مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بدعت کی تعریف و اقسام:

جواب: شرعی اصطلاح میں جس چیز کو بدعت کہتے ہیں،اس کی کوئی قسم حسنہ نہیں ہے،بلکہ ہر بدعت سیئہ اور ضلالہ ہی ہے۔جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کُلُّ بِدْعَۃٌ ضَلَالَۃٌ ۔ البتہ لغوی اعتبار سے محض نئی بات کے معنی میں بدعت حسنہ بھی ہوسکتی ہے اور سیئہ بھی۔ سیّدنا عمر فاروق ؓ نے نماز تراویح باجماعت کے بار ے میں نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ کے الفاظ جو فرمائے تھے، ان میں بدعت سے مراد اصطلاحی بدعت نہیں بلکہ لغوی بدعت ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسے بدعت کی ایک قسم ’’حسنہ‘‘ قرار دینے کے لیے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے بدعت کا شرعی مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا نماز تراویح باجماعت کا طریقہ رائج کرنا اس مفہوم کے اعتبار سے بدعت کی تعریف میں آتا بھی ہے؟

عربی زبان میں بدعت کا لفظ قریب قریب اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس میں لفظ ’’جدت‘‘ ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔یعنی ایک نئی بات جو پہلے نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی مثال موجود نہ ہو۔ لیکن شریعت میں یہ لفظ اس وسیع مفہو م میں استعمال نہیں ہوتا۔ نہ اس مفہوم میں ہر نئی چیز یا ہر نئے کام اور طریقے کو گمراہی قرار دیا گیا ہے۔شرعی اصطلاح میں بدعت سے مراد یہ ہے کہ جن مسائل ومعاملات کو دین اسلام نے اپنے دائرے میں لیا ہے،ان میں کوئی ایسا طرز فکر یا طرز عمل اختیار کرنا جس کے لیے دین کے اصلی مآخذ میںکوئی دلیل وحجت موجود نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ مسائل ومعاملات یا مسائل و معاملات کے وہ پہلو جن سے دین نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کرتا، جن کے متعلق صاحب شریعت نے خود فرمادیا کہ اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ، بدعت وسنت کی بحث سے خود بخود خارج ہوجاتے ہیں۔ کسی چیز کے بدعت ہونے یا نہ ہونے کا سوال صرف انہی امور میں پیدا ہوتا ہے جن میں انسان کی رہنمائی کرنا دین نے اپنے ذمے لیا ہے اور جن میں اﷲ اور اس کے رسول نے احکام دیے ہیں یا اصولی ہدایات عطا فرمائی ہیں،خواہ وہ عقائد اور خیالات وتصورات کے باب سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق سے،یا عبادات اور مذہبی رسوم سے، یا معاشرت،تمدن، سیاست،معیشت اور دوسری ان چیزوں سے جنہیں عام طور پر دنیوی معاملات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ان امور میں جب کوئی ایسی بات کی جائے گی جس کے ماخذ کا حوالہ خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی تعلیم وہدایت میں نہ دیا جاسکتا ہو، یا جس کے حق میں دین کے ان مآخذ اصلیہ سے کوئی معقول دلیل نہ پیش کی جاسکتی ہو، تو وہ بدعت ہوگی،اور اگر وہ کتاب وسنت کی تعلیمات کے خلاف پڑتی ہو تو اس پر محض بدعت کا نہیں بلکہ فسق اور معصیت کا اطلاق ہوگا۔

بدعت کے شرعی مفہوم کی اس تشریح کے بعدیہ بات محتاج کلام نہیں رہتی کہ اس کے معنی میں جو چیز بدعت ہو، اس کے حسنہ ہونے کا تصور ہی نہیںکیا جاسکتا۔وہ تو لازماً سیئہ ہی ہو گی اور اس کو سیئہ ہی ہونا چاہیے۔ کیوں کہ دین نام ہے اس نظام کا جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہدایت پر مبنی ہو۔ اور اس نظام میں بہرحال ایسی کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی جو اس تعلیم و ہدایت پر مبنی نہ ہو۔ ایسی کوئی چیز جب بھی اس میں داخل ہوگی، اس نظام کے مزاج اور اس کی ترکیب کو بگاڑ دے گی۔ پھر کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بگاڑنے والی چیز حسنہ بھی ہو۔

