رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کیا جنّ انسانوں ہی کی ایک قسم ہے؟
سوال: یہ بات غالباً آپ کے علم میں ہوگی کہ قرآن کے بعض نئے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن میں جن وانس سے مراد دو الگ الگ قسم کی مخلوق نہیں ہے، بلکہ جنوں سے مراد دیہاتی اور انسانوں سے مراد شہری لوگ ہیں۔ آج کل ایک کتاب’’ابلیس وآدم‘‘زیر مطالعہ ہے۔اس میں دیگر جملہ دور ازکار تاویلات سے قطع نظر ایک جگہ استدلال قابل غور معلو م ہوا۔مصنف لکھتے ہیں: ’’سورۂ اعراف( ۷) کی آیت میں بنی آدم سے کہا گیا ہے کہ رسول تم میں سے (مِنْکُمْ) آئیں گے اور سورہ انعام(۶) کی آیت میں جن وانس کے گروہ سے کہا گیا ہے کہ رسول تم میں سے (مِنْکُمْ)آئے تھے۔ قرآن کریم میں جنات(آتشیں مخلوق) کے کسی رسول کا ذکر نہیں۔ تمام رسولوں کے متعلق حصر سے بیان کیا ہے کہ وہ انسان بنی آدم تھے اور انسانوں میں سے مرد۔ اس لیے جب’’گروہ جن وانس‘‘سے کہا گیا کہ تم میں سے(مِنْکُمْ) رسول آئے تھے، تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ’’گروہِ جن وانس‘‘ سے مقصود بنی آدم ہی کی دو جماعتیں ہیں۔ اس سے انسانوں سے الگ کوئی اور مخلوق مراد نہیں ہے۔‘‘ براہِ کرم واضح کریں کہ یہ استدلا ل کہاں تک صحیح ہے۔ اگر جن کوئی دوسری مخلوق ہے اور اس میں سے رسول نہیں مبعوث ہوئے تو پھر مِنْکُمْ کے خطاب میں وہ کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟
جواب: جنوںکے بارے میں آیت اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ الزمر71:39 کی نقل کردہ تفسیر سے آپ کے ذہن میں جو اُلجھن پیدا ہوگئی ہے ،اس کو آپ خود حل کرسکتے ہیںاگر دو باتوں پر غور کریں:
اوّل یہ کہ اگر دو گروہوں کو ایک مجموعے کی حیثیت سے خطاب کیا جارہا ہو اورکوئی ایک چیز ان میں سے کسی ایک گروہ سے متعلق ہو، تو اس مجموعی خطاب کی صورت میں کیا اس چیز کو پورے مجموعے کی طرف منسوب کرنا غلط ہے؟ اگر کسی عبارت میں اسے مجموعے کی طرف منسوب کردیا گیا ہو تو کیا اس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہوگا کہ یہ سرے سے دو گروہوں کا مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک گروہ ہے؟ فرض کیجیے کہ ایک مدرسے میں کئی کلاسیں ہیں اور قصور ان میں سے ایک کلاس نے کیا ہے۔مگر ہیڈ ماسٹر تادیباً تما م کلاسوں کو اکٹھا کرکے ان سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ’’اے مدرسے کے بچو!تم میں سے کچھ لڑکوں نے یہ قصور کیا ہے‘‘، تو کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اس مدرسے میں سرے سے کلاسیں ہیں ہی نہیں بلکہ ایک ہی کلاس پائی جاتی ہے ؟اگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے تو نقل کردہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے۔اﷲ تعالیٰ جن اور انس کے مجموعے کو خطاب فرما رہا ہے۔اس مجموعے میں سے ایک گروہ کے اندر انبیا آئے ہیں۔لیکن انبیا نے تبلیغ دین دونوں گروہوں میں کی ہے اور ان پر ایمان لانے کے لیے دونوں گروہ مکلف ہیں۔ اس لیے دونوں گروہوں سے مجموعی خطاب کرتے ہوئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ تم میں سے انبیا آئے ہیں۔ محض اس طرز خطاب سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ یہ دونوں گروہ الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب قرآن مجید متعدد مقامات پر صاف صاف یہ بتا چکا ہے کہ جن اور انس دو بالکل الگ قسم کی مخلوق ہیں، تو پھر محض اَ لَمْ یَاْتِکُمْ سے یہ مفہوم نکالنا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا کہ جن بھی انسانوں ہی میں سے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات کولیجیے:
(۱) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍo وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِo الحجر 26-27:15
’’ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی پختہ مٹی سے پیداکیا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے آگ کی لپٹ سے پیداکیاتھا۔‘‘
(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِo وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍo
الرحمن55: 14-15
’’انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجتی ہوئی پختہ مٹی سے پیدا کیا اور جنوں کو آگ کی لپٹ سے۔‘‘
(۳) وَجَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ الانعام 100:6
’’اور لوگوں نے اﷲ کے لیے جن شریک ٹھیرا لیے۔‘‘
(۴) وَّاَنَّہٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ الجن 6:72
