رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
آیت رجم پر مزید بحث:
آپ کا یہ اعتراض میرے نزدیک سب سے زیادہ عجیب ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ترجمان القرآن ماہ نومبر ۵۵ء میں میری وہ بحث پوری طرح پڑھنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی جس پر آپ اعتراض فرما رہے ہیں۔بخاری کی جس حدیث کا آپ ذکر کررہے ہیں،اس کی تاویل میں نے پوری وضاحت کے ساتھ اپنے فقرہ نمبر ۶ میں کی ہے جو مذکورۂ بالا رسالے میںصفحہ ۵۸، ۵۹ پر درج ہے۔اس کو پڑھ کر دیکھیے، پھر بتایئے کہ اس اعتراض کی کوئی گنجایش باقی رہ جاتی ہے جو آپ نے کیا ہے؟ رہا فاروق اعظمؓ کی تقریر کا معاملہ، تو اس پر میں نے خود اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہے۔ہدایہ کے مشہور شارح علامہ ابن ہمام کی جو عبارت مشہور مفسر قرآن علامہ آلوسی نے ’’روح المعانی‘‘میں نقل کی تھی،اس کا صرف ترجمہ کردیا ہے۔ لیکن آپ کے نزدیک قصور وار پھر بھی میں ہی رہا۔ ان دونوں بزرگوں کو خطاب کرکے آپ نے کچھ نہ فرمایا۔ اس سلسلے میں آپ کے مزید اطمینان کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اسی خطبے میں حضرت عمرؓ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:
وَالرَّجُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنٰی اِذَا اَحْصَنَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّسائِ اِذَا قَامَتِ الْبِیِنَّۃُ اَوْکَانَ الْحَمْلُ اَوِ الْاعْتِرافُ۔
’’کتاب اﷲ میں رجم حق ہے اس مرد وعورت پر جو احصان کے بعد زنا کرے جب کہ اس پر یا تو شہادت قائم ہوجائے یا حمل پایا جائے یا وہ خود اعتراف کرے۔‘‘
اس خطبے کا یہ ٹکڑا کہ حمل بجائے خود سزائے رجم کے لیے کافی ثبوت ہے،جمہور فقہا نے تسلیم نہیں کیا ہے۔علامہ شوکانی’’ نیل الاوطار ‘‘میں اس کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ جمہور اس طرف گئے ہیں کہ مجرد حمل سے حد ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے یا تو شہادت زنا ہونی ضروری ہے یا پھر اعتراف ،اور اس رائے کے حق میں وہ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جو شبہات میں حد جاری کرنے سے منع کرتی ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ یہ حضرت عمرؓ کا قول ہے اور اس کی دلیل پر اتنا بڑا حکم ثابت نہیں ہوسکتا جو ہلاکت نفوس تک نوبت پہنچاتا ہو۔ رہی یہ بات کہ حضرت عمرؓ نے یہ مسئلہ صحابہ کرامؓ کے مجمع میں بیان کیا تھا اور اس پر کسی نے انکار نہ کیا، تو یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ سامعین کے انکار نہ کرنے سے اجماع لازم نہیں آتا۔‘‘ (جلد ۷،صفحہ ۸۸)