مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حدیث اور توہین صحابہ:

سوال: بخاری( کتاب الانبیاء) میں حضرت ابن عباسؓ کی روایت کا ایک حصہ یہ ہے:

وان اُناسا من اصحابی یوخذ بہم ذات الشمال فاقول اصحابی اصحابی فیقول انہم لم یزالوا مرتدین علٰی اعقابہم منذ فارقتھم فاقول ما قال العبد الصالح وکنت علیہم شھیدًا ما دمت فیھم (الی قولہ) الحکیم۔

’’جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ قیامت کے دن ’’میرے بعض اصحاب‘‘کو بائیں طرف سے گرفتارکیا جائے گا تو میں کہوں گا(انھیں کچھ نہ کہو) یہ تو میرے اصحاب ہیں،یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ جواب ملے گا کہ تیری وفات کے بعد یہ لوگ الٹی چال چلے۔ اس کے بعد میں حضرت عیسیٰؐ کی طرح کہوں گا کہ خداوندا! جب تک میں ان میں موجود رہا،ان کے اعمال کا نگران رہا لیکن جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان کا رقیب تھا۔‘‘

اس روایت سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین اور تحقیر مترشح ہوتی ہے۔کیا یہ روایت صحیح ہے؟

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسولؐ اﷲ کے صحابہ کرام میںسے کچھ تعدادایسے لوگوں کی بھی ہے جنہیں مجرم کی حیثیت سے فرشتے قیامت کے دن بائیں طرف سے گرفتار کریں گے اور یہ کہ انہوں نے دنیاکی زندگی میں سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپؐ کے طریقے کو چھوڑ کر غلط روش اختیار کی۔

اصحاب سے مراد جناب کے صحابہؓ ہی ہیں،اس کے قرائن یہ ہیں :

(ا) لفظ اصحاب خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جنہوں نے آپ کی زندگی میں ایمان کے ساتھ آپ سے تعاون کیا اور آپ کی رفاقت اختیار کی،انہیں اصحاب کا لقب دیا گیا۔

(۲) ایک روایت میں خود حضورؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ(اے جماعت صحابہ!) تم میرے اصحاب ہو اور جو اہل ایمان تمہارے بعد آنے والے ہیں،ہمارے اخوان ہیں۔

(۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعینکی فضیلت، بزرگی اور منقبت کے سلسلے میں جو روایات آئی ہیں،ان میں بھی اصحاب کا اطلاق صحابہ کرام پر ہے ۔

(۴) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احتجاج پر فرشتے جواباً عرض کریں گے کہ ’’آپ کے جدا ہوجانے کے بعد ان لوگوں نے آپ کے طریقے کو چھوڑ دیا اور اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرلیے۔ حدیث ’’لا تدری ما احدثوا بعد ک‘‘(مشکوٰۃ) کے الفاظ اس پر شاہد ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب تک آپؐ زندہ رہے تو یہ لوگ آپ کے وفادار ساتھی کی طرح آپؐ کے دین کے پیرو کار رہے، لیکن جوں ہی آپ نے اس عالم ناسوت کو چھوڑا تو انہوں نے پھر دین میں رخنے ڈالنے شروع کیے۔

(۵) پھر آنجناب حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح معذرت فرمائیں گے۔

ان قرآنی الفاظ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ معاملہ حضور ؐ کے اصحاب کا ہے۔

جواب: امام بخاریؒ نے یہ حدیث کتاب الانبیاء میں دو جگہ ابن عباسؓ کے حوالے سے روایت کی ہے۔ ایک باب قول اللہ تعالیٰ ’’واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلًا‘‘میں، دوسرے باب ’’واذکر فی الکتاب مریم‘‘ میں۔ اس کے علاوہ اسی مضمون کی متعدد احادیث انہوں نے کتاب الرقاق باب فی الحوض میں انس بن مالک، سہل بن سعد، ابو سعید خدری اور ابوہریرہؓ سے نقل کی ہیں۔ ان سب کو جمع کرنے سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:

(۱) یہ معاملہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو نبیؐ کے عہد میں اصحاب کے زمرے میں شمار ہوتے تھے مگر آپؐ کے بعد مرتد ہوگئے۔چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ انہم لن یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتھم (یہ آپ کے جدا ہونے کے بعد اُلٹے پلٹ گئے تھے اور پلٹے رہے،یعنی مرتد ہونے کے بعد پھر انہوں نے توبہ نہ کی)۔ دوسری روایت میں ہے کہ انہم ارتدوا علی اعقابہم القہقریٰ،اوعلی ادبارھم القہقریٰ (وہ اُلٹے پھر گئے تھے، یعنی جس کفر سے آئے تھے،اسی کی طرف واپس چلے گئے)۔

(۲) یہ معاملہ ان لوگوں سے بھی متعلق ہے جنہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے عہد میں اسلام تو قبول کرلیا تھا مگر بعد میں بُری روش اختیار کرلی۔ چنانچہ متعدد روایات میں ہے کہ لا تدری ما احدثوا بعدک اور اِنَّکَ لا علم لک بما احدثوا بعدک۔ (آپ نہیں جانتے کہ آپؐ کے بعد انہوں نے کیا کچھ کیا)۔

دونوں صورتوں میں معاملہ بعض اصحاب سے متعلق ہے نہ کہ تمام اصحاب سے۔ ظاہر ہے کہ حضورؐ کے زمانے میں جن لاکھوں آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا،وہ آپ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ مگر انہی میںسے کچھ لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے فتنۂ ارتدادمیں حصہ لیا اور اسی حالت میں جان دے دی۔ اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ ان میں کچھ لوگ ایسے ہوں جنہوں نے منافقانہ اسلام قبول کیا ہو اور اپنے نفاق کو چھپائے رکھاہو۔ اپنے اصحاب میں ایسے لوگوں کی موجودگی کا امکان فرض کرکے اگر آپؐ نے کچھ باتیں بطور تنبیہ ارشاد فرمائی ہوں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے اور اس سے تمام صحابہ پر کوئی حرف نہیں آتا۔مذکورۂ بالا احادیث دراصل اسی تنبیہ کے قبیل سے ہیں اور ان سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان کی حفاظت نہ کریں گے یا کبائر میں مبتلا ہوں گے،انہیں آخرت میں محض شرفِ صحبت خدا کی گرفت سے نہ بچا سکے گا۔

(ترجمان القرآن۔ جمادی الاخریٰ ۳۷۵اھ،فروری ۹۵۶اء)