رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فرعون موسیٰ ایک تھا یا دو؟
سوال: میں تفسیر قرآن کے سلسلے میں اپنا ایک شبہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ترجمان جنوری ا۹۶اء میں سورۂ قصص کی تفسیر کرتے ہوئے جناب نے میرے خیال میں اسلاف مفسرین کے خلاف حضرت موسیٰ ؑ کے بالمقابل ایک کے بجائے دو فرعون قرار دیے ہیں، حالاں کہ قرآن کے متعلقہ مقامات کا مطالعہ کرنے سے فرعون سے مراد ایک ہی شخصیت معلوم ہوتی ہے۔ جس فرعون کی طرف حضرت موسیٰ ؑبھیجے گئے،یہ وہی فرعون ہے جو انکارِ دعوت کے بعد غرق ہوا۔اسی طرح فرعون کی بیوی کا حضرت موسیٰ ؑکو پرورش کرنا بھی قرآن میں مذکور ہے، اور پھر انہی خاتون کے اسلام لانے پر ان کا فرعون کے ہاتھوں ستایا جانا بھی معلوم ہوتاہے۔ کیوں کہ انہوں نے فرعون سے نجات پانے کے لیے دعا مانگی تھی۔
میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کس بِنا پر غرق ہونے والے فرعون کو اس فرعون سے جدا سمجھا ہے جس کے گھر میں حضرت موسیٰ ؑپالے گئے تھے؟
جواب: ’’فرعون‘‘ مصر کے بادشاہوں کا ایک خاندانی لقب تھا۔ فرعونِ موسیٰ کے بارے میں بنی اسرائیل کی متفقہ روایات یہ ہیں کہ وہ دو تھے۔ جدید تاریخی تحقیقات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ اور عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ دو ہوں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ ؑپچاس سال کی عمر میں نبی ہو کر فرعون کے دربار میں پہنچے ہیں اور تیس سال کی کش مکش کے بعد آخر کار فرعون غرق ہوا ہے اور بنی اسرائیل ملک سے نکلے ہیں۔ گویا اس وقت حضرت موسیٰ ؑکی عمر ۸۰ برس تھی۔ا ب یہ بات کم ہی قرین قیاس ہے کہ یہ وہی فرعون ہوجس کے گھر میں حضرت موسیٰ ؑنومولود کی حیثیت سے پہنچے تھے اور جس کی بیوی نے ان کو متبنّٰی بنایا تھا۔ مؤخر الذکر خیال کی تائید میں جو آیتیں پیش کی جاتی ہیں، وہ اس باب میںصریح الدلالت نہیں ہیں۔ مثلاًان میں سے ایک آیت وہ ہے جس میں فرعون کا قول منقول ہوا ہے کہ اَ لَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدً ا ’’ کیاہم نے تجھے بچہ سا اپنے گھر میں نہیں پالا تھا؟‘‘ لیکن کیا باپ کے ہاں پرورش پائے ہوئے آدمی سے بیٹایہ بات نہیں کہہ سکتا کہ تجھے ہم نے اپنے ہاںپالا ہے؟ اسی طرح سورۂ قصص میں جس امرأۃ فرعون کا ذکر ہے،بعض کے خیال میں وہ لازماً وہی ہونی چاہیے جس کا ذکر سورۂ تحریم میں آیا ہے۔ لیکن ان دونوں کے دو الگ شخصیتیں ہونے میں آخر کیا چیز مانع ہے؟قرآن مجید میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے کہ فرعون کی جو بیوی حضرت موسیٰ ؑپر ایمان لائیں، وہ وہی تھیں جن کے سامنے حضرت موسیٰ ؑٹوکری میں تیرتے ہوئے شیر خوار بچے کی حیثیت سے پہنچے تھے اور جنہوں نے ان کو قتل سے بچا کر بیٹا بنا لیا تھا۔
(ترجمان القرآن،فروری ا۱۹۶ء)