مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حضرت مسیح ؑکی بن باپ کے پیدایش:

سوال: لوگوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ان کا طریق استدلال یہ ہے کہ جب فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کو خوش خبری سنائی کہ ایک پاکیزہ لڑکا تیرے بطن سے پیدا ہو گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی اور نہ میں بدکار ہوں۔ جب یہ فرشتہ نازل ہوا اس وقت اگر حضرت مریم علیہا السلام کو کنواری مان لیا جائے اور بعد میں یوسف نجار سے ان کی شادی ہوگئی ہو اور اس کے بعدحضرت مسیحؑ کی پیدایش ہو تو کیا خدائی وعدہ سچا ثابت نہیں ہوگا؟

ان کا دوسرا استدلال یہ ہے کہ خدا اپنی سنت نہیں بدلتا اور اس کے لیے وہ قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرتے ہیں: ’’وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِيْلًا ‘‘o الفتح 23:48 وہ کہتے ہیں کہ لڑکے کی پیدایش ایک عورت اور ایک مرد کے ملاپ کا نتیجہ ہے ۔کیوں کہ ازل سے یہ سنت اﷲہے اور یہ اب تک قائم ہے۔

براہِ کرم واضح کریں کہ یہ استدلا ل کہاں تک درست ہے۔اگر وقت کی کمی کے باعث طویل جواب لکھنا آپ مناسب نہ سمجھیں تو کتابوں کا حوالہ ہی ہمارے لیے کافی ہوگا۔

جواب: میں نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورۂ آل عمران اور سورۂ مریم کی تفسیر کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ ؑ کے بے باپ پیدا ہونے کے دلائل دیے ہیں، ان کو ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ حضرت مسیح ؑ کی معجزانہ ولادت کے منکرین کا استدلال کہاں تک درست ہے؟

یہ کہنا کہ اﷲ اپنی سنت نہیں بدلتا،اپنی جگہ صحیح ہے، مگر اﷲ کی سنت کیا ہے اور کیا نہیں ہے،اس کافیصلہ کرنے والے ہم نہیں بلکہ اﷲ خود ہی ہے۔ جس چیز کو خدا نے خود اپنی سنت کہا ہو، اس کے خلاف تو کچھ نہیں ہوسکتا، مگر جسے ہم اس کی سنت قرار دے لیں، اس کے خلاف تو بہت کچھ ہو سکتاہے، کیوں کہ اﷲ نے اس کی پابندی کا کوئی ذمہ نہیں لیا ہے۔ آخر اﷲ نے یہ کب کہا ہے کہ مرد کے بغیر عورت کے ہاں بچہ پیدا ہونا میر ی سنت کے خلاف ہے، یا میری سنت یہ ہے کہ عورت کے ہاں صرف مرد کے ملاپ ہی سے بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بنی نوع انسان کے اوّلین فرد اور اس کے جوڑے کی پیدایش آخر کس مرد اور عورت کے ملاپ کا نتیجہ تھی؟اﷲ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے حضرت آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کے جوڑے کو ان سے پیدا کیا۔ اگر اس جوڑے کی پیدایش سنت اﷲ کے خلاف نہیں تو حضرت مسیحؑ کی بغیر والد کے پیدایش کیوں سنت اﷲ کے خلاف ہے؟ قرآن مجید میںاﷲ تعالیٰ نے خود بھی مسیحؑ کی پیدایش کو آدمؑ کی پیدایش سے تشبیہ دی ہے: ’’اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَ۝۰ۭ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُo آل عمران59:3 ’’درحقیقت عیسیٰ ؑ کی مثال اﷲ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے جسے اﷲ نے مٹی سے بنایا،پھر فرمایا کہ ہوجا اور بس وہ ہو گیا۔‘‘ (ترجمان القرآن ،فروری ۹۶۳اء)