مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا آیت رجم قر آن کی آیت تھی؟

سوال: آپ نے رسائل ومسائل حصہ دوم میں’’ نسخ قرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آیتِ رجم توریت کی ہے،قرآن کی نہیں۔‘‘ میں حیران ہوں کہ آپ نے ایک ایسی بات کا انکشاف کیا ہے جو صاف تصریحات کے خلاف ہے۔ سلف سے خلف تک تمام علما ئے اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کی بعض آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت تو منسوخ ہے لیکن حکم ان کا باقی ہے:

وَالنَّسْخُ قَدْ یَکُوْنُ فِی التِّلَاَ وَۃِ مَعَ بَقَائِ الْحُکُمِ

(احکام القرآن للجصاص، جلد اوّل، صفحہ ۶۷)

اب میں وہ دلائل عرض کروں گا جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ’’آیت رجم‘‘ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پراتری اور وہ قرآن کی آیت تھی:

۱۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور زید بن خالدؓ کی روایت میں ہے جب دو آدمی زنا کا کیس لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’بخدا میں تمہارا فیصلہ کتاب اﷲ کے مطابق کروںگا۔‘‘ پھر آپ ؐ نے شادی شدہ زانیہ کے لیے رجم کی سزا تجویز کی۔(مؤطا امام مالک صحیح بخاری، باب الاعتراف بالزنا)۔ ظاہر ہے کہ کتاب اﷲ سے مراد قرآن مجید ہے۔

۲۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ نے جناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب اتاری۔ رجم کی آیت بھی اس کتاب میں تھی جسے اﷲ نے اُتارا۔ ہم نے اس(آیت رجم) کو پڑھا، سمجھا اور یاد رکھا۔ حضور ؐ نے رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد مجھے ڈر لگتا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ کتاب اﷲمیں تو رجم کی آیت نہیں ہے اور خدا کے نازل کردہ فریضے کو چھوڑنے کی وجہ سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہو جائیں، حالاں کہ اﷲ کی کتاب میں رجم ثابت ہے۔‘‘

(بخاری،رجم الحبلٰی من الزنا اذا احصنت)

۳۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: خبردار، آیت رجم کا انکار کرکے ہلاکت میں نہ پڑنا کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ہم زنا کی دونوں حدوںکو کتاب اﷲ میں نہیں پاتے۔ جناب رسول اﷲؐ نے رجم کی سزا دی اور ہم نے بھی یہ سزا دی۔ خدا کی قسم! اگر مجھے اس الزام کا اندیشہ نہ ہوتا کہ عمر بن الخطاب نے کتاب اﷲ میں زیادتی کی ہے تو میں یہ آیت (قرآن میں) لکھ دیتا: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَاْرِجُمْو ھُمَا اَلْبَتَّۃَ (بوڑھا اور بوڑھی جب زنا کریں تو دونوں کو ضرور رجم کر دو)۔ بے شک یہ ایک ایسی آیت ہے جسے ہم نے پڑھا۔

(مؤطا امام مالک، با ب الزانی المحصن یرجم)

۴۔ علامہ آلوسیؒ اپنی مشہور تفسیر میں لکھا ہے: وَنَسْخُ الْاًیۃِ عَلٰی مَا ارْتَضَاہٗ بَعْضُ الْاُصُوْلِیّیْنَ ۔ بَیَانُ اِنْتِھَائِ التَّعَبُّدِ بِقَرْا ئْ تِھَا کَاَتۃٍ (اَلشَّیْخُ والشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجِمُوْھُمَا نَکَالاً مِنَّ اللّٰہ وِاللّٰہُ عَزْیزْ حَکِیْمٌ)۔ (روح المعانی، جلد اوّل، صفحہ ۵ا۳)

احکام القرآن سے نسخ کا جو نظریہ میں نے نقل کیا ہے، وہ ذہن کو اُلجھن میں ضرور ڈالتا ہے کیونکہ جس آیت کا حکم باقی ہو ،اس کے منسوخ التلاوۃ قرا ر دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ مندرجہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت رجم جناب رسول اﷲؐ پر نازل ہوئی اور وہ قرآن کی آیت ہے۔ لیکن وہ قرآن کے مجموعے میں نہیں پائی جاتی۔ کیوں؟ یہ ایک ناقابل حل معما ہے جس نے مجھے بے حد پریشان کررکھا ہے۔ امید ہے کہ آپ میری ان قرآنی الجھنوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ براہ عنایت ذرا تفصیل سے روشنی ڈالیے۔ اگر آپ میرے دلائل آپ کو اپیل کریں تو رسائل و مسائل کی مندرج عبارت کو آپ بدل دیں۔‘‘