’’اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگو ں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔‘‘
(۵) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۰ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ الکہف 50:18
’’ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ سجدہ کرو آدم کو، تو انہوں نے سجدہ کیا،مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا اور وہ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گیا۔‘‘
(۶) قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ۰ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍo الاعراف 12:7
’’اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔‘‘
(۷) يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَـمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ….. اِنَّہٗ يَرٰىكُمْ ہُوَوَقَبِيْلُہٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۰ۭ الاعراف 27:7
’’ اے بنی آدم! شیطان ہرگز تمہیں اس طرح فتنے میں نہ ڈالنے پائے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا… وہ اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔‘‘
(۸) يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً۰ۚ النسائ 1:4
’’اے انسانو! ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں(دنیا میں) پھیلا دیں۔‘‘
(۹) وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍo فَاِذَا سَوَّيْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِيْہِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِيْنَo فَسَجَدَ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ كُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَo اِلَّآ اِبْلِيْسَ۰ۭ اَبٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَo الحجر15:28-31
’’اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں سڑی ہوئی مٹی کے پختہ گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ تو جب میں اسے پورا پورا بنا دوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ پس ملائکہ سب کے سب سجدہ ریز ہوگئے، بجز ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوںمیں شامل ہونے سے انکار کردیا۔‘‘
ان آیات سے چند باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں:
اوّل یہ کہ انسان،بشر،الناس اور بنی آدم قرآن میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اولاد آدم کے سوا قرآن مجید کسی انسانی مخلوق کا قطعاًذکر نہیں کرتا۔ اس کی رو سے نہ کوئی انسان آدم سے پہلے موجود تھا اورنہ آدم کی اولاد کے ماسوا دنیا میں کبھی انسان پایا گیا ہے یا اب پایا جاتا ہے۔ یہ نوع آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی ہی سے پیدا ہوئی ہے اور اس کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے۔
دوم یہ کہ جن ایک دوسری نوع ہے جس کا مادۂ تخلیق ہی نوع انسانی سے مختلف ہے۔ نوع انسانی مٹی سے بنی ہے اور نوع جن آگ سے،یا آگ کی پھونک سے۔
سوم یہ کہ نوع جن نوع انسان کی تخلیق سے پہلے موجود تھی ۔اس نوع کے نمائندہ فرد کو نوع انسانی کے پہلے فرد کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس نے انکار کردیا تھا ۔اس کا استدلال یہ تھاکہ میں من حیث النوع اس سے افضل ہوں، کیوں کہ میں آگ سے پیداکیا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔
چہارم یہ کہ جن ایسی مخلوق ہے جو انسان کو دیکھ سکتی ہے مگر انسان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔
پنجم یہ کہ مشرکین اپنی جہالت کی بِنا پر اس مخلوق کو خدا کا شریک ٹھہراتے اور اس کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
کیا اتنی تصریحات کے بعد بھی یہ کہنے کی گنجایش باقی رہ جاتی ہے کہ محض اَ لَمْ یَاْتِکُمْ مِّنْکُمْ کا خطاب جنوں اور انسانوں کو ایک نوع قرار دینے کے لیے کافی دلیل ہے؟ آخر وہ کون سے دیہاتی یا جنگلی یا پہاڑی انسان ہیں جو اولادِ آدم سے خارج ہیں اور مٹی کے بجائے آگ سے پیداکیے گئے ہیں؟ جو آدم علیہ السلام کی پیدایش سے پہلے پائے جا تے تھے؟ جنہیں انسان نہیں دیکھ سکتا اور وہ انسان کو دیکھ سکتے ہیں؟جنہیںمشرک انسانوں نے کبھی اپنا معبود بنایا ہے اور اﷲ کا شریک ٹھہراکر ان سے تعوُّذکیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی بے تکی تاویلیں صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو قرآن کی پیرو ی کرنے کے بجائے اس سے اپنے خیالات کی پیروی کرانا چاہتے ہیں۔ (ترجمان القرآن،فروری ۹۶۲اء)