مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تاویل قرآن کے صحیح اصول:

(امریکا کی ٹفٹس یونی ورسٹی(tufts university) کے ایک پروفیسر نے چند سوالات اس درخواست کے ساتھ بھیجے تھے کہ ان کا مفصل جواب دے کر ان مشکلات کو رفع کیا جائے جو انہیں فہم القرآن کے معاملے میں پیش آرہی ہیں۔یہ سوال نامہ اور اس کاجواب درج ذیل ہے)۔

سوال: اسلام کو سمجھنے کی کوشش میں جس مسئلے کو میں نے سب سے زیادہ پریشان کن پایا،وہ قرآن کی تاویل وتعبیر کا مسئلہ ہے۔ذیل کے سوالات میں نے اس غرض کے لیے مرتب کیے ہیں کہ اس معاملے میںمیرے ذہن کی اُلجھن کو دُور کیا جائے۔میں نے ایک مخصوص مسئلے کو اپنے سوالات کا محور صرف اس لیے بنایا ہے تاکہ تاویل قرآن کے اُصولوں کو جاننے کے ساتھ یہ بھی معلوم کرسکوں کہ مخصوص مسائل پر ان اُصولوں کا اطلاق کس طرح ہوتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘( بقرہ : ۲۵۶)۔ اس پر حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

(۱) کیا ایران میں بہائیوں کا استیصال اس آیت کے خلاف نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟ کیا پاکستان میں قادیانیوںکے خلاف ہنگامے اس آیت کے خلاف نہ تھے؟ اگر نہ تھے تو کیوں؟

(۲) اکراہ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ لفظ قہر (coercion) سے زیادہ وسیع نہیں ہے؟اگر موجودہ زمانے کی ایک ریاست میں مسلمانوں کو ٹیکس میں رعایات ملیں یا شہریت کے زیادہ فوائد حاصل ہوں تو کیا یہ بھی غیر مسلموں کے حق میں اکراہ نہ ہو گا؟یقینا ایک ایسا تاجر جو تھوڑے منافع پر کام کررہا ہو،اپنی روزی محفوظ رکھنے کے لیے ایسے حالات میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

(۳) کیا یہاں لفظ’’ دین‘‘اپنے عام وسیع تر معنوں کی بہ نسبت محدود تر معنوںمیں استعمال ہوا ہے؟

(۴) اس آیت کا ایک مفسر کہتا ہے کہ’’مسلمانو ںکو ہدایت کی جارہی ہے کہ جب ان کے ہاتھ میں اقتدار ہو تو انہیں اس اُصول کی پیروی کرنی چاہیے کہ دین میں جبر سے کام نہ لیا جائے۔‘‘ یہ مفسر اس آیت کے حکم کو صرف اس حالت کے لیے کیوں مخصو ص کرتا ہے جب کہ مسلمان اقتدار رکھتے ہوں؟کیا آپ اس تاویل سے اتفاق کرتے ہیں؟

(۵) اگر آپ کو بھی اس سے اتفاق ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک جبر سے کام لے سکتے ہیں جب تک انہیں اقتدار حاصل نہ ہوجائے؟

(۶) اگر ایک اسلامی ریاست میں ایک مرتدواجب القتل ہے تو پھر کیا یہ دین میں جبر کا استعمال نہیں ہے؟

قرآن مجید کہتا ہے: ’’وہی ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی۔اس کی کچھ آیات محکم ہیں اور وہی کتاب کی اصل وبنیاد ہیں۔دوسری متشابہات ہیں۔سو جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ،وہ اس کتاب کی ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور ان کو معنی پہنائیں۔‘‘(آل عمران: ۷)

(۷) کیا یہ صحیح ہے کہ آیات محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کے معنی صاف اور صریح ہیں؟ اور اس بِنا پر ان کی تاویل وتعبیر کی حاجت نہیں ہے؟اگر یہی بات ہے تو کیا یہ فرض کرلیا جائے گا کہ ان کے معنی سب لوگوں پر واضح ہیں ؟اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ ایک ہی طرح سوچتے ہیں اور ایک ہی درجے کا تعقل رکھتے ہیں؟

(۸) کیا آیت لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ محکم ہے ؟اگر نہیں ہے تو چند ایسی آیتوں کی نشان دہی کیجیے جو قطعی طور پر صریح الدلالت ہیں؟

