رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ابوجہل کی بیٹی کو حضرت علیؓ کا پیغام نکاح:
سوال: اسلام میں جب چار شادیوں کی اجازت ہے تو حضرت فاطمہؓ کی زندگی میں جب علی کرم اللہ وجہہ نے دوسری شادی کرنی چاہی تو رسول ؐاﷲ نے آپ ؓ کو کیوں روک دیا؟ابوجہل کی بیٹی کے خانوادۂ اہل بیت میں آجانے سے اگر کوئی خطرہ تھا تو کیا حضرت ام حبیبہؓ بنت ابی سفیان کے حرم رسالت میں داخل ہونے سے وہی خطرہ نہ تھا؟
جواب: اس واقعے کو امام زین العابدین علی بن حسین ؓ اور ابومُلَیکہ نے حضرت مِسْوَر بن مخرمہ سے روایت کیا ہے، اور اس کی تائید حضرت عبداﷲ بن زبیر کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ نیزابوحنظلہ اور سوید بن غفلہ کی مرسل روایات بھی اس کی موید ہیں۔اما م بخاریؒ نے کتاب فرض الخمس، کتاب فضائل اصحاب النبیؐ اور کتاب النکاح میں، مسلم نے کتاب فضائل الصحابہ میں، ابودائود نے کتاب النکاح میں، ابن ماجہ نے بھی کتاب النکاح میں، ترمذی نے کتاب المناقب میں اور حاکم نے کتاب معرفۃ الصحابہ میں متعدد سندوں سے ان روایات کو نقل کیا ہے۔
تفصیل اس قصے کی یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ابوجہل کا خاندان مسلمان ہوگیا تو حضرت علیؓ نے اس کی بیٹی سے(جس کا نام کسی نے جویریہ، کسی نے غوراء اور کسی نے جمیلہ بیان کیا ہے) نکاح کرنا چاہا۔لڑکی کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی پر بیٹی نہ دیں گے جب تک آپؐ سے پوچھ نہ لیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا ذکر حضورؐ سے کیا۔ ایک روایت کی رو سے خود حضرت علیؓ نے بھی اشارتاًکنایتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ نے بھی ان باتوں کا چرچا سن لیا اور جاکر اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’آپؐ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کوا پنی بیٹیوں کی پروا نہیں ہے۔دیکھیے، یہ علی اب ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبے میں فرمایا:
ان بنی ھشام بن المغیرۃ استأذنونی ان ینکحوا ابنتھم علی بن ابی طالب فلا اٰذن ثم لا اٰذن ثم لا اٰذن الا ان یرید ابن ابی طالب ان یطلق ابنتی وینکح ابنتہم فانما ھی بضعۃ منی یریبنی ما رابہا ویوذینی ما اذاھا ۔
’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی علی بن ابی طالب کے نکاح میں دیں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا،نہیں دیتا، نہیں دیتا، الا یہ کہ ابو طالب کا بیٹا میری لڑکی کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے نکاح کرلے۔میری لڑکی میرا ٹکڑا ہے ۔جو کچھ اسے ناگوار ہوگاوہ مجھے ناگوار ہوگا،اور جو چیز اسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی۔‘‘
وانی لست احرم حلالا ولا احل حراما ولٰکن واللّٰہ لا تجتمع بنت رسول اللّٰہ وبنت عدو اللّٰہ ابدًا
’’میں حلال کو حرام اور حرام کوحلال نہیں کرتا، مگر خدا کی قسم، اﷲ کے رسول کی بیٹی اور اﷲ کے رسول کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔‘‘
(وفی روایۃ) ان فاطمۃ منی وانا اتخوف ان تفتن فی دینھا ۔
(ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:) ’’فاطمہ مجھ سے ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں نہ پڑ جائے۔‘‘
اس واقعے پر آدمی کو یہ شبہ لاحق ہوسکتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی بہت سی شادیاں کیں اور عام لوگوں کو بھی چار تک بیویاں بیک وقت رکھنے کی اجازت دی۔ مگر خود اپنی بیٹی پر ایک سوکن کا آنا بھی آپؐ نے گوارا نہ کیا۔ سوکن کے آنے سے جو اذیت آپؐ کی بیٹی کو،اور بیٹی کی خاطرخود آپؐ کو ہوسکتی تھی،وہی اذیت دوسری عورتوں اوران کے ماں باپ کو بھی تو لاحق ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپؐ نے اپنے حق میں تو اسے برداشت نہ کیا اور دوسروں کے حق میں اسے جائز رکھا۔
