مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مسلم اور مومن کے معنی:

سوال: بعض حضرات اسلام اور ایمان کے الفاظ کو اصطلاحی معنوں میں ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال کرتے ہیں۔وہ اسلام سے مراد محض ظاہری اطاعت لیتے ہیں جس کی پشت پر ایمان موجود نہ ہو۔ اور ایمان سے مراد حقیقی اور قلبی ایمان لیتے ہیں۔ ان کا استدلال سورۂ حجرات کی اس آیت (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا…) سے ہے،جس میں عرب بدوئوں کو مومن کے بجائے مسلم قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے۔بعض فرقے اس استدلال کی آڑ میں اپنے آپ کو مومن اور عامۃ المسلمین کو محض مسلم قرا ردیتے ہیں، حتیٰ کہ خلفائے راشدین میں سے اصحاب ثلاثہ کو بھی مومن کے بجائے مسلم کہہ کر در پردہ ان کے ایمان پر چوٹ کی جاتی ہے۔ براہِ کرم مذکورہ بالا آیت کی صحیح تاویل اور مومن ومسلم کی تشریح بیان فرمائیں۔

جواب: سورۂ حجرات کی آیت قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا… کو سورۂ توبہ کی آیات ۹۰ تاا۰ا کی روشنی میں پڑھیے تو بات پوری طرح سمجھ میں آجائے گی۔ مدینہ سے باہر اطراف ونواح میں جو بدو رہتے تھے، ان کو اعراب کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ صرف اس وجہ سے مدینے کی اسلامی حکومت کے تابع فرمان ہوگئے تھے کہ ان کے لیے اطاعت کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہا تھا۔ مگر نہ وہ جہاد میںجانیں لڑانے اور خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے اور نہ زکوٰۃ خوشی کے ساتھ دینے پر راضی تھے۔ اس پر ان کا رویہ یہ تھا کہ جب مسلمانوں کے ساتھ فتوحات کے فوائد میں حصہ بٹانے کا معاملہ آتا تھا تو یہ ایک سے ایک بڑھ کر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے دعاوی اس طرح پیش کرتے تھے گویا انہوں نے دائرۂ اسلام میں داخل ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی احسان کیا ہے۔ان کے اسی رویے کے متعلق سورۂ حجرات میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ ایمان کادعویٰ کرتے ہیں،لیکن دراصل انہوں نے صرف ظاہری اطاعت قبول کی ہے۔ایمان دل میں ہوتا تو نہ یہ جہاد سے جی چراتے اور نہ اپنے قبول اسلام کا احسان نبی پر جتاتے۔

اس جگہ بلاشبہ اسلام کا لفظ ایمان کے بغیر صرف مطیع ہوجانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قرآن مجید میں اسلام اور ایمان دو الگ چیزیں ہیں۔اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے تو اس سے پوچھیے کہ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ الانعام 19:3 کے کیا معنی ہیں، اور حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کا کیا مطلب ہے کہ

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۝۰ البقرہ 128:2

باقی رہا کسی گروہ کا خلفائے ثلاثہ اور تمام صحابہ کرام کو(باستثنائے چند) مسلم بلا ایمان قرار دینا،تو حقیقت میں یہ ان پر نہیں بلکہ خود نبیؐ پر چوٹ ہے۔ وہ دراصل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معاذ اﷲ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک انتہائی ناکام نبی تھے،کیوں کہ آپؐ پر خود آپ کے چند اہل بیت اور تین چار صحابیوں کے سوا کوئی سچے دل سے ایمان نہ لایا،حتیٰ کہ آپؐ کی اکثر بیویاں بھی آپ کی مخلص پیرونہ تھیں۔اور اس کے ساتھ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باﷲ، سخت بے بصیرت اور سادہ لوح بھی ثابت کرتے ہیں، کیوں کہ ان کے بقول جن لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر اپنا رفیق بنائے رکھا،وہ دراصل سب کے سب منافق تھے۔اور عجیب بات ہے،یہ ظالم اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ۲۳ سال تک تمام عرب کے مقابلے میں جدوجہد کرکے جو عظیم الشان کامیابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی، وہ آخر کیسے حاصل ہوسکتی تھی اگر آپ کے یہ تمام ساتھی مخلص ووفادار اور جاں نثار فدائی نہ ہوتے۔سال ہا سال تک عرب کی پوری قوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر پیکار تھی، اور یہی صحابہ آپ کے دست وبازو بنے ہوئے تھے۔معاذ اﷲ، یہ اگر منافق ہوتے تو عرب کیسے مسخر ہوجاتا؟واقعہ یہ ہے کہ بغض اور تعصب میں جب آدمی اندھا ہوجاتا ہے تو سورج کی طرح روشن حقائق بھی اس کو نظر نہیں آتے۔ (ترجمان القرآن،نومبر ۹۶۳اء)