(۹) سورۂ نساء کی تیسری آیت جس میں تعددِ ازواج کی اجازت مذکور ہے،محکم ہے یا متشابہ؟ اگر وہ محکم ہے تو اس کے معنی میں اتنا اختلاف کیوں ہے اور اس کی۱ تنی مختلف تاویلیں کیوں کی جاتی ہیں؟اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ اس کے معنی بالکل صاف ہیں تو کیا اس کی کوئی ضرورت ہے کہ وہ حدیث کی طرف رجوع کرے؟(واضح رہے کہ میں بجائے خود تعدد ازواج کے مسئلے میںدل چسپی نہیں رکھتا،بلکہ یہاں زیر بحث قرآن کی تاویل کا مسئلہ ہے)۔

(۰ا) جب قرآن کی مختلف آیات ایک ہی موضوع سے متعلق ہوں اور ان کا مضمون ایک دوسرے سے مختلف پایا جائے تو ایک آدمی کس طرح فیصلہ کرے کہ ان میں سے کون سی آیت کس کی ناسخ ہے؟اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ایک آیت بعد میں نازل ہوئی ہے تو کیا یہ بات اسے ناسخ قرار دینے کے لیے کافی ہے؟اگر یہ صحیح ہے تو کیا قرآن کو تاریخ نزول کی ترتیب کے لحاظ سے مرتب کرنا مفید نہ ہوگا؟

(۱۱) کیا ایک اسلامی ریاست میں افراد کو یہ حق ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک آیات محکمات کے جو معنی خود سمجھتا ہو،ان کی پیروی کرے؟کیا اس کا یہ حق ہوگا کہ ان آیات کی کسی ایسی تعبیر کو ماننے سے انکار کردے جو اس کی ذاتی تعبیر سے مختلف ہو۔خواہ وہ حکومت کے مقرر کیے ہوئے کسی کمیشن ہی نے کیوں نہ کی ہو؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۷ کا فائدہ کیا ہے؟

(۲ا) بائبل کی کتاب’’رسولوں کے اعمال‘‘(باب۰ا) میں ہے کہ تمام چارپایوں والے جانور حلال ہیں۔ بخلاف اس کے بائبل کا عہد نامہ قدیم اور قرآن،دونوں بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔اگر یہ سب کتابیں خدا کی طرف سے بذریعہ وحی نازل ہوئی ہیں تو مسلمان ان کے اس اختلاف کی کیا توجیہ کرتے ہیں؟(واضح رہے کہ مجھے کسی خاص قسم کے گوشت کے کھانے یا نہ کھانے سے دل چسپی نہیں ہے بلکہ میں اس تضاد کو رفع کرانا چاہتا ہوں جو کتب آسمانی میں پایا جاتا ہے یا مجھے محسوس ہوتا ہے)۔

(۳ا) تبلیغ کے لیے اسلام کے جوش کو کس طرح حق بجانب ٹھیرایا جاسکتا ہے جب کہ قرآن کہتا ہے کہ مختلف اُمتوں کے لیے خدا نے مختلف طریقے مقرر کیے ہیں اور وہ سب طریقے خدا ہی کے ہیں؟

(۴ا) کیا عالم طبیعی کے متعلق انسان کا روز افزوں علم (بذریعہ طبیعات، کیمیا، ہیئت وغیرہ) انسان کو قرآن زیادہ اچھی طرح سمجھنے کے قابل بنا دیتا ہے؟

قرآن جگہ جگہ یہودی اور مسیحی کتب کوالہامی کتابوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے مگر بائبل کے بہت سے علما اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کتابیں محض تاریخی دستاویزیں ہیں جن میں سے بعض کو ایک سے زیادہ مصنفوں نے تیار کیا ہے اور ان کے اندر الہامی ہونے کی شہادت کم ہی ملتی ہے۔اب کیا قرآن ان کتابوں کے معاملے میں وحی والہام کو کسی مخصوص معنی میں استعمال کرتا ہے؟کیا بائبل کے علما کی رائے غلط ہے؟یا ہم یہ فرض کریں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کی کتب مقدسہ میں کوئی تغیر ہوگیا ہے؟