رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مقبولیت دعا کے لیے قبروں پر چلہ کشی:
سوال(۲): مشائخ وصوفیہ کے بعض تذکروں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ فلاں صاحب نے فلاں بزرگ کی قبر پر مراقبہ اور چلہ کیا؟ اور یہ بھی کہ فلاں بزرگ کا یہ قول اور تجربہ ہے کہ فلاں قبر پر اﷲ سے دعا مانگنا قبولیت کا سبب ہوتا ہے؟اس کی دین میں کیا اصل ہے؟
جواب: اوّل تو دین میں اصل چیز کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ ہے،نہ کہ بزرگوں کے اقوال وافعال۔ دوسرے خود بزرگوں کے اقوال وافعال کے متعلق جو مواد تذکروں میں ملتاہے، وہ بھی ایسا مستندنہیں ہے کہ اس کی بِنا پر یہ اطمینان کیا جاسکے کہ واقعی ان بزرگوں کے اقوال وافعال وہی تھے جو ان کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ ایسی چیزوں کو ماخذ مان کر ان کی پیروی کرنا میرے نزدیک سخت بے احتیاطی ہے۔ محفوظ طریقہ وہی ہے جو ہمیں قرآن وحدیث سے ملتا ہے،جس کے دورِ صحابہ ؓ اور دورِ تابعین میں رائج ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور جس کو اُمت کے محدثین اور فقہا نے منقّح اور مدوّن کرکے رکھ دیا ہے۔لہٰذا جو شخص دین کی یقینی اور قابل اعتماد راہ پر چلنا چاہتا ہو،اس کو اس محفوظ طریقے سے تجاوز کا کبھی خیال بھی نہیںکرنا چاہیے۔کیوں کہ باہر جو کچھ ہے، وہ کم ازکم خطرے سے تو خالی نہیں ہے۔اب اسی معاملے کو لیجیے جس کے متعلق آپ سوال کررہے ہیں۔ جن تذکروں میں یہ ذکر ملتا ہے کہ فلاں فلاں بزرگوں نے یہ کام کیا تھا،ان کی روایات کا حدیث کی کسی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلے میں بھی آخر کیاپایہ ہے؟کس سند کی بِنا پر یہ اعتماد یا گمان غالب ہوسکتا ہے کہ ان بزرگوں نے واقعی ایسا کیا تھا؟فرض کیجیے کہ حقیقت میں انہوںنے ایسا نہ کیا ہو۔ اس صورت میں ان بے سند روایات کی پیروی کرکے ہم آخرت میں کس چیز کا سہارا لے کر جواب دہی کرسکیں گے؟ اگر عاقبت کی ہمیںفکر ہو اور ہم خود اپنی خیر چاہتے ہوں تو یہ کام کرنے سے پہلے ہم کو دین کے محفوظ طریقے کی طرف رجوع کرکے اطمینان کرلینا چاہیے کہ وہاں کسب فیض یا قبولیت دعا کے لیے یہ راستہ بتایا گیا ہے یا نہیں؟ صحابہؓ نے خود نبیؐ کے مزار مبارک پر کبھی چلہ کھینچا یا مراقبہ کیا؟تابعین نے کبھی کسی صحابی کی قبر پر یہ کام کیا؟ فقہا و محدثین میںسے کسی نے اس کو مشروع طریقہ بتایا؟ سب سے بڑھ کر خود اﷲ میاں نے قرآن میں کہیں یہ تعلیم دی کہ قبروںپر حصول فیض یا استجابت دعا کے لیے جائو؟ یا اللہ کے رسولؐ نے اس طریق کار کی طرف کوئی اشارہ کیا؟ ان ذرائع سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہو تو اطمینان کے ساتھ یہ کام کیا جاسکتا ہے، ور نہ یہ بالکل غلط نہ سہی، مشتبہ توماننا ہی پڑے گا۔ ایسامشتبہ کام کرکے کیا میں یہ خطرہ مول نہ لوں گا کہ شاید آخرت میں وہ غلط ثابت ہو اور میں اﷲ تعالیٰ کو اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکوں کہ جب دین کی حقیقی راہ معلوم کرنے کے قابل اعتماد ذرائع موجود تھے تو میں مشتبہ ذرائع کی طرف کیوں گیا؟