رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فرضیت حج کی تاریخ:
اس عبارت کا منشا سمجھنے میں آپ کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آتی اگر معترضین نے آپ کے دل کو شک وشبہ کی بیماری نہ لگا دی ہوتی،اور آپ خود بھی کچھ عقل سے کام لیتے۔عبارت یہ ہے کہ’’فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۸ ہجری میں قدیم طریقے پر ہوا۔‘‘اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے یہ حج قدیم طریقے پر کیا؟پھر وہ سوالات جو اس عبارت پر آپ نے کیے ہیں ،آخر کہاں سے پیدا ہوگئے؟آپ سیرت پاکؐ کے موضوع پر کوئی کتاب بھی اٹھا کر دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ مکہ معظمہ رمضان ۸ ہجری میں فتح ہوا۔ دوسرے ہی مہینے حنین اور طائف کے معرکے پیش آئے جن سے ذی القعدہ ۸ ہجری کے وسط میں حضورؐ فارغ ہوئے اور عمرہ کرکے حج کیے بغیر اپنے اصحاب کے ساتھ مدینے واپس تشریف لے گئے۔اس وقت یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حج کے قدیم طریقے کو جو صدیوں سے زمانۂ جاہلیت میں رواج پاچکا تھا،اور جس کے مطابق حج کرنے کے لیے ہزاروںلاکھوں مشرکین مکہ میں جمع ہوچکے تھے یا عنقریب جمع ہونے والے تھے،یک لخت بدل ڈالا جاتا۔ اگر اس وقت ایساکیا جاتا تو حنین کے معرکے سے کئی گنا زیادہ شدید معرکہ مسجد الحرام کے حدود میں پیش آجاتا۔اس لیے اس سال جاہلیت کے طریقوں سے کوئی تعرض نہ کیا گیا اور حج جس طرح پہلے ہوتا تھا،اسی طرح ہونے دیا گیا۔ [یہ صرف تاریخی واقعات سے میرا استنباط ہی نہیں ہے بلکہ نبی کریمؐ کے قدیم ترین سیرت نگار ابن ہشام نے اِس کی تصریح بھی کی ہے۔ وہ ۸ ہجری کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وحج الناس تلک السنۃ علٰی ما کانت العرب تحج علیہ ’’اِس سال لوگوں نے اسی طریقے پر حج کیا جس پر اہل عرب کیا کرتے تھے۔‘‘( جلد ۴،صفحہ ۴۴ا) ]
دوسرے سال ۹ ہجری میں آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو حج کے موقع پر بھیجا اور اعلان کردیا کہ:
لَا یَحُجَّنَّ بعد عا مِنا ھذا مُشْرِکُ لا یُطْوفَنَّ بالبیتِ عُرْیانٌ۔
’’اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرنے پائے اور نہ کوئی شخص برہنہ طواف کرے۔‘‘
یہ اعلان قرآن مجید کے اس حکم کی بنیاد پر تھا کہ
اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۰ۚ التوبہ 28:9
’’مشرکین تو نجس ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘
تیسرے سال ۰ا ہجری میں اس حکم کی تعمیل کی گئی اور نبیؐ نے خود تشریف لے جاکر حج کے خالص اسلامی طریقے کو ہمیشہ کے لیے قائم فرما دیا۔
آپ کا یہ سوال کہ حج کس سال فرض ہوا؟اس کا جواب یہ ہے کہ محققین کے نزدیک وہ ۹ ہجری یا ۱۰ ہجری کے آغاز میں فرض ہوا ہے،اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صحیحین میں بنی عبدالقیس کے وفد کی حاضری کا جو قصہ آیا ہے،اس میں نبیؐ نے ارکان اسلا م بیان کرتے ہوئے صرف چار ارکان کا ذکر فرمایا ہے،حج کا ذکر نہیں فرمایا۔یہ وفد بالاتفاق ۹ ہجری میں غزوۂ تبوک کے بعد حاضر ہوا تھا(زادالمعاد،جلد اوّل صفحہ ۲۴۶، جلد دوم صفحہ ۳۴-۳۹)۔لیکن چوں کہ اس سال جاہلیت کے رواج ’’نسی‘‘ کی وجہ سے حج ذی القعدہ میں پڑتا تھا، اور مشرکین کے ساتھ حج کرنا بھی نبیؐ کے شایان شان نہ تھا، اس لیے آپؐ خود حج کے لیے تشریف نہ لے گئے اور حضرت ابو بکرؓ و علیؓ کو بھیجا تاکہ جاہلیت کے طریقوں کی تنسیخ کا اعلان فرمادیں۔حج کے اسلامی حکام کی تشریح وتوضیح اور عملی تعلیم ۰ا ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہی ہوئی ہے۔