مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فریضۂ رسالت اور حضرت یونس ؑ:

اس اعتراض کا جواب خود دینے کے بجائے میں قرآن ہی سے دلوانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں چار مقامات پر حضرت یونس ؑ کا قصہ آیا ہے۔براہِ کرم ان سب کو پڑھ لیجیے۔

سورۂ یونس میں ہے :

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِيْمَانُہَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ۝۰ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍo یونس 98:10

’’ پس کیوں نہ ہوئی کوئی ایسی بستی جو(عذاب دیکھ کر)ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نافع ہواہو؟ سوائے یونس کی قوم کے کہ جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور ان کو ایک وقت خاص تک سامان زندگی دیا۔‘‘

سورۂ انبیا میں ہے:

وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْہِ فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ۝۰ۤۖ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِــمِيْنَo الانبیائ 87:21

’’ اور یاد کرو مچھلی والے( یونس ؑ )کو جب کہ وہ خفا ہوکر چل دیا اور سمجھا کہ(اس کے چلے جانے پر)ہم گرفت نہ کریں [شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے: ’’پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے۔‘‘مولانا اشرف علی صاحبؒ کا ترجمہ ہے: ’’اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم ان پر (اس چلے جانے میں) کوئی داروگیر نہ کریں گے‘‘]گے ۔پس وہ پکار اٹھا تاریکیوں میں کہ تیرے سوا کوئی خدا نہیں، تو بے عیب ہے، بے شک میں قصور وار ہوں۔‘‘

سورۂ صافات میں ہے:

وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَo اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِo فَسَاہَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَo فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَمُلِـيْمٌo فَلَوْلَآ اَنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَo لَـلَبِثَ فِيْ بَطْنِہٖٓ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَo الصافات:37:139-144

’’اور بے شک یونس رسولوں میں سے تھا۔جس وقت بھاگ گیا وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف، تو قرعہ ڈالنے میں(اہل کشتی کے ساتھ) شریک ہوا اور وہی ملزم ٹھہرا۔ پھر نگل لیا اس کو مچھلی نے اور وہ ملامت میں پڑا ہوا تھا۔اگر نہ ہوتا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہ جاتا۔‘‘

سورۂ قلم میں ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ۝۰ۘ اِذْ نَادٰى وَہُوَمَكْظُوْمٌo لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَاۗءِ وَہُوَمَذْمُوْمٌo القلم68:48-49

’’پس اے محمد!صبر کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کرو اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائو [مولانا اشرف علی صاحب کا ترجمہ ہے: ’’اور (تنگ دلی میں) مچھلی (کے پیٹ میں جانے) والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہو جایئے‘‘]جب کہ اس نے پکارا اور وہ غم سے گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے ربّ کے احسا ن نے اس کی دست گیری نہ کی ہوتی تو پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں اور وہ رہتا ملامت زدہ‘‘۔ [شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے: ’’اور وہ ہوتا ملامت کیا گیا‘‘] ۔

یہ آیات صاف بتا رہی ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام سے کوئی نہ کوئی قصور ضرور سرزد ہوا تھاجس پر انہیں مچھلی کے پیٹ میں پہنچا یا گیا، اور وہ قصور بے صبری کی نوعیت کا تھا، اور لامحالہ وہ فریضۂ رسالت کی ادائیگی ہی کے سلسلے میں ہوا تھا۔ نیزان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہوکر اﷲ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اپنا مستقر رسالت چھوڑ گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی قوم کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے وہ خاص رعایت فرمائی جو کبھی کسی قوم کے ساتھ نہ فرمائی گئی تھی، یعنی یہ کہ عذاب دیکھ لینے کے بعد جب وہ ایمان لے آئی تو اسے معاف کردیا گیا۔حالاں کہ اﷲ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت ہے کہ عذاب آتے دیکھ کر ایمان لانا کسی کے لیے نافع نہیں ہوتا۔یہ اﷲ تعالیٰ کا اپنا ہی بیان ہے۔اس میں کسی قسم کی کمی وبیشی میں نے اپنی طرف سے نہیں کی ہے۔اب اس پر آپ کو یا کسی اور کو اعتراض ہو تو یہ اعتراض مجھ پر نہیں، قرآن اور اس کے بھیجنے والے خدا پر ہے،اور اس کا جواب اسی کے ذمے ہے۔آپ کا یہ ارشاد کہ’’کیا یہ مضمون موہم ہتک انبیا نہیں ہے‘‘، اس مفروضے پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ انبیا علیہم السلام کی عزت کا خیال آپ کو ان کے بھیجنے والے خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو جو مضمون اﷲ نے خود اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے،اس کو موجب ہتک یا موہم ہتک قرار دینے کی اورکیا توجیہ آپ کرسکتے ہیں؟ [ اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورۂ صافات، حواشی نمبر ۷۸ تا ۸۵]