مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تجارتی حصص اور کرائے پر دی جانے والی اشیا کی زکوٰۃ:

سوالنمبر۱: تجارتی حصص کی زکوٰۃ کے بارے میں جولائی ۶۲ء اور نومبر ۵۰، جلد۳۵، عدد ا کے ترجمان القرآن میں آپ کی تحریریں سامنے ہیں۔

اصول کا تقاضا یہ ہے کہ شرکت پر دیے ہوئے سرمائے کی زکوٰۃ صرف ایک بار وصول کی جائے ۔اس اصول کے مطابق اگر آپ کی نومبر ۵۰ء کی تحریر کے مطابق کمپنی سے زکوٰۃ یک جا وصول کرلی جائے تو پھر افراد سے ان کے مملوکہ تجارتی حصص پر نہیں وصول کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ’’ جو حصہ دار قدر نصاب سے کم حصے رکھتے ہوں یا جو ایک سال سے کم اپنے حصے کے مالک رہے ہوں…‘‘ ان کو مستثنیٰ کرکے کمپنی سے حصص پر زکوٰۃ لی جائے۔اکثر اوقات اس کا پتا لگانا مشکل ہے کہ جو حصہ دار ایک مخصوص کمپنی میں نصاب سے کم قیمت کے حصے کا مالک ہے ،وہ خود صاحب نصاب ہے کہ نہیں۔

مسئلے کا ایک او رپہلو قابل توجہ ہے۔افراد سے ان کے مملوکہ حصص پر زکوٰۃ لینے اور کمپنی کے جملہ حصص پر زکوٰۃ لینے کے معاشی اثرات بالکل مختلف ہوں گے۔ کمپنی کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ سالانہ زکوٰۃ کی رقم کو اپنی لاگت کا ایک مستقل جز سمجھ کر اسی حساب سے اپنے مال کی قیمت بڑھانے کی کوشش کرے۔کیوں کہ ضروری نہیں کہ پوری زکوٰۃ نفع ہی سے ادا کرنا ہمیشہ ممکن ہو یا ہمیشہ زکوٰۃ دینے کے بعد بھی حصہ داروں کو دینے کے لیے کچھ نفع بچ رہے۔ افراد سے زکوٰۃلی جائے تو قیمتوں پر یہ اثر نہیں مرتب ہوگا۔

اسی ترجمان کے صفحہ ۲۲ پرکرایے پر دی جانے والی اشیا کے قابل زکوٰۃ ہونے کی رائے ظاہر کی گئی ہے۔ اگر یہ رائے صحیح ہے تو اس اصول کا اطلاق کرایے پر چلائی جانے والی ٹیکسی، ٹرک اور بسوں کی مالیت پر بھی ہونا چاہیے۔اسی طرح جو شخص متعدد مکانات اور دکانوں کا مالک ہو او ر ان کو کرایے پر اٹھاتا ہو، اس سے بھی مکانات کی جملہ مالیت کا ڈھائی فی صد ٹیکس وصول کرنا چاہیے۔مجھے ان دونوں شکلوں میں زکوٰۃ کے وجوب کا دو وجہوں سے شبہ ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ سلف سے آج تک کرایے پر دیے جانے والے مکانات کی جملہ مالیت پر زکوٰۃ واجب ہونے کی رائے یا اس پر عمل سننے میں نہیں آیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کتاب الاموال صفحہ ۳۷۶ کی لیث بن سعد کی جو روایت آپ نے دلیل کے طور پر پیش کی ہے،اس سے یہاں استدلال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔کرایے کے اونٹوں کا کرایہ پر چلانا وجوب زکوٰۃ کا سبب نہیں ہے بلکہ وجوب زکوٰۃ کی بِنا ان کا اونٹ ہونا ہے۔امید ہے کہ اس مسئلے پر مزید روشی ڈال کر یہ کھٹک دور کریں گے۔

جواب: زکوٰۃ کے متعلق نومبر ۵۰ء کے ترجمان میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ حکومت کے سوال نامے کا جواب تھا۔اس میںجواب اس مفروضے پر دیا گیا تھا کہ سرکاری طور پر کمپنیوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔جولائی ۶۲ء کے ترجمان میں ایک سوال کا جواب اس مفروضے پر دیا گیا ہے کہ کمپنی زکوٰۃ نہیں نکالے گی بلکہ ایک حصہ دار اپنی زکوٰۃ خود نکالے گا۔اس فرق کو نگاہ میں رکھ کر آپ دونوں جوابات کو پڑھیں۔ کمپنی جب زکوٰۃ نکال دے گی تو ایک ایک حصہ دار کی الگ الگ زکوٰۃنکلنے کا پھر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔البتہ کمپنی کے لیے یہ مشکل ہے کہ ایک ایک حصہ دار کے متعلق یہ تحقیق کرے کہ وہ بجائے خودصاحب زکوٰۃ ہے کہ نہیں۔یہ تو ایسے حصہ داروں کا اپنا کام ہے کہ وہ کمپنی کو اپنے صاحب نصاب نہ ہونے کی اطلاع دیں،تاکہ ان کے ذمے کی زکوٰۃ محسوب نہ ہو۔

