مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

(۵)حضرت ابراہیمؑ او رکذبات ثلاثہ:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کے مسئلے پر میں نے دو جگہ بحث کی ہے۔ایک رسائل ومسائل حصہ دوم صفحہ ۳۵ تا ۳۹۔دوسرے تفہیم القرآن ،بسلسلۂ تفسیر سورۂ انبیاء،حاشیہ نمبر ۶۰۔ ان دونوں مقامات پر میں نے وہ دلائل بھی بیان کردیے ہیں جن کی بِنا پر میں اس روایت کے مضمون کی صحت تسلیم کرنے میں متأمل ہوں۔ اگر میرے ان دلائل کو دیکھ کر آپ کا اطمینان ہوجائے تو اچھا ہے، اور نہ ہو تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں، اسی کو صحیح سمجھتے رہیں۔ اس طرح کے معاملات میں اگر اختلاف رہ جائے تو آخر مضائقہ کیا ہے۔ آپ کے نزدیک حدیث کا مضمون اس لیے قابل قبول ہے کہ وہ قابل اعتماد سندوں سے نقل ہوئی ہے اور بخاری، مسلم، نسائی اور متعدد دوسرے اکابر محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک وہ اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس میں ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے، اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے کہ چند راویوں کی روایت پر اسے قبول کرلیا جائے۔ اس معاملے میں ،میں اس حد تک نہیں جاتا جہاں تک امام رازی ہیں۔ وہ تو کہتے ہیں کہ’’انبیا کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے سے بدرجہ ہابہتر یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں کی طرف اسے منسوب کیا جائے۔‘‘ (تفسیر کبیر،جلد۶،صفحہ ۱۱۳) اور یہ کہ’’نبی اور راوی میں سے کسی ایک کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنا پڑ جائے تو ضروری ہے کہ وہ نبی کے بجائے راوی کی طرف منسوب کیا جائے‘‘ ( تفسیر کبیر، جلد ۷،صفحہ ۱۴۵)۔ مگر میں اس روایت کے ثقہ راویوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے جھوٹی روایت نقل کی ہے،بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس کو نقل کرنے میںکسی راوی سے بے احتیاطی ضرور ہوئی ہے۔اس لیے اسے نبیؐ کا قول قرار دینا مناسب نہیں ہے۔محض سند کے اعتماد پر ایک ایسے مضمون کو آنکھیں بند کرکے ہم کیسے مان لیں جس کی زد انبیا علیہم السلام کے اعتماد پر پڑتی ہے؟

میں ان دلائل سے بے خبر نہیں ہوں جو اس روایت کی حمایت میں اکابر محدثین نے پیش کیے ہیں، مگر میں نے ان کو تشفی بخش نہیں پایا ہے۔ جہاں تک فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا اور اِنِّیْ سَقِیْمٌ کا تعلق ہے،ان دونوں کے متعلق تو تمام مفسرین ومحدثین اس پر متفق ہیں کہ یہ حقیقتاً جھوٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ آپ تفسیر کی جس کتاب میں چاہیں،ان آیات کی تفسیر نکال کر دیکھ لیں۔ اور ابن حجر، عینی، قسطلانی وغیرہ شارحین حدیث کی شرحیں بھی ملاحظہ فرما لیں۔ کسی نے بھی یہ نہیں مانا ہے کہ یہ دونوں قول فی الواقع جھوٹ تھے۔ رہا بیوی کو بہن قرار دینے کا معاملہ، تو یہ ایک ایسی بے ڈھب بات ہے کہ اسے بنانے کے لیے محدثین نے جتنی کوششیں بھی کی ہیں، وہ ناکام ہوئی ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے اس بحث کو جانے دیجیے کہ جس وقت کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے، اس وقت حضرت سارہ کی عمر کم ازکم ۶۵ برس تھی اور اس عمر کی خاتون پر کوئی شخص بھی فریفتہ نہیں ہو سکتا۔ [ اگرچہ یہ بائبل کی کتاب پیدائش کا بیان ہے کہ مصر کے سفر کے وقت حضرت سارہ کی یہ عمر تھی،لیکن قرآن وحدیث سے بھی اِسی کی تائید نکلتی ہے۔ایک طرف حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اِسی سفر کے موقع پر مصر کے بادشاہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں نذر کیا اور اُن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔دوسری طرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑجب والد ماجد کے ساتھ دوڑنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو قربانی کا یادگار واقعہ پیش آیا اور اِس سے متصل زمانے ہی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی گئی،اور اِس بشارت پر حضرت سارہ کو سخت اچنبھا ہوا،کیونکہ وہ بہت بوڑھی(عجوزہ) تھیں۔اِن دونوں واقعات کے درمیان زیادہ سے زیادہ تیرہ سال کا فصل ہوسکتا ہے۔ اب کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک عجوزہ خاتون صرف دس بارہ سال پہلے ایسی حسین نوجوان تھیں کہ مصر کا بادشاہ انہیں چھیننے کے لیے بے چین ہوگیا]؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ حضرت سارہ کو حاصل کرنے کے درپے ہوا تو حضرت ابراہیمؑ نے آخر کس مصلحت سے کہا کہ یہ میری بہن ہیں؟ اس صورت حال میں بیو ی کو بہن کہہ کر آخرکیا فائدہ حاصل ہوسکتا تھا؟شارحین حدیث نے اس سوال کے جوجوابات دیے ہیں،وہ ذرا ملاحظہ ہوں:

