مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

زکوٰۃ اور مسئلۂ تملیک:

سوال: علمائے حنفیہ بالعموم ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیک شخصی کو لازم قرار دیتے ہیں۔اس لیے ان کا فتویٰ یہ ہے کہ حیلۂ تملیک کے بغیررفاہِ عام کے اداروں مثلاً مدارس اور شفا خانوں وغیرہ کے اجتماعی مصارف میں زکوٰۃدینا صحیح نہیں۔ اس پر ایک مستفسر نے بعض اشکالات وسوالات علمائے کرام کی خدمت میں پیش کیے تھے جو ترجمان القرآن محرم ۳۷۴اھ میں بھی شائع ہوئے تھے۔ سائل کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ فقہ حنفی میں تملیک کی جو شرط لگائی جاتی ہے اور اس کی بِنا پر جو فروعی احکام بیان کیے جاتے ہیں ،وہ صرف اسی صورت میں قابل عمل ہیں جب کہ لوگ انفرادی طور پر زکوٰۃ نکال کر انفرادی طور پر ہی اسے خرچ کریں۔ لیکن اجتماعی طور پر مثلاً اسلامی حکومت کے ذریعے سے اگر زکوٰۃ کی وصولی وصرف کا انتظام کیا جائے تو شرط تملیک اپنے جزوی احکام کے ساتھ ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔کیوں کہ زکوٰۃ کے نظام کو وسیع اور مستحکم کرتے ہوئے زکوٰۃ کی تقسیم وتنظیم،حمل ونقل اور متعلقہ ساز وسامان کی فراہمی میں بے شمار شکلیں ایسی پیدا ہوں گی جن میں شرط تملیک کی پابندی محال ہوگی۔ ان سوالات کا جو جواب دیا گیا تھا وہ درج ذیل ہے:

جس فتوے پر یہ سوالات کئے گئے ہیں،میرے نزدیک وہ آیت ’’اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ… الخ‘‘ کی اس تاویل کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے جو حنفیہ نے اختیار فرمائی ہے۔اس مطلب کو سمجھنے کے لیے آیت کے الفاظ پر ایک نگاہ ڈال لیں۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ

التوبۃ9: 60

’’صدقات تو فقرا کے لیے ہیں اور مساکین کے لیے،اور ان لوگوں کے لیے جو ان پر کام کرنے والے ہوں ،اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مقصود ہو…الخ‘‘

جواب: دیکھیے یہاں لام کا عمل صرف فقرائ ہی پر نہیں ہورہا ہے بلکہ مساکین ،عاملین علیہا اور مؤلفۃ قلوبہم پر بھی ہورہا ہے۔یہ لام تملیک کے لیے ہے تو،اور استحقاق یا اختصاص یا کسی اور معنی کے لیے ہے تو، بہرصورت جس معنی میں بھی یہ فقرائ سے متعلق ہوگا،اسی معنی میں باقی تینوں سے بھی متعلق ہوگا۔ اب اگر حنفی تاویل کے لحاظ سے وہ تملیک کا مقتضی ہے تو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا مال ان چاروں میں سے جس کے حوالے بھی کردیا جائے گا تملیک کا تقاضا پورا ہوجائے گا۔آگے تملیک در تملیک کا حکم کہاں سے نکالا جاتا ہے؟کیا فقیر یا مسکین کی ملک میں زکوٰۃ کا مال پہنچ جانے کے بعد اس کے تصرفات پر کوئی پابندی ہے؟ اگرنہیں تو عاملین علیہا کے ہاتھ میں مال پہنچ جانے کے بعد، جب کہ لام تملیک کا تقاضا پورا ہوچکا، پھر مزید تملیک کی پابندی لگانے کے لیے کیا دلیل ہے؟