تحصیل زکوٰۃ اگر سرکاری انتظام میں ہو تو محصل زکوٰۃ سے یہ بات نہیں چھپ سکتی کہ کمپنی نے اپنی نکالی ہوئی زکوٰۃ کو اپنے کاروباری مصرف میں شمار کرکے قیمتیں بڑھائی ہیں ۔اس چیزکی روک تھام سرکاری طور پر ہوسکتی ہے۔لیکن اگر سرکاری انتظام نہ ہو تو اس صورت میں صرف وہی کمپنی بطور خود اپنی زکوٰۃ نکالے گی جس کے چلانے والوں میں کوئی دینی حس موجود ہو گی۔ایسے لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک ہاتھ سے زکوٰۃ نکال کر دوسرے ہاتھ سے اس کو وصول کرنے کی تدبیریں اختیار کریں گے۔ اور بالفرض اگر وہ ایسا کریں تو دوسرے سال ان پر زکوٰۃ زیادہ لگ جائے گی۔ پھر قیمتیں بڑھائیں گے توزکوٰۃ کے حساب میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہاں تک کہ آخر کار قیمتیں بڑھانا ممکن نہ رہے گا۔

کرایے پر دی جانے والی اشیا کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا تھا،وہ مختصر تھا۔اس لیے بات واضح نہ ہوسکی۔میرا مدعا یہ ہے کہ جو لوگ فرنیچر یا موٹریں یا ایسی ہی دوسری چیزیں کرائے پر چلانے کا کاروبار کرتے ہیں ،ان کے کاروبارکی مالیت اس منافع کے لحاظ سے مشخص کرنی چاہیے جو اس کاروبارمیں ان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فرنیچر یا ان موٹروں کی قیمت پر زکوٰۃ محسوب کی جائے جسے وہ کرائے پر چلاتے ہیں۔کیوں کہ یہ تو وہ آلات ہیں جن سے وہ کام کرتے ہیں اور آلات کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کاروبار جو منافع دے رہا ہو،اس کی بِنا پر یہ رائے قائم کی جائے گی کہ اس قدر منافع دینے والے کاروبارکی مالیت کیا قرارپانی چاہیے۔رہے کرایے کے مکانات، تو ان کے بارے میں مجھے بھی اس بِنا پر تامل ہے کہ سلف سے ان پر زکوٰۃ لگائے جانے کا ثبوت نہیں ملتا۔

’’الابل العوامل‘‘(کام کرنے والے اونٹوں) پر زکوٰۃ نہ لگنے کی وجہ وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کی ہے کہ ایک آدمی جن آلات یا حیوانات کے ذریعے سے کام کرتا ہے،ان پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔ مثلاًہل چلانے والے بیل یا باربرداری کے جانور۔ ان پر زکوٰۃ مواشی عائد نہ ہو گی۔ اسی طرح ڈیری فارم کے جانوروں پر زکوٰۃ مواشی عائد نہ ہوگی۔ ان کی زکوٰۃ تو اس پیداوار پر زکوٰۃلگنے کی صورت میں وصول ہوجاتی ہے جو ان کے ذریعے سے حاصل کی گئی ہو۔کرایے پر چلائے جانے والے اونٹوں پر بھی عوامل کا اطلاق ہوتا ہے۔اس لیے ان پر زکوٰۃمواشی عائد نہ ہونی چاہیے اور نہ ان کی مالیت پر زکوٰۃ لگنی چاہیے۔ بلکہ اس کرایے کے کاروبارکی جو(goodwill) مشخص ہو، اس پر زکوٰۃ لگنی چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ۹۶۳اء)

سوال نمبر۲: تجارتی حصص کی زکوٰۃ سے متعلق آپ کی وضاحت کے بعد بھی ایک مسئلہ حل طلب رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ تحصیل زکوٰۃ کے اعتبار سے ان دو شکلوں کو برابر کی متبادل شکلوںکی حیثیت نہیں دی جاسکتی کہ حصہ داروں سے حصص کے بازاری نرخ کے مطابق زکوٰۃ وصول کرلی جائے یا کمپنی سے تجارت کی زکوٰۃ کے اصول پر زکوٰۃ وصول کی جائے۔ دونوں شکلوں میں وصول کی جانے والی زکوٰۃ میں مقدار کے اعتبار سے زبردست فرق ہونالازم ہے۔

