مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ائمۂ اربعہ اور اہل بیت:

سوال: ترجمان القرآن ستمبر ۹۵۶اء میں ایک سوال کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ:

’’ائمۂ اربعہ نے ان تمام اہل علم سے استفادہ کیا ہے جوان کے عہد میں موجود تھے اور جن سے استفادہ کرنا ان کے لیے ممکن تھا۔صرف اہل بیت سے علمی استفادہ کرنے کا طریقہ خود اہل بیت نے بھی اختیار نہ کیا۔وہ جس جس کے پاس علم پاتے تھے،اس سے استفادہ کرتے تھے۔یہی ہر اس شخص کا طریقہ ہونا چاہیے جو کسی طرح کے تعصب میں مبتلا نہ ہو۔‘‘

میر ے ناقص مطالعے میں آج تک یہ بات نہیں آئی اور نہ کبھی کسی سے ایسا سنا ہے۔آپ اس کے ثبوت میں چند معتبر کتب کے حوالے دیں تاکہ مدعا زیادہ واضح ہوجائے۔

مزید سوال صحیح بخاری، کتاب الفتن،باب الاستخلاف کی ایک حدیث سے متعلق ہے۔ حدیث یہ ہے :

عن جابر بن سمرۃ قال سَمِعْتُ النبیَ ﷺ یَقُوْلُ یَکُوْنَ اِثْنَاءَ عَشَرَ اَمِیْرًا فَقَالَ کَلِمَۃً لَمْ اَسْمَعْھا۔ فَقَالَ اَبِیْ اِنَّہٗ قَالَ کلّہُّمْ مِنْ قُرَیْشٍ ۔

اس حدیث میں جن بارہ امرا کا ذکر ہے وہ کون لوگ ہیں؟ اہل تَشَیُّع میں سے اثناعشری حضرات ان سے مراد اپنے بارہ امام لیتے ہیں۔کیا ان کا یہ استدلال آپ کے نزدیک صحیح ہے؟

جواب: حضرات شیعہ کی کتب حدیث پر تو میری اتنی نگاہ نہیں ہے کہ میں ان کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی بات کہہ سکوں،مگر اہل سنت کی کتب حدیث میں بکثرت روایات ایسی موجود ہیں جو بزرگان اہل بیت نے غیر اہل بیت، صحابہ ؓ یا تابعین یا تبع تابعین سے روایت کی ہیں۔مثلاًبخاری ومسلم میں متعد داحادیث امام جعفر صادقؒ نے محمد بن منکدر اور عطاء بن ابی رباح سے روایت کی ہیں۔امام محمد الباقر نے بہت سی احادیث جابر بن عبدا ﷲ، ابو مرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب، عبداﷲ بن ابی رافع، سعید بن مسیب، اوریزید بن ہارون سے روایت کی ہیں۔ امام زین العابدین نے بہت سی احادیث حضرت صفیہ ام المومنین، مسور بن مخرمہ، سعید بن مرجانہ، عمر بن عثمان اور دوسرے اصحاب سے روایت کی ہیں۔ خود حضرت علیؓ نے ایک روایت مقداد بن اسود سے نقل کی ہے جو مسلم میں ملتی ہے۔ یہ تو صرف بخاری ومسلم کی روایات ہیں۔ دوسری کتب کا استقصا کیا جائے تو مزید احادیث اسی نوعیت کی ملیں گی۔بہرحال یہ امر واقع ہے کہ بزرگان اہل بیت نے علم کے معاملے میں کبھی نہ تعصب برتا ہے اور نہ خاندانی فخر وغرور سے کام لیا ہے۔

بخاری کی جس حدیث کے بارے میںآپ نے سوال کیا ہے،یہ حدیث کتا ب الفتن میں نہیں بلکہ کتاب الاحکام میں ہے، اور اس کا اندراج باب الاستخلاف میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے ایک باب میں ہے جو بلا ترجمہ درج ہوا ہے،یعنی اس پر کوئی عنوان نہیں ہے۔بخاری میں یہ روایت بہت مختصر ہے۔ لیکن مسلم، ابودائود، ترمذی اور طبرانی وغیرہ میں اسی مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں جو پوری تفصیل بیان کرتی ہیں اور ان سے اصل مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بارہ خلفا یا امرا (الفاظ مختلف ہیں) کے دور تک اسلام زبردست اور طاقت ور رہے گا،امت ایک نظام میں مجتمع رہے گی اور کسی کی عداوت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔مسلمانوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف امرا پر اس پیشین گوئی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے، اور بعض لوگوں نے اس کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن بہرحال ان تفصیلات سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان بارہ امرا یا خلفا سے مراد ائمۂ اثنا عشرنہیں ہوسکتے کیوں کہ ان کے ہاتھ میں حکومت نہیں رہی۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل، ۳۷۶اھ، نومبر ۹۵۶اء)