رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
منسوخ احکام پر عمل:
اس مضمون کا حوالہ آپ نے غلط دیا ہے۔اوّل تو اکتوبر،نومبر ۵۵ء کا کوئی یک جائی نمبر شائع ہی نہیں ہوا تھا۔ دوسرے یہ مضمون نہ اکتوبر کے پرچے میں ہے،نہ نومبر کے پرچے میں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص سے آپ نے یہ اعتراض سن کر اپنی فہرست میں درج فرما لیا ہے،اسے خود صحیح حوالہ معلوم نہ ہوگا۔دراصل یہ مضمون رسائل ومسائل حصہ دوم میں صفحہ ۱۱۵ پر درج ہے۔ وہاں اس شبہ کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو نسخ کامسئلہ سن کر ایک عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔عام طورپر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جن آیات کا حکم منسوخ ہوچکا ہے،ان کی قرآن میں اب کیا ضرورت ہے؟کیوں نہ ان کی تلاوت بھی منسوخ ہوگئی؟ اس کو رفع کرنے کے لیے میں نے قرآن میں ان احکام کے باقی رہنے کی حکمت یہ بتائی ہے کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آجائے جن میں وہ احکام دیے گئے تھے تو ہم ان پر عمل کرسکتے ہیں۔ مثلاً کسی ملک میں مسلمان اس طرح کے حالات سے دوچار ہوں جو مکی زندگی میں نبیؐ اور آپ کے اصحاب کو پیش آئے تھے، تو مکی دور کی تعلیم صبر وتحمل پر عمل کیا جائے گا نہ کہ مدنی دور کی تعلیم جہاد وقتال پر، حالاں کہ بیش تر مفسرین نے احکام قتال سے مکی دور کی ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس حالت میں مسلمان ان بہت سے احکام وقوانین کی پابندی سے معاف رکھے جائیں گے جو مدنی دور میںنازل ہوئے اور جن پر عمل درآمد اسلامی حکومت کی موجودگی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ آپ کا یہ سوال کہ منسوخ شدہ احکام کو پھرسے مشروع کون سا شارع کرے گا، تنہا میری طرف راجع نہیں ہوتا بلکہ ان تمام علما کی طرف راجع ہوتا ہے جو ابھی چند سال پہلے تک انگریزی دور میں مکی آیات سے قومی طرز عمل کے لیے رہنمائی حاصل کرتے تھے اور مدنی دور کے احکام جنگ اور حدود اﷲ کے اجرا کو ملتوی قرار دیتے تھے۔