رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کیا خبر واحد وغیر متواتر مدار کفر وایمان ہے؟
آپ نے اس سوال میں بھی میر ی پوری بات نقل نہیں کی ہے بلکہ اس میں سے صرف ایک ٹکڑا نکال لیا ہے۔براہِ کرم میری پوری عبارت جو رسائل ومسائل جلد اوّل میں صفحہ ۶۶ سے ۶۸ تک ہے، بغور پڑھیے اور اس کے بعد فقہ حنفی کے نامور امام شمس الائمہ سرخسی کی حسب ذیل عبارات ملاحظہ فرمایئے جو انھوں نے اصول السرخسی میں اسی موضوع کے متعلق لکھی ہیں۔شاید کہ اس کے بعد آپ کو اطمینان ہوجائے کہ جو اُصولی بات میں نے لکھی ہے،وہ میر ی اپنی گھڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ سلف سے مسلم چلی آرہی ہے۔امام موصوف خبر واحد کے متعلق لکھتے ہیں:
’’خبر واحد علم یقین کی موجب نہیں ہوتی،کیوں کہ اس میں راوی کی غلطی کا احتمال ہوتا ہے۔ البتہ وہ راوی کے ساتھ حسن ظن کی بِنا پر اور اس بِنا پر کہ اس کی عدالت کا حال معلوم ہونے کی وجہ سے اس کے صدق کا پہلو راجح ہوجاتا ہے، ایک ایسی دلیل ضرور قرارپاتی ہے جس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔پس اس قسم کی خبر کا حکم اس کی دلیل کی طاقت کے لحاظ سے ثابت ہے،اور وہ یہ ہے کہ اس کے انکار کرنے والے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی، کیوں کہ اس کی دلیل موجب علم یقین نہیں ہے، اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی دلیل موجب عمل ہے اور اس کا منکرا گر تاویل کی بنا پر انکار نہیں کرتا بلکہ بجائے خود خبر واحد ہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے تو اسے گمراہ قرار دیا جائے گا۔لیکن اگر وہ خبر واحد کے مطابق عمل کرنے کو واجب مانتے ہوئے تاویل کی بنا پر کسی خبرکو رد کردے تو اسے گمراہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔‘‘ (جلد اوّل صفحہ ۲اا)
پھر وہ خبر متواتر کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ اس کی تعریف یہ ہے کہ اسے اتنے کثیر التعداد لوگوں نے نقل کیا ہو کہ اتنے بہت سے آدمیوں اور مختلف علاقوں کے رہنے والے آدمیوں کے کسی جھوٹی بات پر متفق ہوجانے کا تصور نہ کیا جاسکتا ہو، اوران کی یہ کثرت ہمارے زمانے سے لے کر رسولؐ اﷲ تک متصلاً ہر دور میں پائی جاتی ہو۔ نمازوں کی تعداد اور نماز کی رکعات کی تعداد اور زکوٰۃ اور خون بہا کی مقداریں، اور ایسی ہی دوسری خبریں اس کی مثال ہیں… پس جب مختلف علاقوں کے رہنے والے راویوں کی کثرت تعداد کو دیکھتے ہوئے تہمت اختراع کی کوئی گنجایش باقی نہ رہی ہو تو اس طرح کی خبر گویا ایسی ہی ہے جیسے ہم خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سن رہے ہیں،اور یہ چیز جمہور فقہا کے نزدیک موجب علم یقین ہے۔‘‘ (جلد اوّل، صفحہ ۲۸۲ تا ۲۸۳)
اس کے بعد وہ اس خبر کو لیتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے تو اخبار آحاد کی قسم میں داخل ہو، لیکن بہت سی روایتوں میں ایک مشترک معنی پائے جانے کی وجہ سے وہ مشترک معنی تواتر کے درجے میں آگیا ہو۔ اصطلاح میں ایسی خبر کو خبر مشہور کہا جاتا ہے۔اس کے بارے میں علما کے اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد امام سرخسی جس قول کو ترجیح دیتے ہیں،وہ یہ ہے:
’’ عیسیٰ بن ابان رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ اس قسم کی خبریں تین اقسام پر منقسم ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جس کا انکار کرنے والے کو گمراہ کہا جاسکتا ہے، مگر کافر نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاًوہ خبر جس کی روسے زانی محصن کی سزا رجم ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس کے منکر کو گمراہ نہیں کہا جاسکتا البتہ خطا کار کہا جاسکتا ہے اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ وہ گناہ گار ہو، مثلاً مسح علی الخفین کی خبر، اور ایک ہی جنس کے دست بدست لین دین میں تفاضل کے حرام ہونے کی خبر۔ اور تیسری قسم وہ ہے جس کے منکر کے گناہ گار ہونے کا خطرہ تو نہیں ہے مگر اس کی رائے کو غلط ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اور اس قسم میں باب احکام کی وہ بہت سی خبریں شامل ہیں جن کے قبول اور رد کرنے میں فقہا کے درمیان اختلافات ہیں۔‘‘ (جلد اوّل،صفحہ ۲۹۳)
اس بحث کو آپ غور سے دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مدارکفر وایمان اگر ہوسکتے ہیں تو صرف وہ امور ہوسکتے ہیں جو کسی یقینی ذریعۂ علم سے ہم کو نبیؐ سے پہنچے ہوں اور وہ ذریعہ یا تو قرآن ہے یا پھر نقل متواتر، جس کی شرائط امام سرخسی نے واضح طور پر بیان کردی ہیں۔باقی جو چیزیں اخبار آحاد یا روایات مشہورہ سے نقل کی ہوئی ہوں،وہ اپنی اپنی دلیل کی قوت کے مطابق اہمیت رکھتی ہیں، مگر ان میں سے کسی کی بھی یہ اہمیت نہیں ہے کہ اسے ایمانیات میں داخل کردیا جائے اور اس کے نہ ماننے والے کو کافر ٹھہرایا جائے۔ مہدی علیہ السلام کے متعلق جو روایات احادیث میں آئی ہیں، ان کو اگر محدثانہ طریق پر جانچا جائے تو ان کا وہ مرتبہ بھی نہیں ٹھہرتا جو مسح علی الخفین اور ربوا لفضل کی روایات کا ہے۔