مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

(۲)آنحضورؐکے لعاب سے حصول برکت:

دوسرے نمبرپر آپ نے جس واقعے پر تعجب کا اظہار کیا ہے وہ درحقیقت کسی تعجب کا محل نہیں ہے۔ بس ذرا اس امر پر غور کرلیجیے کہ معاملہ ایک نبی کا ہے اور ان لوگوں کا ہے جو سچے دل سے مان چکے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور اپنے درمیان اس عظیم المرتبت ہستی کو موجود پا رہے تھے۔ اس مرتبے کی ہستیوں کا جو زبردست اثر ان لوگوں پر ہوسکتا ہے جنہیں یقین ہو کہ ہمارے سامنے وہ شخص موجود ہے جسے اﷲ سے مکالمے کا شرف حاصل ہوتا ہے، اس کا اندازہ آپ بخوبی کرسکتے ہیں اگر تھوڑی دیر کے لیے خود اپنے آپ کو ان لوگوں کی جگہ فرض کرلیں۔ یہ انبیا علیہم السلام کا غیر معمولی اثر ہی تو تھا جس کی بدولت ان کے معتقدین میں سے بکثرت لوگ حد پر نہ رک سکے اور غلو کرکے انہیں خدا اور ابن اﷲ اور اوتار اور نہ معلوم کیا کیا بنا بیٹھے۔ نبیؐ نے اس معاملے میں لوگوں کو حد اعتدال پر قائم رکھنے کے لیے جو کوششیں فرمائیں، وہ سب کو معلوم ہیں۔ مگر اس کے ساتھ آپؐ نے انسانی فطرت کی رعایت بھی ملحوظ رکھی اور حد اعتدال کے اندر جہاں تک شدت عقیدت کو جانے کی اجازت دی جاسکتی تھی، وہاں تک جانے سے لوگوں کو نہیں روکا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وقت لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک زمین پر نہ گرنے دیا اور آگے بڑھ کر اسے ہاتھوں پر لینے اور اپنے منہ اور جسم پر مل لینے کی کوشش کی تو آپؐ نے منع نہ فرمایا۔ رہی یہ بات کہ خود لوگوں کو گھن کیوں نہ آتی تھی، تو میں کہوں گا کہ عام انسانوں کے تھوک سے ضرور گھن آسکتی ہے، مگر جس منہ پر خدا کاکلام اترتا ہو، اس کے تھوک سے گھن آنا تو درکنار،اہل ایمان کی نگاہ میںتو عطر کی بھی اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

(۳) تیسرے واقعے کی نوعیت بھی وہی ہے جو اوپر کے واقعے کی ہے ۔لیکن اس کی پوری تفصیل جو بخاری، کتاب المغازی ،باب غزوۃ الطائف میں آئی ہے،اگر نگاہ میں رہے تو وہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو اوپر میں نے بیان کی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ حضورؐ نے غزوہ حنین کے غنائم برسر موقع تقسیم کرنے کے بجائے جعرانہ پہنچ کر تقسیم کرنے کا فیصلہ فرمایا تھا اور اس وجہ سے بعض نئے نئے ایمان لائے ہوئے لوگ بڑے بے صبرہورہے تھے۔جب آپؐ جعرانہ پہنچے تو ایک بدو نے آکر اپنے حصے کا مطالبہ کیا۔حضورؐ نے فرمایا:’’ تجھے بشار ت ہو‘‘(یعنی اس بات کی بشارت کہ عن قریب حصے تقسیم ہوں گے اور اب تک جو تو نے صبر کیا ،اس کا اجر ملے گا)۔اس نے تڑخ کر کہا:’’آپ کی یہ بشارتیں میں بہت سن چکا ہوں۔‘‘حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت بلالؓ اس وقت حاضر تھے۔ حضورؐ نے ان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا : ’’اس نے میری بشارت رد کردی۔تم دونوں اسے قبو ل کرو۔‘‘ دونوں نے عرض کیا:’’ہم نے قبول کی۔‘‘ پھر آپؐ نے ایک پیالہ بھر پانی منگوایا۔ اس میں ہاتھ اورمنہ دھویا اور کلی کی۔ پھر دونوں صاحبوں سے فرمایا: تم اسے پی لو اور اپنے منہ اور سینے پر ڈالو اور بشارت لو۔ چنانچہ دونوں نے ایسا ہی کیا۔ پردے کے پیچھے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے پکارکر دونوں صاحبوں سے کہا: کچھ اپنی ماں کے لیے بھی بچا لینا۔ یہ سن کر انہوں نے تھوڑا سا پانی بچالیا اور انہیں بھی دیا۔

اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دراصل اس بدو کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس نے جو اس بے بہا بشارت کو رد کیا ہے یہ کیسی ناشکری اور بدبختی ہے، اور سچے اہل ایمان کا اپنے نبی کے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت کا انداز اور پھر ام سلمہ ؓ کا اس پانی میں سے اپنا حصہ طلب کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ حضرات اس مبارک پانی کو لے کر پینے اور منہ اور سینے پر ملنے میں کراہت محسوس کرنا تو درکنار، اسے اپنے لیے آب حیات سمجھتے تھے، اس کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مسابقت کرتے تھے، اور انہیں فخر تھا کہ یہ نعمت انہیں نصیب ہوئی۔

(۴) ’’اقبال اور حدیث‘‘ والے سوال کے بارے میں، میں صرف اتنا ہی کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے اس مسئلے کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے کہ حدیث کے متعلق اقبا ل مرحوم کا نظریہ کیا تھا اورکیا نہ تھا۔ اگر ہمارے پاس اس معاملے میں صاف اور واضح نصوص اور خلفائے راشدین سے لے کر آج تک کے تمام علمائے اُمت کا متفقہ طرز عمل نہ ہوتا تو شاید ہم اس کے محتاج ہوتے کہ حدیث کے متعلق علامہ اقبال کا نظریہ معلوم کرتے۔ لیکن ان حجتوں کی موجودگی میں یہ چیز تلاش کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔(ترجمان القرآن۔ اگست ۹۶۰اء)