لام کو اگر تملیک ہی کے معنی میں لیا جائے تو ایک شخص جب زکوٰۃ و صدقات واجبہ کے اموال عاملین علیہا کے سپرد کردیتا ہے تو گویا وہ انہیں اس کا مالک بنادیتاہے،اور یہ اسی طرح ان کی ملک بن جاتے ہیں جس طرح فے اور غنیمت کے اموال حکومت کی ملک بنتے ہیں۔پھر ان پر یہ لازم نہیں رہتا کہ وہ ان اموال کو آگے جن مستحقین پر بھی صرف کریں، بصورت تملیک ہی کریں۔ بلکہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ باقی ماندہ سات مصارف زکوٰۃ میں اس کو جس طرح مناسب اور ضروری سمجھیں صرف کریں۔ لا م تملیک کے زور سے ان پر کوئی قید نہیں لگائی جاسکتی۔البتہ جو قید لگائی جاسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ جو شخص بھی زکوٰۃ کی تحصیل وصرف کے سلسلے میں کوئی عمل کرے، وہ بس اس عمل کی اجرت لے لے۔ باقی مال اسے دوسرے مستحقین زکوٰۃ پر صرف کرنا ہوگا۔اس لیے کہ یہ لوگ عاملین علیہا ہونے کی حیثیت سے ان اموال کے مالک بنائے جاتے ہیں نہ کہ بجائے خود مستحق ہونے کی حیثیت سے۔’’عاملین علیہا‘‘کا لفظ خود اس وجہ کو ظاہر کردیتاہے جس کے لیے زکوٰۃ ان کے حوالے کی جاتی ہے ۔اور پھر یہی لفظ یہ بھی طے کردیتا ہے کہ وہ عامل ہونے کی حیثیت سے اس مال کا کتنا حصہ جائز طور پر اپنے ذاتی تصرف میں لانے کا حق رکھتے ہیں۔

اس تشریح کے بعد اس حدیث پر نگاہ ڈالیے جو امام احمدؒ نے حضرت انس ؓبن مالک سے روایت کی ہے۔ اس میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ’’اِذَا اَدَّیْتٌ الزَّکٰوۃَ اِلٰی رَسُوْلِکَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْھَا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ؟‘‘ ’’جب میں نے آپ ؐ کے بھیجے ہوئے عامل کو زکوٰۃ ادا کردی تو میں اﷲ اور اس کے رسول ؐ کے سامنے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوگیا نا؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:

نَعَمْ، اِذَا اَ دَّیْتَھَا اِلٰی رَسُوْلِیْ فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْھَا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَلَکَ اَجْرُھَا وَاِثْمُھَا عَلٰی مَنْ بَدَّلَھَا ۔

’’ہاں! جب تو نے اسے میرے فرستادہ عامل کے حوالے کردیا تو تو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے آگے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوگیا۔اس کااجر تیرے لیے ہے اور جو اس میں ناجائز تصرف کرے، اس کا گناہ اسی پر ہے۔‘‘

اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ زکوٰۃ دینے والا اپنی زکوٰۃ عاملین علیہا کے سپرد کرکے بری۱ لذمہ ہوجاتا ہے۔بالفاظ دیگر لام تملیک کا تقاضا جس طرح کسی فقیر یامسکین کو زکوٰۃدینے سے پورا ہوتا ہے، اسی طرح عاملین علیہا کو دے دینے سے بھی پورا ہوجاتا ہے۔اب یہ فتویٰ کس بنیاد پر دیا جاتا ہے کہ عاملین علیہا اگر آگے تملیک ہی کے طریقے پر اموال زکوٰۃ کو صرف کرتے ہوں تو انہیں زکوٰۃ دو ورنہ نہیں؟ زکوٰۃدینے والوں پر یہ دیکھنا کس نے فرض کیا ہے کہ عاملین کس طریقے پر عمل کرتے ہیں؟ان کا فرض صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ کے مستحقین کو، یا ان کے لیے کام کرنے والے عاملین کو اپنے اموال زکوٰۃ کا مالک بنادیں۔ عاملین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے ،وہ یہ کہ جس شخص کو اس حیثیت سے زکوٰۃ دی جارہی ہو ،اس کے بارے میں زکوٰۃدینے والا یہ اطمینان کرلے کہ وہ واقعی’’عامل‘‘ ہے یا نہیں؟ حکومت اسلامی موجود ہو اور اس نے عاملین زکوٰۃمقرر کیے ہوں تو ان کے پا س حکومت کی طرف سے تحصیل زکوٰۃ کا پروانہ موجود ہونا ہی اس ا طمینان کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر یہ صورت نہ ہواور مسلمانوں کو کسی اجتماعی تنظیم نے بطور خود زکوٰۃ کی تحصیل و صرف کا بندوبست کیا ہو تو اس کے بارے میں بس یہ تحقیق کرلینا چاہیے کہ وہ واقعی مستحقین زکوٰۃ پر اس مال کو صرف کرتی ہے، اور ’’عمل‘‘ کے مصارف اسی حد تک لیتی ہے جنہیں جائز ومعقول کہا جاسکے۔ تحقیق سے ان باتوں کا اطمینان ہوجائے تو اس کو زکوٰۃ دینے والا یقینا فرض سے سبک دوش ہوجائے گا۔ کوئی شرعی دلیل مجھے ایسی نظر نہیں آتی جس کی بِنا پر زکوٰۃدینے والوں کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ عاملین علیہا کو زکوٰۃ دینے سے پہلے یہ بھی تحقیق کریں کہ وہ اموال زکوٰۃ کو بطریق تملیک صرف کرتے ہیں یا نہیں؟