جواب: بلاشبہ یہ بات متعدد روایات میں آئی ہے کہ آیت رجم قرآن کی آیت تھی۔ لیکن مجھے اس بات کو قبو ل کرنے سے جن وجوہ سے تأمل ہے،وہ یہ ہیں:

۱۔ جن روایات میں اس آیت کا ذکر آیا ہے،ان کوجمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے الفاظ میں نمایاں اختلاف ہے۔کسی میں… البتۃ کا لفظ ہے اور کسی میں نہیں ہے۔ کسی میں البتۃ پر آیت ختم ہوگئی ہے، کسی میں البتۃ کے بعد نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ کے الفاظ ہیں، اور کسی میں اس کے بجائے بِمَا قَضَیَا مِنَ اللَّذَّۃِ کے الفاظ۔ اگر یہ واقعی قرآن کی آیت تھی، لوگوں کو یاد تھی اور سزائے رجم کے حق میں نص کی حیثیت رکھتی تھی تو اس کے الفاظ نقل کرنے میں یہ اختلاف کیسا ہے؟

۲۔ سنت سے جو حکم بتواتر ِ معنی ثابت ہے وہ کچھ اور ہے اور آیت کے صریح الفاظ سے جو حکم نکلتا ہے وہ کچھ اور۔ سنت سے جو چیز ثابت ہے وہ تو یہ ہے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کا ارتکاب کرے تو اسے رجم کیا جائے خواہ وہ جوان ہو یا سن رسیدہ۔ بخلاف اس کے آیت سے جو حکم نکلتا ہے،وہ یہ ہے کہ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت سے جب زنا کاصدور ہو تو اس کو رجم کیا جائے، خواہ وہ شادی شدہ ہو، یا نہ ہو۔ اس طرح یہ روایات سنت ثا بتہ قطعیہ کے خلاف پڑتی ہیں۔ اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے بعض بزرگوں نے شیخ کو ثیب اور شیخہ کو ثیبہ کا ہم معنی قرار دینے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ قطعاً ایک من مانی تاویل ہے۔ عربی زبان کی لغت،محاورات،استعمالات، حتیٰ کہ استعارات وکنایات تک میں اس امر کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ شیخ اور شیخہ کے الفاظ سے ثیب اور ثیبہ مراد لیے جاسکیں۔

۳۔ خود آیت کے الفاظ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَازَ نَیَا فَارْ جِمُوْ ھُمَا اَلْبَتَّۃَ قرآن کے معیار فصاحت سے اس قدر فرو تر ہیں کہ ذوق زبان یہ باور نہیں کرتا کہ اﷲتعالیٰ نے یہ الفاظ قرآ ن میں نازل فرمائے ہوں گے۔

۴۔ کوئی مرفوع روایت ایسی موجود نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ نبیؐ نے اس کی تلاوت منسوخ کرنے اور مصحف سے اس کو خارج کردینے یا اس میں درج نہ کرنے کا حکم دیا ہو۔

۵۔ یہودیوں کے ہاں زنا کا جو مقدمہ پیش ہوا تھا،اس کا فیصلہ کرتے ہوئے حضورؐ نے تورات منگوائی تھی اور اس کی آیت کو فیصلہ ٔ رجم کی بنا قرار دیا تھا۔ مسلم اور ابو دائود میں ہے کہ حضورؐ نے اس مقدمے میں رجم کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَوَّلُ مَنْ اَحْیَا اَمْرْکَ اِذَا اَمَاتُوْہٗ (خدایا! میں پہلا شخص ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کررہا ہوںجب کہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا)۔

۶۔ جس مقدمے میں حضورؐ نے یہ فرما کر رجم کا فیصلہ صادر کیا تھا کہ ’’بخدا میں تمہارا فیصلہ کتاب اﷲ کے مطابق کروں گا‘‘ اس میں کہیں یہ مذکور نہیں ہے کہ حضورؐ نے آیت اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ کا حوالہ دیا ہو اور فرمایا ہو کہ یہ ہے کتاب اﷲ کا فیصلہ، اور اس کی تلاوت اگرچہ منسوخ ہے مگر اس کا حکم باقی ہے۔ لہٰذا حضورؐکا مذکورۂ بالا ارشاد لازماً اسی آیت کی طرف اشارہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ کتاب اﷲ کی رو سے چوں کہ آپؐ حاکم مجاز تھے، اس لیے آپؐ کا فیصلہ کتاب اﷲ ہی کا فیصلہ ہے۔ اور اس کی یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ یہودیوں کے مقدمے میں آپ ؐ نے تورات کے مطابق رجم کا جو حکم دیا تھا، اس کی توثیق بعد میں اﷲ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں فرما دی تھی۔ براءؓ بن عازب کی روایت ہے کہ اسی مقدمے کے متعلق سورۂ مائدہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جو یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِسے لے کر وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ المائدہ5:47 پر تمام ہوتی ہیں۔

