمر ؓ نے بیس رکعت کیوں جاری کیں۔ کیا ان کے نزدیک سنت رسول کی کوئی وقعت نہ تھی؟یا سنت کی پیروی میں کمی کا احتمال تھا؟یا بیس کے پڑھنے میں آٹھ کی نسبت اُمت کو آسانی تھی؟یا بیس میں آٹھ کی نسبت خشوع وخضوع زیادہ ہوسکتاتھا؟آخر کون سی ایسی مصلحت تھی ،کون سا ایسا داعیہ تھاجو حضرت عمر ؓ نے ایک آسان سنت نبوی کا اہمال کرکے ایک مشکل کام کا اُمت کو حکم دیا؟
مذکورۂ بالا حدیث جو سنداً بھی صحیح ہے اور متناً بھی،اتباع سنت کی آئینہ دار بھی ہے اور صحاح سے ہم آہنگ بھی۔آپ نے اس کو تو چھوڑ دیا اور ضعاف کو لے لیا، جو کہ نہ روایتاً صحیح ہیں اور نہ درایتاً، آخر کیوں؟ آپ کے نزدیک احادیث کے ردوقبول اور اس کی ترجیح کے کون سے پیمانے ہیں جن سے آپ ناپ تول کرتے ہیں۔مہربانی فرما کر واضح تو کریں تاکہ ہم بھی کوئی اندازہ کرسکیں۔
جواب: ’’ایشیا‘‘ اور’’ شہاب‘‘ میں میرے درس کے جو خلاصے شائع ہوتے ہیں،ان کے متعلق بارہا خود ان دونوں اخبارات میںیہ وضاحت ہوچکی ہے کہ وہ میرے اصل الفاظ میں نہیں ہوتے۔ نہ میر ی پوری بات اس میں نقل کی جاتی ہے ،اور نہ وہ مجھے دکھا کر شائع کیے جاتے ہیں۔مگر اس کے باوجود لوگ ان خلاصوں کو پڑھ کر میرے اوپر آئے دن سوالات کی بوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔حتیٰ کہ ان کی جواب دہی کرتے کرتے میں تنگ آگیا ہوں۔میں ان خلاصوں کی اشاعت پر صرف اس لیے راضی ہوا تھا کہ ملک نصر اﷲخاں صاحب عزیز اور کوثر نیازی صاحب کے خیال میں اس طرح میرے درس کا کچھ نہ کچھ فائدہ عام ناظرین کو بھی حاصل ہوتا رہے گا۔لیکن اگر ان پر سوالات کی پیدایش اسی رفتار سے جاری رہی جیسی کہ اب تک رہی ہے تو مجھے مجبوراً ان دونوں حضرات سے یہ گزارش کرنی پڑے گی کہ اس سلسلے کو روک دیں۔آخر میں دوسروں کی مرتب کردہ رپورٹوں کی جواب دہی کہاں تک کرتا رہوں۔
تراویح کی رکعات کا مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر مدت دراز کے جھگڑوں اور مناظروں نے فریقین کو بے انتہا ذکی الحس بنا دیا ہے۔اسی وجہ سے آٹھ رکعت یا بیس رکعت کا لفظ کسی کی زبان سے نکلتے ہی کوئی ایک گروہ اس پر آستینیں چڑھا لیتا ہے اور چیلنج بازی شروع کر دیتا ہے۔ مذکورۂ بالا سوال اسی کیفیت کا نتیجہ ہے۔حالاں کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پر اتنے جھگڑوں کی کوئی حاجت ہو۔اگر کسی کے نزدیک آٹھ رکعت ہی ثابت ہوں تو وہ آٹھ پڑھے اور خواہ مخواہ بیس رکعت کو بدعت قرار دینے پر اپنا زور صرف نہ کرے۔ اور اگر کسی کے نزدیک ۲۰ رکعت ہی ثابت ہوں تو وہ بیس پڑھے اور آٹھ رکعت پڑھنے والوں کی مخالفت میں وقت ضائع نہ کرتا رہے۔دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو اس سے بدرجہ ہازیادہ اہم مسائل درپیش ہیں جو ہماری توجہ اور محنت اور اوقات اور اموال کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کو چھوڑ کر ان مسائل پر جھگڑے اور بحثیں کرنے میں سارا زور لگا دینا خدا کے دین کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
محترم سائل نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آٹھ رکعت سے زائد پڑھنا خلاف سنت ہے، اور اس دعوے کی بنا انہوں نے اس بات پر رکھی ہے کہ نبیؐ نے تراویح میں آٹھ ہی رکعت پڑھی ہیں۔حالاں کہ اگر اس بنیاد پر آٹھ رکعت سے زائد پڑھنے کو خلاف سنت کہنا درست ہو تو پھر تمام عمر میں تراویح صرف تین مرتبہ ہی جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہیے اور اس سے زائد پڑھنے کو بھی خلاف سنت قرار دے دیا جانا چاہیے۔اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے با جماعت تراویح صرف اسی حد تک ثابت ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر اس معاملے میں حضرت عمرؓ کا اجتہاد کہ ہر رمضان میں بالالتزام تمام مساجد میں ہر روز باجماعت تراویح کا اہتمام کیا جائے،آپ نے قبول فرمالیا اوراسے خلاف سنت قرار نہیں دیا تو آخر تراویح کے لیے ۲۰ رکعت مقرر کرنے کے بارے میں ان کا اجتہاد کس دلیل سے خلاف سنت ہوگیا؟
سائل فاضل کی یہ کوشش کہ حضرت عمرؓ سے ۲۰ رکعات کے ثبوت ہی میں سرے سے شک پیدا کردیا جائے،درحقیقت مکابرہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔یہ بات قریب قریب یقینی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے تراویح کے لیے ۲۰ رکعات مقرر کی تھیں،صحابہ ؓ نے اسے قبول کیا اور ان کے بعد بھی خلفا اور صحابہؓ کا عمل اس پر رہا۔ترمذی کا بیان ہے:
