رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
محکمات اور متشابہات:
اب دوسری آیت کو لیجیے جو آپ نے سورۂ آل عمران سے نقل کی ہے۔اس کے متعلق جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کا جواب طلب کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ ’’آیات محکمات‘‘ اور’’آیات متشابہات‘‘ کا مفہوم اور ان کا باہمی فرق اچھی طرح سمجھ لیں۔ آیات متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں انسانی حواس سے ماورا حقیقتوں کو بیان کیا گیا ہے۔یہ حقیقتیں چوں کہ براہِ راست انسان کے تجربے اور مشاہدے میں نہیں آئی ہیں،اور اس بِنا پر انسانی زبان میں ان کے لیے ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں،اس لیے لامحالہ ان کو بیان کرنے میں وہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو انسان نے دراصل محسوس اشیا کے لیے وضع کیے ہیں۔مثلاً اﷲ تعالیٰ کے لیے زندگی، بینائی، سماعت،گویائی وغیرہ الفاظ کا استعمال، یا اس کے لیے عرش اور کرسی ثابت کرنا اور یہ کہنا کہ وہ آسمان میں ہے، یا یہ کہنا کہ وہ محبت کرتا ہے، یا غضب ناک ہوتا ہے۔اس طرح کے الفاظ اور اسالیب بیان حقیقت کا ایک مجمل تصور تو دے سکتے ہیں، اور وہی دینا مقصود بھی ہے، لیکن ان الفاظ اور بیانات کی مدد سے حقیقت کا پورا پورا تفصیلی تصور حاصل کرنا، اور ان ماورائے حواس حقائق کی پوری پوری کیفیت اور نوعیت (nature) معلوم کرلینا بہرحال ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے قرآن ان کی تاویل کی کوشش کرنے والوں کو غلط ذہنیت کا شکار قرا ردیتا ہے، کیوں کہ وہ الفاظ اس کے متحمل ہیں ہی نہیں کہ انسان ان کے معانی متعین کرسکے یا ان کی کوئی ایسی تعبیر کرسکے جس سے اصل حقیقت اس کے ادراک کی گرفت میں آجائے۔ اس کے برعکس آیات محکمات وہ آیات ہیں جو انسان اور کائنات سے تعلق رکھنے والے محسوس حقائق، اور تجربہ ومشاہدہ میں آنے والے مسائل و معاملات سے بحث کرتی ہیں، یا انسان کو وہ احکام اور ہدایات دیتی ہیں جن پر اسے عمل کرنا ہے۔ ان آیات میں چوں کہ وہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو زیر بحث اشیا اور امور ہی کے لیے انسان زبانی میں وضع کیے گئے ہیں، اس لیے انسان ان کی تاویل وتعبیر کرسکتا ہے، ان کے معانی متعین کرنے کی کوشش ممکن بھی ہے او رجائز بھی، بلکہ وہ شریعت میں مطلوب ہے۔ کیوں کہ قرآن کے منشا کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ کوشش نیک نیتی کے ساتھ ہو، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہو،اور ان معقول طریقوں کے مطابق ہو جو دنیا میں کسی کلام کا حقیقی مفہوم و مراد معلوم کرنے کے لیے(نہ کہ اس کی اپنی خواہشات اور اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے) استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس تشریح کے بعد میں آپ کے بقیہ سوالات کا سلسلہ وار جواب دوں گا۔
۷۔ اس سوال کا جواب اوپر کی تشریح کے بعد غیر ضروری ہوجاتا ہے۔’’آیات محکمات‘‘ کا یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ وہ ایسی آیات ہیں ’’جن کی تعبیر کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اس کے برعکس قرآن مجید تو آیات متشابہات کی تاویل سے منع کرکے محکم آیات کی طرف انسان کی توجہ اسی غرض کے لیے پھیرتا ہے کہ غور وفکر اور بحث وتحقیق اور تاویل وتعبیر کی کوششوں کا صحیح رخ یہ آیات ہیں، نہ کہ آیات متشابہات۔
۸۔ آیت لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ یقینا آیات محکمات میں سے ہے۔اس لیے کہ ’’دین‘‘اور’’اکراہ‘‘ اور ’’دین میں اکراہ نہ ہونا‘‘، یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کے معنی ہم لغت سے، قواعد زبان سے،سیاق وسباق سے،قرآن کے دوسرے بیانات سے،اور سنت،اجماع اور قیاس کی مدد سے متعین کرسکتے ہیں۔اسی طرح قرآن کی وہ تمام آیات محکم ہیں جن میں انسان سے کسی چیز کے ماننے یا کسی چیز کا انکار کرنے، یا کسی چیز پر عمل کرنے یا کسی چیز کو چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیزوہ سب آیات محکم ہیں جو محسوس ومشہود اشیاکا ذکر کرتی ہیں یا ان امور و مسائل سے بحث کرتی ہیں جو انسان کے تجربے میں آتے ہیں۔