بظاہر یہ ایک سخت اعتراض ہے اور معاملے کی سادہ صورت دیکھ کر آدمی بڑی اُلجھن میں پڑ جاتا ہے۔ لیکن تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ ایک عورت کا شوہر اگر دوسری بیوی لے آئے تو اس عورت کو فطرتاًیہ ناگوار ہوتا ہے اور اس کے ماں باپ ، بھائی بہن اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے۔شریعت نے ایک سے زیادہ نکاحوں کی اجازت اس مفروضے پر نہیں دی ہے کہ یہ چیز اس عورت کو اور اس کے رشتے داروں کو ناگوار نہیں ہوتی جس پر سوکن آئے۔ بلکہ اس امر واقعہ کو جانتے ہوئے شریعت نے اسے اس لیے حلال کیا ہے کہ دوسری اہم تراور معاشرتی مصلحتیں اس کو جائز کرنے کی متقاضی ہیں۔ شریعت یہ بھی جانتی ہے کہ سوکنیں بہرحال سہیلیاں اور شوہر شریک بہنیں بن کر نہیں رہ سکتیں۔ ان کے درمیان کچھ نہ کچھ کش مکش اور چپقلش ضرور ہوگی اور خانگی زندگی تلخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے گی۔ لیکن یہ انفرادی قباحتیں اس عظیم تر اجتماعی قباحت سے کم تر ہیں جو یک زوجی کو بطور قانون لازم کرنے سے پورے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے تعدد ازواج کو حلال قرار دیا ہے۔
اب دیکھیے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں کیا پیچیدگی واقع ہوتی ہے۔شرعاً آپؐ کی بیٹی پر بھی سوکن لانا آپؐ کے داماد کے لیے حلال تھا۔ اسی لیے حضرت علیؓ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔ اور اسی وجہ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کے لیے یہ فعل حرام ہے۔ بلکہ آپؐ نے خود تصریح فرمائی کہ میں حلال کو حرام نہیں کرتا۔ لیکن یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی شخصیت میں دو مختلف حیثیتیں جمع تھیں۔ ایک حیثیت میں آپؐ انسان تھے اور فطرتاً یہ ممکن نہ تھا کہ آپؐ کی صاحب زادی کے گھر میں سوکن آنے سے جو تلخی پیدا ہو، اس کا تھوڑا یا بہت اثر آپؐ کی طبیعت پر نہ پڑے۔ دوسری حیثیت میں آپؐ اﷲ کے رسول تھے، اور رسول کی حیثیت سے آپؐ کا مقام یہ تھا کہ آپؐ کے ساتھ اگر کسی شخص کے تعلقات خراب ہوجائیں اور کوئی شخص آپ کے لیے موجب اذیت ہو جائے تو اس کے دین وایمان کی بھی خیر نہ تھی۔ اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بھی اور بنی ہشام بن مغیرہ کو بھی اس کام سے روک دیا۔کیوں کہ اگرچہ شرعاً یہ حلال تھا مگر اس کے کرنے سے یہ اندیشہ تھا کہ یہ چیز حضرت علی ؓ اور ان کی دوسری بیوی اور اس کے خاندان والوں کے ایمان اور ان کی عاقبت کو خطرے میں ڈال دے گی۔
ایک اوربات جس کا حضورؐ نے اپنے خطبے میں ذکر فرمایا، وہ یہ تھی کہ بنی ہشام بن مغیرہ اسلام اور رسولؐ اﷲ کے بدترین دشمن رہ چکے تھے اور فتح مکہ کے بعد تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے۔ خود اس لڑکی کے باپ ابوجہل کے متعلق تو سب کو معلوم ہے کہ حضورؐ کی دشمنی میں وہ تمام کفار سے بازی لے گیا تھا۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ جنگ بدر میں وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا خاندان برسوں اس کے جذبۂ انتقام میں تڑپتا رہا۔ اب اگرچہ یہ لو گ اسلام قبول کرچکے تھے، لیکن یہ تحقیق ہوناابھی باقی تھا کہ یہ قبول اسلام واقعی پورے اخلاص اور قلوب کی مکمل تبدیلی کا ثمرہ ہے یا محض شکست کا نتیجہ۔ اس حالت میں اس خاندان کی لڑکی، اور وہ بھی خاص ابوجہل کی بیٹی کا اس گھر میں سوکن بن کر پہنچ جانا، جہاں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی ملکۂ بیت تھیں،بڑے فتنوں کا سبب بن سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تالیف قلب تو کی جاسکتی تھی اور کی بھی گئی، لیکن اسلام کے ساتھ ان کے تعلق کا حال جب تک ٹھیک ٹھیک معلوم نہ ہوجائے،انہیں عین خاندان رسالت میں گھسا لانا اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی کے بالمقابل لاکھڑا کرنا سخت نامناسب اور پُرخطر تھا۔ اس وجہ سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کو ناپسند کیا اور علی الاعلان کہا کہ خدا کے رسول کی بیٹی اور خدا کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ نیز اس بات کی طرف بھی آپؐ نے اشارہ فرمادیا کہ اس سے فاطمہؓ کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص کو اپنے بیاہ شادی کے معاملے میں( اگرچہ وہ بجائے خود حلال ہی سہی ) ایسی آزادی نہیں دی جاسکتی جس سے ایک پوری ملت کے لیے فتنہ وشر کا خطرہ پیدا ہوجائے۔