اب دیکھیے کہ حضرت عمرؓ نے جس چیز کو’’اچھی بدعت‘‘کہا تھا کیا وہ واقعی اسی معنی میں بدعت تھی جس میں کوئی شے اصطلاح شرع میں بدعت قرار پاسکتی ہے؟

جہاں تک نفس تراویح کا تعلق ہے،یعنی رمضان میں نماز عشا کے بعد قیام لیل، وہ تو صرف جائزہی نہیں ،مندوب اور مسنون بھی ہے۔کیوں کہ نبیؐ نے اس کی ترغیب دی ہے، اس کو دوسرے دنوں کے قیام لیل سے زیادہ اہمیت دی ہے اور خود اس پر عمل فرمایا ہے۔ جہاں تک اس کے جماعت کے ساتھ پڑھنے کا تعلق ہے، اس پر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں عمل ہوا ہے اورآپؐ نے اسے جائز رکھا ہے۔چنانچہ مسند احمد میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ مسجد نبوی میں مختلف مقامات پر مختلف لوگ رمضان میں رات کے وقت نماز پڑھتے تھے۔ جس کو جتنا قرآن یاد ہوتا،وہ اتنا ہی پڑھتا، اور کسی کے ساتھ ایک،کسی کے ساتھ پانچ، کسی کے ساتھ سات یا کم وبیش مقتدی کھڑے ہوجاتے تھے۔ پھر جہاں تک ایک جماعت میں سب کو جمع کرکے ایک امام کے پیچھے تراویح پڑھنے کا تعلق ہے،اس پر بھی نبیؐ نے خود کئی مرتبہ عمل فرمایا ہے۔ ترمذی ، ابودائود اور دوسری کتب سنن میں حضرت ابو ذرؓ ایک رمضان کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ مہینہ ختم ہونے میں سات دن باقی تھے کہ رات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نما ز پڑھائی یہاں تک کہ ایک تہائی شب گزرگئی، پھر ایک دن چھوڑ کر ایک روز سحری کے وقت تک پڑھاتے رہے۔

بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہؓ ایک اور رمضان کا حال بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دن مسلسل نماز تراویح پڑھائی۔ پھر تیسرے یا چوتھے روز جب لوگ جمع ہوئے توآپؐ نماز پڑھانے کے لیے نہ نکلے، اور بعد میں اس کی وجہ یہ بیان کی کہ کہیں یہ فرض نہ قرار دے دی جائے۔

اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ تو مسنون تھا۔اب جس چیز کو نئی بات کہا جاسکتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس طریقے کو ہمیشہ کے لیے جاری کردیا۔ اس چیز کو بدعت اس لیے نہیںکہا جاسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ جماعت کے ساتھ تراویح نہ پڑھانے کی وجہ صرف یہ بیان فرمائی تھی کہ کہیں یہ لوگوں پر فرض نہ قرار دے دی جائے۔یہ وجہ خود اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ آپؐ کے نزدیک یہ طریقہ رائج ہونا اور تمام حیثیتوں سے تو پسندیدہ تھا،البتہ فرض قرار پاجانے کا اندیشہ اس میں مانع تھا کہ آپؐ اسے رائج فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس اندیشے کے لیے کوئی گنجایش باقی نہ رہی۔ کیوں کہ کسی دوسرے شخص کا عمل کسی چیز کے شریعت میں فرض ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منشا کو پورا کردیا جو آپؐ کی اس توجیہ میں مضمر تھا۔ یعنی یہ کہ یہ طریقہ رائج تو ہو مگر مشروع اور مسنون طریقے کی حیثیت سے، نہ کہ فرض کی حیثیت سے۔ اس پر بعض لوگوں کو جب بدعت ہونے کا شبہ ہوا تو حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر اسے رد کردیا کہ’’یہ اچھی بدعت ہے۔‘‘ یعنی یہ نئی بات تو ہے مگر اس نوعیت کی نئی بات نہیں ہے جسے شریعت میں مذموم قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ ؓ نے بالاتفاق اس طریقے کے رواج کو قبول کیا اور ان کے بعد ساری اُمت اس پر عمل کرتی رہی۔ورنہ کون یہ تصور کر سکتا ہے کہ شرعی اصطلاح میںجس چیز کو بدعت کہتے ہیں، اسے رائج کرنے کا ارادہ حضرت عمرؓ کے دل میں پیدا ہوتا اور صحابہ ؓ کی پوری جماعت بھی آنکھیں بند کرکے اسے قبول کر لیتی۔