مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن وحدیث کا باہمی تعلق:

سوال: رسائل ومسائل حصہ دوم ،صفحہ ۶۲۔۶۳ پیراگراف اوّل میں آپ نے لکھا ہے:

’’قرآن میں اگر کوئی حکم عموم کے انداز میں بیان ہوا ہو اور حدیث یہ بتائے کہ اس حکم عام کا اطلاق کن خاص صورتوں پر ہوگا تو یہ قرآن کے حکم کی نفی نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح ہے۔اس تشریح کو اگر آپ قرآن کے خلاف ٹھہرا کر رد کردیںگے تو اس سے بے شمار قباحتیں پیدا ہوں گی جن کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کروں تو آپ خود مان جائیں گے کہ فی الواقع یہ اصرار غلطی ہے۔‘‘

اگر آپ اس عبارت کے آخر میں چند مثالیں اس امر کی پیش فرماتے تو مستفسر کو مزید تشفی ہوجاتی۔ مجھے چند ایسی امثلہ کی ضرورت ہے جس سے ایک منکر حدیث مان جائے کہ ایساکرنے سے (تشریح کو قرآن کے خلاف ٹھیرانے سے) فی الواقع قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ بہتر ہوگا اگر آپ چار امثلہ مہیا فرمادیں۔

میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ حدیث قرآ ن کی وضاحت کرتی ہے مگرمیں کسی حکم کے قرآن میں نہ ہونے اور خلاف قرآن ہونے میں تمیز نہیں کرسکتا۔ازراہ کرم آپ چار امثلہ ایسی پیش فرما دیں جس سے میرے لیے دونوں باتوں(خط کشیدہ) کا فرق پوری طرح واضح ہوجائے؟

جواب:حدیث قرآن کی جس طرح تشریح کرتی ہے ،اس کی بہت سی مثالوں میں سے چند یہ ہیں:

قرآن کہتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ اس میں چوری کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا اپنا بچہ ایک پیسا آپ کی جیب سے نکال لے تو وہ بھی چور قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہاتھ کی بھی کوئی حد نہیں بتائی گئی ہے۔ سیدھا یا بایاں؟ کلائی کے پاس سے، یا شانے کے پاس سے، یا کہنی کے پاس سے؟ ان سب اُمور کے متعلق سارے تعینات حدیث میں کیے گئے ہیں۔ انہیں آپ نظر انداز کردیں تو انداز ہ کرلیجیے کہ حکم کی تعمیل میں کیسی کچھ زیادتیاں ہوسکتی ہیں۔

قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتاہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ آیا ہر سال ہر مستطیع مسلمان پر حج فرض ہے یا عمر میں ایک مرتبہ اداکرنا کافی ہے۔ مؤخر الذ کر بات صرف حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اگر اسے آپ قبول نہ کریں تو قرآنی حکم کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال ہر مستطیع مسلمان حج کے لیے جائے۔

قرآن چند اقسام کی عورتوں کو حرام قرار دینے کے بعد کہتا ہے کہ ان کے ماسوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال ہے۔ ان حرام کی ہوئی عورتوںمیں محرمات ابدیہ کے علاوہ صرف سالی کا ذکر ہے جب کہ اس کی بہن آدمی کے نکاح میں زندہ موجود ہو۔ عورت کی خالہ اور پھوپھی کا ذکر نہیں ہے۔یہ بات حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ عورت کی اپنی بہن کی طرح اس کے باپ کی بہن اور اس کی ماں کی بہن بھی اس کے ساتھ ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس تشریح کو نظر انداز کردیا جائے تو آدمی حکم کے عموم سے غلط فائدہ اٹھا کر وہی خرابی برپا کرسکتاہے جس سے روکنے کے لیے شریعت نے جمع بین الاختین کو حرام کیا ہے۔

قرآن سونے اور چاندی کے جمع کر رکھنے پر سخت وعید کرتا ہے ۔سورۂ توبہ کی آیت ۳۵۔۳۶ کے الفاظ ملاحظہ فرمالیں۔اس کے عموم میں اتنی گنجایش بھی نہیں ہے کہ آپ سونے یا چاندی کا ایک تار بھی اپنے گھر میں رکھ سکیں۔ یہ حدیث ہی ہے جس نے اس کے منشا کی توضیح وتشریح کی ہے۔

قرآن میں کسی حکم کا نہ ہونا اور حدیث میں ہونا صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ حدیث قرآن سے زائد ایک حکم بیان کرتی ہے، نہ یہ کہ حدیث قرآن کے مخالف حکم دے رہی ہے۔ مثلاًنماز کی رکعات اور اس میں پڑھی جانے والی عبارات اور نماز کی دوسری تفصیلات قرآن میں نہیں ہیں۔ حج کے تمام مناسک قرآن میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔زکوٰۃ کا نصاب اور اس کی شرحیں اور دوسری تفصیلات قرآن میںنہیں ہیں۔ اذان کے الفاظ قرآن میں نہیں ہیں۔اس طرح کے جتنے زائد احکام ہم کو حدیث سے ملتے ہیں، وہ قرآن سے زائد ضرور ہیں مگر اس کے خلاف نہیںہیں۔ قرآن کے خلاف ہونا یہ ہے کہ قرآن ایک چیز کا حکم دے اور حدیث اس سے منع کرے۔ یا اس کے برعکس قرآن منع کرے اور حدیث اس کا حکم دے۔ ایسی کوئی مثال کسی صحیح حدیث میں نہیں پائی جاتی۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)