رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
رفع طور کی مزید تشریح:
رفع طور کے بارے میں جو کچھ میں نے تفہیم القرآن جلد اوّل میں صفحہ ۸۳ پر اور جلد دوم میں صفحہ ۹۵ پر ترجمہ وتشریح میں لکھا ہے،اس کو پھر غور سے پڑھیے۔ اس میںکہیں بھی پہاڑ کے اٹھائے جانے سے انکار نہیں ہے۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس اٹھائے جانے کی تفصیلی کیفیت متعین کرنا مشکل ہے۔پہاڑ کے اٹھائے جانے کی ایک صورت یہ ہے کہ پورا پہاڑ زمین سے نکال کر اوپر اٹھا لیا جائے۔دوسری صورت یہ ہے کہ پہاڑ کی جڑاُکھاڑ کر اسے ایک جانب اس طرح جھکا دیا جائے کہ وہ اپنے دامن میں کھڑے ہوئے لوگوں پر چھا جائے اور انہیں یوں محسوس ہو کہ گویا اب وہ ان پر اوندھ جائے گا۔ سورۂ بقرہ کے الفاظ رَفَعْنَا فَوْقَکُمْ سے پہلا مفہوم ذہن میں متبادر ہوتا ہے اور سورہ اعراف کے الفاظ وَاِذْ نَـتَقْنَا الْجَــبَلَ فَوْقَہُمْ كَاَنَّہٗ ظُلَّـۃٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ۰ۚ 171:7 دوسرے مفہوم کی طرف ذہن کو لے جاتے ہیں۔ نتق کے معنی کسی چیز کو اکھاڑنے او رجھڑ جھڑانے کے ہیں۔ قاموس میں ہے: نتقہٗ، زعزعہٗ، ونفصہٗ۔ مفردات امام راغب میں ہے: نتق الشیٔ جذبہ ونزعہ حتٰی یسترخی۔ اساس البلاغہ میں ہے: نتق البعیر الرحل، زعزعہٗ ونتق اللّٰہ الجبل رفعہٗ مزعزعًا فوقہم۔ اسی بِنا پر میر اخیال یہ ہے کہ واقعے کی ان دونوں ممکن صورتوں میں سے کسی ایک کی تعیین جزم کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان دونو ں صورتوں کو یکساں ممکن تسلیم کرتا ہو اور کسی ایک کی تعیین میں توقف کرے تو وہ آخر کس جرم کا مرتکب ہے جس پر اتنی لے دے کی جائے؟ اس پر مزید قابل افسوس بات یہ ہے کہ لوگ جس چیز پر لے دے کرتے ہیں، اس کو میری اصل کتاب میں نکال کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں اٹھاتے اور محض سنی سنائی روایات پر گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ آپ کا یہ فقرہ کہ’’کیا وجہ ہے ایک متفق علیہ مسئلے کو مجمل کہہ کر مشتبہ بنایا جاوے۔ پھر الفاظ بھی ایسے مؤکد کہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت‘‘ صاف غمازی کررہا ہے کہ آپ نے تفہیم القرآن کی وہ عبارت خود نکال کر نہیں پڑھی جس پر آپ نے اس قدر شدت کے ساتھ گرفت فرمائی ہے۔ کیوں کہ اس میںکہیں یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ یہ مجمل مفہوم جو میں بیان کررہا ہوں، یہ قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔اس غیر محتاط طریق گرفت کا مزید ثبوت یہ ہے کہ آپ اپنی تفسیر رفع کے حق میں بے تکلف بائبل کا حوالہ دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اس واقعے کے متعلق بائبل کی عبارت میں نے تفہیم القرآن جلد دوم میں صفحہ۹۵ پر لفظ بہ لفظ نقل کردی ہے اور وہ آپ کے بیان کے بالکل خلاف ہے۔رہی تلمود، تو اگر وہ آپ کی نظر سے گزری ہو تو براہِ کرم اس کی عبارت کا حوالہ مجھے ضرور بھیج دیں۔