اب یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ’’عاملین علیہا ‘‘کے الفاظ جو قرآن میں ارشاد فرمائے گئے ہیں، ان کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے۔ لوگ اسے صرف ان کارندوں تک محدود سمجھتے ہیں جن کو حکومت اسلامی اس کام کے لیے مقرر کرے۔لیکن قرآ ن کے الفاظ عام ہیں جن کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوسکتا ہے جو زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کے سلسلے میں’’عمل‘‘کرے۔اس عام کو خاص کرنے والی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں ہے۔ اگر حکومت اسلامی موجود نہ ہو،یا ہو مگر اس فرض سے غافل ہو ،اور مسلمانوں میںکوئی گروہ یہ’’عمل‘‘ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو، تو آخر کس دلیل سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ نہیں تم’’ عاملین علیہا‘‘نہیں ہو؟ میرے نزدیک تو یہ اﷲ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے کہ اس نے عاملین حکومت کے لیے خاص کرنے کے بجائے اپنا حکم ایسے عام الفاظ میں دیا ہے جن میں یہ گنجایش پائی جاتی ہے کہ اسلامی حکومت کی غیر موجودگی، یا غافل حکمرانوں کی موجودگی میں مسلمان بطور خود بھی زکوٰۃ کی تحصیل وتقسیم کے لیے مختلف انتظامات کرسکیں۔ اگر اﷲ تعالیٰ کے اس عام حکم کو عام ہی رہنے دیا جائے تو غریب طلبہ کی تعلیم، یتیموں کی پرورش، بوڑھوں اور معذوروں اور اپاہجوں کی نگہداشت ،نادار مریضوں کے علاج،اور ایسے ہی دوسرے کاموں کے لیے جو ادارے قائم ہوں،ان سب کے منتظمین بالکل بجا طور پر ’’عاملین علیہا‘‘ کی تعریف میں آئیں گے اور ان کو زکوٰۃ لینے اور حسب ضرورت صرف کرنے کے اختیار ات حاصل ہوجائیں گے، اور ان حیلہ بازیوں کی کوئی حاجت باقی نہ رہے گی جو آج کل ہمارے عربی مدرسوں کے مہتمم حضرات زکوٰۃوصول کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔اسی طرح ایسے ادارے قائم کرنے کی بھی گنجایش نکل آئے گی جو خاص طور پر تحصیل وصرف زکوٰۃ ہی کے لیے قائم ہوں۔ان کے منتظمین بھی’’عاملین علیہا‘‘ قرار پائیں گے، اور صرف زکوٰۃ کے معاملے میں ان کے ہاتھ بھی تملیک کے فتوے سے باندھنے کی ضرورت نہ رہے گی۔

میرے نزدیک اگر قرآن کے الفاظ کی عمومیت نگاہ میں رکھی جائے تو صرف مذکورہ بالا عاملین ہی پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ دوسرے بہت سے کارکن بھی اس تعریف میں آتے ہیں۔ مثلاً:

ایک یتیم کا ولی، ایک بیماریا اپاہج کی خبر گیری کرنے والا،اور ایک بے کس بوڑھے کا نگہبان بھی ’’عامل ‘‘ہے۔ اسے زکوٰۃ وصول کرکے ان لوگوں کی ضروریات پر خرچ کا حق ہے، اور اس میں سے معروف طریقے پر اپنے عمل کی اجرت بھی وہ چاہے تو لے سکتا ہے۔

زکوٰۃ کی رقم اگر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی ضرورت پیش آئے تو اس میں سے ڈاک خانے یا بینک کی اجرت دی جاسکتی ہے۔کیوں کہ اس خدمت کو انجام دینے کی حد تک وہ بھی ’’عاملین علیہا‘‘ ہوں گے۔

زکوٰۃ وصول کرنے ،زکوٰۃ کے اموال ایک جگہ سے دوسری جگہ حسب ضرورت لے جانے،یا مستحقین زکوٰۃ کی مختلف ضروریات پوری کرنے کے لیے ریل، بس،ٹرک، تانگے،ٹھیلے وغیرہ جو استعمال کیے جائیں،ان کے کرائے مال زکوٰۃ سے دیے جا سکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ خدمات انجام دیتے وقت یہ سب ’’عاملین علیہا‘‘ میں ہی شمار ہوں گے۔