۱۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ صرف شوہر والی عورتوں ہی سے تعرض کیا جائے،اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس اُمید پر کہا کہ وہ حضرت سارہ کو بے شوہر عورت سمجھ کر چھوڑ دے گا۔

۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس لیے کہا کہ بادشاہ عورت کو چھوڑنے والا تو ہے نہیں،اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس کا شوہر ہوں تو جان بھی جائے گی اور بیوی بھی، اور اگر بہن کہوں گا تو صرف بیوی ہی جائے گی، جان بچ جائے گی۔

۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ سارہ کو بیوی بتائوں گا تو یہ بادشاہ مجھ سے زبردستی طلاق دلوا لے گا،اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ میری بہن ہے۔

۴۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ بھائی اپنی بہن کا شوہر ہونے کے لیے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہے،اس لیے انہوں نے بیوی کو بہن اس اُمید پر بتایا کہ یہ سارہ کو میرے ہی لیے چھوڑ دے گا۔

(فتح الباری،جلد۶،صفحہ ۲۴۷۔ عینی جلد ۵ا،صفحہ ۲۴۹۔ قسطلانی جلد ۵، صفحہ ۲۸۰)

خدارا غور کیجیے کہ ان توجیہات نے بات بنائی ہے یاکچھ اور بگاڑ دی ہے؟آخر کس تاریخ سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ دنیا میں کوئی دین ایسا بھی گزرا ہے جس میں بے شوہر عورت کو چھوڑ کر صرف شوہر دار عورت ہی سے تعرض کرنے کا قاعدہ مقرر ہو؟ اور یہ ایک نبی کی سیرت وشخصیت کا کیسا بلند تصور ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے بیوی کی عصمت قربان کرنے پر راضی ہوجائے ؟ اور یہ کس قدر معقول بات ہے کہ زبردستی طلاق دلوائے جانے کے اندیشے سے بیوی کو بہن کہہ کر دوسرے کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ بے طلاق ہی اس سے استفادہ کرلے؟ اور یہ کتنی دل لگتی بات ہے کہ بادشاہ بھائی کو تو بہن کا شوہر ہونے کے لیے زیادہ حق دار مان لے گا مگر خود شوہر کو شوہر ہونے کے لیے حق دار نہ مانے گا؟ اس طرح کی لاطائل سخن سازیوں سے ایک مہمل بات کو ٹھیک بٹھانے کی کوشش کرنے سے کیا یہ مان لینا زیادہ بہتر نہیں ہے کہ نبیؐ نے ہرگز یہ بات نہ فرمائی ہوگی اور کسی غلط فہمی کی بِنا پر یہ قصہ غلط طریقے سے نقل ہوگیا ہے۔

بعض حضرات اس موقع پر یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے دلائل سے محدثین کی چھانی پھٹکی ہوئی ایک صحیح السند روایت کے مضمون کو مشکو ک ٹھہرادیا جائے تو پھر ساری ہی حدیثیں مشکوک قرار پاجائیں گی۔لیکن یہ خدشہ اس لیے بے بنیاد ہے کہ متن کی صحت میں شک ہر روایت کے معاملے میں نہیں ہوسکتا،بلکہ صرف کسی ایسی روایت ہی میں ہوسکتا ہے جس میں کوئی بہت ہی نامناسب بات نبیؐ کی طرف منسوب ہوئی ہو اور وہ کسی توجیہ سے بھی ٹھیک نہ بیٹھتی ہو۔اس طرح کی بعض روایتوں کے متن کو مشکوک ٹھہرانے سے آخر ساری روایتیں کیوں مشکو ک ہوجائیں گی؟ پھر یہ امر بھی غورطلب ہے کہ جن نامناسب باتوں کی کوئی معقول توجیہ ممکن نہ ہو، ان کا نبی ؐکی طرف منسوب ہونا زیادہ خطرناک ہے،یا یہ مان لینا کہ محدثین کی چھان پھٹک میں بعض کوتاہیاں رہ گئی ہیں، یا یہ کہ بعض ثقہ راویوں سے بھی نقل روایات میں کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں؟ بتایئے، ایک صاحب ایمان آدمی ان دونوں باتوں میں سے کس بات کو قبول کرنا زیادہ پسندکرے گا؟

(ترجمان القرآن،ربیع الثانی ۳۷۵اھ،دسمبر۹۵۵اء)