رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ:
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹیکس عائد کرنے کے معاملے میں کوئی امتیاز اسلامی قانون کے اندر نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابتدائی اسلامی دور میں عملاًغیر مسلم تاجروں سے مسلمان تاجروں کی بہ نسبت زیادہ تجارتی محصول لیا جاتا تھا،مگر دراصل وہ کسی مستقل شرعی حکم کی بِنا پر نہ تھا،اور نہ اس سے مقصود غیر مسلم تاجروں کو اسلام لانے پر مجبور یا آمادہ کرنا تھا،بلکہ وہ ایک وقتی تدبیر تھی جو مسلمانوں کو تجارت کی طرف مائل کرنے کے لیے اختیار کی گئی تھی ،کیوں کہ اس وقت مسلمان اکثر وبیش تر فوجی اور سول خدمات میں لگ گئے تھے ،اور نومفتوح ممالک کی پوری معاشی زندگی(تجارت، صنعت وحرفت، زراعت وغیرہ) بالکل غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھی۔اس پر اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اس ترجیح کے نتیجے میں قلیل منافع پر کام کرنے والا تاجر(marginal businessman) اپنی روزی برقرار رکھنے کے لیے مسلمان ہونے پر مجبور ہوسکتا تھا، تو میں کہوں گا کہ آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں ہے ۔کیوں کہ مسلمان ہوتے ہی اس پر زکوٰۃ عائد ہوجاتی جس کا بار جزیے اور محصول تجارت کے مجموعے سے زیاد ہ تھا۔ زکوٰۃ اس کے تمام تجارتی سرمائے اور گھر کے زیورات اور جمع شدہ رقم پر ڈھائی فی صدی سالانہ کے حساب سے لگتی۔بخلاف اس کے بڑے سے بڑے مال دار غیر مسلم کو بھی ۴۸ درہم (تقریباً ۳ ڈالر) سالانہ سے زیادہ جزیہ نہ دینا پڑتا تھا اور محصول تجارت میں اس کو مسلمان کی بہ نسبت حد سے حد صرف ۵۰ فی صدی زیادہ دینا ہو تاتھا۔
۳۔ اس سوال کا جواب میری ابتدائی تشریح میں گزر چکا ہے۔