مستحقین زکوٰۃ کی خدمت کے لیے جس قدر بھی ملازم اور مزدور استعمال کیے جائیں گے،ان سب کی تنخواہیں اور اجرتیں زکوٰۃ کی مدسے دی جاسکتی ہیں، کیوں کہ وہ’’ عاملین علیہا‘‘ میں داخل ہیں۔قطع نظر اس سے کہ کوئی ریلوے اسٹیشن پر زکوٰۃ کے غلے کی بوریاں ڈھوئے، یا کوئی غریب مریضوں کی خدمت کے لیے گاڑی چلائے ،یا کوئی یتیم بچوں کی نگہداشت کرے۔

اب رہ جاتا ہے یہ سوال کہ آیا عاملین علیہا کے تصرفات پر کوئی ایسی پابندی ہے کہ وہ مستحقین زکوٰۃ کی خدمت کے لیے عمارات نہ بنوا سکیں اورا شیائے ضرورت مثلاً گاڑیاں،دوائیں، آلات، کپڑے وغیرہ نہ خرید سکیں؟ میں کہتا ہوں کہ حنفی تاویل آیت کے لحاظ سے یہ پابندی صرف زکوٰۃ ادا کرنے والے پر عائد ہوتی ہے۔وہ خود بلاشبہ ان تصرفات میں سے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فرمان کی رو سے زکوٰۃ’’ جن کے لیے‘‘ ہے، ان کی یا ان میں سے کسی کی ملک میں دے دے۔ رہے عاملین علیہا، تو ان پر اس طرح کی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ وہ تمام مستحقین زکوٰۃ کے لیے بمنزلۂ ولی یا وکیل ہیں اور اصل مستحق اس مال میں جتنے تصرفات کرسکتا ہے، وہ سب تصرفات اس کے ولی یا وکیل ہونے کی حیثیت سے یہ بھی کرسکتے ہیں۔وہ جب فقرائ ومساکین کی ضروریات کے لیے کوئی عمارت بنائیں یا کوئی گاڑی خریدیں،تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بہت سے فقیروں اور مسکینوں نے، جن کو فرداً فرداًزکوٰۃ ملی تھی،باہم مل کر ایک عمارت بنوالی،یا ایک سواری خرید لی۔ جس طرح ان کے اس تصرف پر کوئی پابند ی نہیں ہے،اسی طرح ان کے وکیل یا ولی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔عاملین علیہا کو زکوٰۃدینے کا طریقہ اﷲ تعالیٰ نے اسی لیے مقررکیا ہے، اور اﷲ کے رسولؐ نے اسی لیے ان کے ہاتھ میں زکوٰۃ دے دینے والے کو فرض سے سبک دوش قرار دیا ہے کہ انہیں یہ مال دے دینا گویا تمام مستحقین کو دے دینا ہے۔ وہ انہی کی طرف سے اسے وصول کرتے ہیں اور انہی کے نائب و سرپرست بن کر اسے صرف کرتے ہیں۔ آپ ان کے تصرفات پر اس حیثیت سے ضرور اعتراض کرسکتے ہیں کہ تم نے فلاں خرچ بلا ضرورت کیا،یا فلاں چیز پر ضرورت سے زیادہ خرچ کردیا،یا اپنے عمل کی اجرت معقول حد سے زیادہ لے لی،یا کسی عامل کو معقول شرح سے زیادہ اجرت دے دی۔ لیکن کوئی قاعدۂ شرعی میرے علم میں ایسا نہیں ہے جس کی بِنا پر ان کو اس بات کا پابند کیا جاسکے کہ فلاں فلاں قسم کے تصرفات تم کرسکتے ہو اور فلاں فلاں قسم کے نہیں کر سکتے۔ قواعد شریعت انہیں ہر اس کام کی اجازت دیتے ہیں جس کی مستحقین زکوٰۃ کے لیے ضرورت ہو۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل حل طلب سوالات صرف دو ہیں:

ایک یہ کہ اگر زکوٰۃدینے والوں اور زکوٰۃ کا استحقاق رکھنے والوں کی رضا مندی سے چند غیر سرکاری آدمی زکوٰۃ پر کام کریں تو آیا وہ قرآن کے ارشاد کے مطابق عاملین علیہا کی تعریف میں آتے ہیں یا نہیں؟

دوسرے یہ کہ عاملین علیہا کے ہاتھ میں زکوٰۃ دے دینے کے بعد ان کے تصرفات پر پھر تملیک کی قید عائد کرنے کے لیے کیا دلیل ہے؟

علمائے کرام کو انہی دو سوالات پر غور کرکے کوئی فیصلہ دینا چاہیے۔

(ترجمان القرآن ۔ربیع الاوّل ۳۷۴اھ، دسمبر ۹۵۴اء)