حساب زکوٰۃ میں اس تفاوت کے پیش نظر ضروری ہے کہ یہ بات متعین کردی جائے کہ زکوٰۃ دونوں طریقوں میں سے کس طریقے سے وصول کی جائے گی۔

کرایے پر چلائی جانے والی اشیاء کی زکوٰۃ کا مسئلہ بھی واضح نہیں ہوا۔آپ نے جو شکل تجویز فرمائی ہے یعنی کاروبار کی (goodwill) اور منافع کی بنیاد پر اس کی مجموعی مالیت کا اندازہ لگایا جائے، اس پر متعدد اعتراض وارد ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس طرح قابل زکوٰۃ مال کا حساب کم سے کم ان اشیا کی مجموعی قیمت کے برابر اور بعض اوقات اس سے زیادہ آئے گا۔ کیوں کہ اگر کاروباری ادارہ پرانا اور اچھا ہے تو (goodwill) کی مالیت خاصی ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اس شکل کو اختیار کرنے کی شرعی دلیل کیا ہے؟سلف سے اس طرح کی کوئی شکل منقول نہیں جب کہ کشتیوں، سواری کے جانوروں، مکانات، دکانوں وغیرہ کو کرایے پر چلانے کا رواج قدیم ہے۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ شریعت نے بعض واضح مصالح کے پیش نظر مال ظاہر اور مال باطن کے درمیان فرق کیا ہے اور مال باطن کی مقدار کا اعلان صاحب مال کے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ اگر محصل زکوٰۃ اور اس شخص کے درمیان اختلاف ہوتا ہے جو کرایے پر چلانے کا کاروبارکرتا ہے تو فیصلہ کیسے ہوگا؟

امید ہے کہ مسئلے کے ان پہلوئوں پر غور فرما کر اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔

جواب: کمپنیوں کی زکوٰۃ کے معاملے میں دو ہی شکلیں ممکن ہیں۔یا تو اسلامی حکومت موجود ہوگی اور تحصیل کا باقاعدہ انتظام کرے گی،یا کوئی اجتماعی انتظام نہ ہوگا اور احساس فرض رکھنے والے افراد کو خود اپنی زکوٰۃ نکالنی ہوگی۔ پہلی صورت میں کمپنی کے سارے حسابات دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اور جن اثاثوں پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی ،ان کو حساب سے ساقط کردیا جائے گا۔لیکن دوسری صورت میں منفرد حصہ داروں کے لیے اس طرح کے حسابات معلوم کرنا مشکل ہے۔ وہ تو لامحالہ اپنے لگائے ہوئے سرمایے کی ہی زکوٰۃنکالیں گے۔

کرایے پر چلانے کے کاروبار کی زکوٰۃ کا معاملہ اچھا خاصا پیچیدہ ہے۔اس میں متعدد اصولی مشکلات کو میں خود بھی محسوس کرتا ہوں اور اس باب میں احادیث وآثار سے بھی کوئی واضح رہنمائی نہیں ملتی۔اس میں بڑ ی مشکل یہ ہے کہ جس سامان کو کرایے پرچلایا جاتا ہے،وہ مال تجارت کی تعریف میں نہیں آتا،بلکہ آلات پیدایش سے اشبہ ہے۔اس لیے اس کی قیمت پر زکوٰۃ عائد کرنا درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس کو خارج کرنے کے بعد اس کاروبارمیں ختم سال پر بجز’’نقد موجود‘‘(cash in hand) یابینک بیلنس کے کوئی چیز بھی نہیں ہوتی جس پر زکوٰۃ عائد ہو۔حالاں کہ کاروبار لاکھوں کا ہوتا ہے۔ بلکہ اب تو اس نوعیت کے کاروبار بہت بڑے پیمانے پر چل رہے ہیں۔ان وجوہ سے میں نے کاروبار کی مالیت کا ایک فارمولا سوچا ہے۔لیکن یہ بالکل اجتہادی چیز ہے اور اس پر دوسرے اہل علم کو بھی غور کرنا چاہیے۔

مال ظاہر اور مال باطن میں فرق کرتے ہوئے آپ نے جو اعتراض کیا ہے، وہ کچھ زیادہ وزنی نہیں ہے۔اگر کسی مال کے مال باطن ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہو ،یا مال باطن کا جواعلان صاحب مال نے کیا ہو،اسے محصل تسلیم نہ کررہا ہو،تو ان دونوں صورتوں کا فیصلہ ایک غیر جانب دار عدالت کرسکتی ہے۔یہ کوئی ایسی پیچیدگی نہیں ہے جسے حل نہ کیا جاسکتا ہو۔

(ترجمان القرآن۔فروری ۹۶۳اء)