وَ اَکْثَرُ اَھْلِ الْعِلْمِ عَلٰی مَارَوٰی عَنْ عُمَرَ وَعَلیٍّ وَغَیْرِ ھِمَا مِنَ اَصْحَابِ النَّبِیّ ﷺ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃٗ۔
’’اکثر اہل علم اسی مسلک پر ہیں جو حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی ہے،یعنی ۲۰ رکعت۔‘‘
محمد بن نصر المروزی نے حضرت عبداﷲؓ بن مسعود کا یہی عمل نقل کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اسے حضرت عمرؓ، حضرت علی،ؓ حضرت ابیؓ بن کعب اور متعدد دوسرے صحابہ کا اثر بتایا ہے۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ جمہور علما ۲۰ رکعت ہی کے قائل ہیں اور صحابہ سے اس بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہوا ہے۔المغنی میں ابن قدامہ لکھتے ہیں:
’’امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک تراویح کے معاملے میں ۲۰ رکعت ہی کا مسلک مرجح ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری اور ابو حنیفہؒ اور شافعیؒ ہیں۔مگر امام مالکؒ ۳۶ کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ قدیم سے اسی پر عمل چلا آرہا ہے …اس کے مقابلے میں ہمارا استدلال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب متفرق طور پر تراویح پڑھنے والے تمام لوگوں کو ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا تو حضرت ابی ۲۰ رکعتیں پڑھاتے تھے…اور حضرت علیؓ سے بھی یہی ثابت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو رمضان میں ۲۰ رکعت تراویح پڑھانے پر مامور کیا تھا۔یہ عمل قریب قریب اجماع کا ہم معنی ہے…اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ بعد میں تمام اہل مدینہ ۳۶ رکعت تراویح پڑھنے لگے تھے تب بھی جو کچھ حضرت عمرؓ نے کیاتھا اور جس پر صحابہ ان کے زمانے میں متفق ہوگئے تھے اسی کی پیروی کرنا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
(جلد اول،صفحہ ۷۹۸۔۷۹۹)
اس کے مقابلے میں محترم سائل کا تمام تر اعتماد صرف اس روایت پر ہے جو امام مالک نے مؤطا میں سائب بن یزید سے نقل کی ہے اور جس میںوہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے وتر سمیت ۱۱ (گیارہ) رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔لیکن اس سلسلے میں تین باتیں قابل غور ہیں:
اوّل یہ کہ اسی مؤطا میں امام مالک یزید بن رومان کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ:حضرت عمرؓ نے وتر سمیت ۲۳ رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔مگر محترم سائل نے اس روایت کو نظر انداز کردیا۔دوم یہ کہ وہی سائب بن یزید جن سے امام مالکؒ ۱۱ رکعت کی روایت نقل کرتے ہیں،ان سے ایک دوسری روایت بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ ۲۳ رکعت کے حق میں نقل کی ہے،اور اس سے گمان ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اگر پہلے ۱۱ رکعتیں مقرر کی بھی تھیں تو بعد میں ان کو ۲۳ رکعت سے بدل دیا ہوگا۔سوم یہ کہ امام مالکؒ خود ان دونوں روایتوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ ۳۶ رکعتوںکے حق میں اس بِنا پر فیصلہ دیتے ہیں کہ مدینے میں ایک صدی سے زیادہ مدت سے تین رکعت وتر اور چھتیس رکعت تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج تھا۔سیوطی المصابیح میں جو کچھ چاہیں کہیں مگر فقہائے مالکیہ اپنے امام کا یہی قول صحیح مانتے ہیں۔
ان امور پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ نبیؐ نے آٹھ رکعتیں ہی پڑھی ہیں، لیکن صحابہ ؓ اور تابعین نے بالعموم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا مطلب یہ نہیں لیا ہے کہ آٹھ رکعت پڑھنا ہی سنت ہے اور اس سے زائد پڑھنا خلاف سنت یابدعت ہے۔آخر یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور تابعین اور ائمۂ مجتہدین سنت اور بدعت کے درمیان تمیز کرنے کی اہلیت سے اس درجے محروم تھے یا جان بوجھ کر وہ سنت کو چھوڑ کر ایک بدعت کو اختیار کرسکتے تھے؟
بہرحال اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو اس معنی میں لیتا ہو کہ آپؐ کا منشا ۸ رکعت ہی کو سنت کی حیثیت سے جاری کرنے کا تھا تو وہ شوق سے اس پر عمل کرے، اور جو اس معاملے میں اس کے ہم خیال ہوں،وہ اس کی پیروی کریں۔ لیکن ۲۰ رکعت کے دلائل اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اسے خلاف سنت قرا ردینا اتنا آسان ہو جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔مئی ۹۶۲اء)
……٭٭٭……