(ملاحظہ ہو مسند احمد ،مسلم اور ابودائود)

۷۔ زنا بعد احصان کے لیے رجم کا قانون اپنے ثبوت کے لیے اس آیت کا محتاج نہیں ہے۔اسے ثابت کرنے کے لیے بجائے خود یہ بات ہی کافی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بیان فرمایا اور متعدد مقدمات میں اس کے مطابق فیصلہ کیا۔ پھر آپ ؐ کے بعد خلفائے راشدینؓ اسی پر عمل کرتے رہے اور ان کے بعد تمام فقہااور محدثین اس پر متفق رہے۔ یہ چیز جب ایک قانون کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے تو پھر ایک ایسی منسوخ التلاوۃ آیت ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے جو اگر ثابت ہو بھی جائے تو اس قانون کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔ اس لیے کہ یہ آیت رجم کی علت بڑھاپے میں زنا کے ارتکاب کو قرار دے رہی ہے اور جس قانون کے لیے اس کو حجت ٹھہرایا جاتا ہے، اس میں علتِ رجم شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا ہے۔

۸۔ یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس آیت کی صرف تلاوت منسوخ ہوئی ہے اور اس کا حکم باقی رہ گیا ہے۔ کیوں کہ جو حکم باقی رہا ہے،وہ یہ نہیں ہے کہ بوڑھا اور بوڑھی اگر غیر شادی شدہ ہوں تو رجم کیے جائیں۔بلکہ باقی رہنے والا حکم اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ غیر شادی شدہ مجرم اگر بوڑھا بھی ہو تو کوڑوں کی سزا کا مستحق ہے اور شادی شدہ مجرم اگر جوان بھی ہو تو اسے رجم کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں علامہ ابن ہمام کی یہ رائے بھی قابل غور ہے جسے علامہ آلوسی نے روح المعانی(جلد ۸ا،صفحہ ا۷) میں نقل کیا ہے:

’’یہ کہنا کہ(زانی محصن کے حق میں سورۂ نور کی آیت اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ کے حکم کو) منسوخ کرنے والی چیز سنت قطعیہ ہے، زیادہ صحیح ہے، بہ نسبت اس کے کہ آیت مذکورہ (الشیخ والشیخۃ) کو اس کا ناسخ قرار دیا جائے۔اس لیے کہ یہ بات قطعی طورپر ثابت نہیں ہے کہ یہ آیت قرآن میں نازل ہوئی تھی پھر اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی۔ اگر حضرت عمرؓ نے خطبے میں اس کا ذکر کیا اور لوگ خاموش رہے( جیسا کہ روایات میں بیان کیا جاتا ہے) تو یہ اس کاقطعی ثبوت نہیں ہے۔کیوں کہ اجماع سکوتی کا حجت ہونا مختلف فیہ ہے۔ اور وہ حجت ہو بھی تو ہم قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمام مجتہد صحابہؓ اس موقع پر موجود تھے۔ پھر اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت عمرؓ کی طرف اس روایت کی نسبت بھی ظنی ہے۔ اور یہی وجہ ہے ،و اﷲ اعلم،کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے جب شراحہ کو جلد اور رجم کی سزا دی تو کہا کہ میں نے اس کو کتاب اﷲ کے مطابق کوڑے لگوائے ہیں اور سنت رسول اﷲؐ کے مطابق رجم کرایا ہے۔اس قول میں حضرت علی ؓ نے رجم کے لیے منسوخ التلاوت آ یت قرآنی کو حجت میں پیش نہیں فرمایا۔‘‘

رہا نسخ تلاوت مع بقاء الحکم کا مسئلہ، تو اس میں شک نہیں کہ علمائے اُصول نسخ کی اس قسم کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ انتہائی غور کرنے پر بھی میں اس مسئلے کو نہیں سمجھ سکا ہوں۔ نسخ تلاوت کے لیے اگر موزوں ہوسکتی تھیں تو وہ آیتیں جن کا حکم منسوخ ہوچکا ہو نہ کہ کوئی ایسی آیت جس کا حکم باقی ہو۔ کوئی صاحب علم بزرگ اس مسئلے پر تشفی بخش بحث فرمائیں تو شکریے کے مستحق ہوں گے۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل ۳۷۵اھ۔ نومبر۹۵۵اء)