بے شک یہاں یہ اعتراض اٹھ سکتا ہے کہ ابوجہل کے خاندان سے ابوسفیان کا خاندان اسلام کی عداوت میں کچھ کم نہ تھا، پھر اگر ابوجہل کے خاندان کی لڑکی کا خانوادۂ رسالت میں آنا موجب فتنہ ہوسکتاتھا تو ابو سفیان کی صاحب زادی(حضرت ام حبیبہؓ) کا خود نبیؐ کی ازواج مطہرات میں شامل ہوجانا کیوں خطرے سے خالی تھا؟ لیکن دونوں کے حالات کا فرق نگاہ میں ہو تو یہ اعتراض آپ سے آپ ختم ہوجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ابو جہل کی لڑکی اور ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ابوجہل کی لڑکی اور اس کے چچا اور بھائی،سب کے سب فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ان کے بارے میں یہ امتحان ہونا ابھی باقی تھا کہ ان کا ایمان کس حد تک اخلاص پر مبنی ہے اور کہاں تک اس میں شکست خوردگی کا اثر ہے۔ بخلاف اس کے حضرت ام حبیبہ ؓ اس بڑے سے بڑے امتحان سے گزر کر، جو اکابر صحابہ میں سے بھی کم ہی کسی کو پیش آیا تھا، اپنے کمال اخلاص اور اپنی صداقت ایمانی کا پورا ثبوت دے چکی تھیں۔ انہوں نے دین کی خاطر وہ قربانیاں کی تھیں جن کی نظیر مشکل ہی سے کہیں اور نظر آسکتی ہے۔ ذرا غور کیجیے، ابوسفیان کی بیٹی،ہند بنت عتبہ(مشہور ہند جگر خوار) کی لخت جگر، جس کی پھوپھی وہ عورت تھی جسے قرآن میں ’’حما لۃ الحطب ‘‘کاخطاب دیا گیا ہے، جس کا نانا عتبہ بن ربیعہ نبیؐ کا بدترین دشمن تھا۔ اس خاندان سے اور اس ماحول سے نکل کر وہ حضرت عمرؓ اور حضرت حمزہؓ سے بھی پہلے ایمان لاتی ہیں، اپنے شوہر کو مسلمان کرتی ہیں، خاندان والوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر مہاجرین حبشہ کے ساتھ ہجرت کرجاتی ہیں۔ حبش جاکر شوہر عیسائی ہوجاتا ہے اور وہ دین کی خاطر اس کو بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ غریب الوطنی کی حالت میں تن تنہا ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ رہ جاتی ہیں اور ان کے عزم ایمانی میں ذرّہ برابر تزلزل نہیں آتا۔ کئی برس اس حالت میں جب گزر جاتے ہیں اور ایک بے سہارا خاتون دیار غیر میں ہر طرح کے مصائب جھیل کر یہ ثابت کردیتی ہے کہ دین کو جس پائے کا خلوص، جس مرتبے کی سیرت اور جس درجے کا کردار مطلوب ہے، وہ سب یہاں موجود ہے، تب نبی ؐ کی نگاہ انتخاب ان پر پڑتی ہے اور آپ حبش ہی میں ان کو نکاح کا پیغام بھیجتے ہیں۔ غزوۂ خیبر کے بعد وہ حبش سے واپس آ کر حرم نبوی میں داخل ہوتی ہیں۔ اس کے تھوڑی ہی مدت بعد قریش صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ نبیؐ اب مکے پر چڑھائی کردیں گے۔ اس موقع پر ابو سفیان صلح کی بات چیت کے لیے مدینے آتا ہے اور اس امید پر بیٹی کے ہاں پہنچتا ہے کہ اس کے ذریعے سے صلح کی شرائط طے کرنے میں سہولت ہو گی۔ برسوں کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ باپ سے بیٹی کو ملنے کا موقع ملتا ہے، مگر جب وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے فرش پر بیٹھنے کاارادہ کرتا ہے تو بیٹی فوراًیہ کہہ کر فرش اٹھا لیتی ہے کہ رسول ؐ کے فرش پر ایک دشمن اسلام نہیں بیٹھ سکتا۔ ایسی خاتون کا خانوادۂ رسالت میں داخل ہونا تو ہیرے کا ہار میں ٹھیک اپنی جگہ پالینا تھا۔ اس سے کسی فتنے کے رونماہونے کا کوئی بعید ترین امکان کیا، وہم بھی نہ ہوسکتا تھا۔ البتہ اس لڑکی کا اس خاندان میں آنا ضرور فتنے کا کے امکانات اپنے اندر رکھتا تھا جسے اور جس کے خاندان کو صرف فتح نے اسلام میں داخل کیا تھا اور اسلام میں آئے ہوئے جس کو ابھی صرف چند مہینے ہی ہوئے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوسکتا تھا کہ اسلام اور نبیؐ کی عداوت کے اثرات سے اس کا اور اس کے خاندان والوں کا دل پوری طرح پا ک ہوا ہے یا نہیں۔ ( ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)