رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چھوٹے ہوئے فرائض شرعیہ کی قضا:
سوال: ایک مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’قضا نمازیں جلد سے جلد ادا کرنا لازم ہیں… جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا۔‘‘
اس اصول کی عقلی حیثیت کسی دلیل کی محتاج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ شریعت ہمارے کسی عقلی اصول کو تسلیم کرکے اس پر اپنے مسائل کی بنیاد رکھے۔ ادھر ہم مسلمانوں کی غالب اکثریت کا یہ حال ہے کہ ہر شخص پر ایک زمانہ تھوڑا یا بہت جاہلیت کا گزر چکا ہے جس میں نہ نماز کا خیال نہ روزے کی پروا، اس لیے قضا نمازوں کے لازم فی الذمہ ہونے سے بہت ہی کم لوگ خالی ہیں۔
اب اس مسئلے سے حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا واقعی جب تک کوئی فرض نماز باقی فی الذمہ ہے نوافل(جن میں سنن رواتب بھی داخل ہیں) مقبو ل نہ ہوں گے؟
جو لوگ اس حالت میں کہ(قضا نمازیں ان کے ذمے ہیں) ہر نماز کے ساتھ سنتیں اور نفلیں پڑھتے ہیں،ان کی سنتوں اور نفلوں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ ضائع کی جائیں گی یا قضا نمازوں میں محسوب ہوں گی؟
یہ اصول تو عام اور ہمہ گیر ہے، یقینا نمازوں کے ساتھ اس کی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں، تو کیا روزوں اور دیگر فرائض شرعیہ میں بھی یہی اصول جاری ہے؟
خصوصیت کے ساتھ زکوٰۃ کے متعلق وضاحت فرمائیں۔ اکثر لوگوں کی یہ حالت ہے کہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے لیکن نفل صدقات دیتے رہتے ہیں۔ مثلاًکبھی کوئی چیز پکوا کر فقرا کو تقسیم کردی۔ کسی نیک کام میں چندہ دے دیا۔ سائلوں کو پیسے دے دیے۔ اسی طرح زمین دار اور کاشت کار حضرات عشر ادا نہیں کرتے لیکن برداشت ِ فصل کے موقع پر جمع شدہ سائلین کو کچھ دے دیتے ہیں اور سارا سال گداگروں کو ان کے گھر والوں کی طرف سے مٹھی آٹا اور غلہ دیا جاتا رہتا ہے، اس طرح دیتے وقت نہ ان کی نیت عشر اور زکوٰۃ کی ہوتی ہے نہ انہوں نے عشر اور زکوٰۃ کا کوئی حساب کر رکھا ہوتا ہے۔
اس طرح کے اخراجات کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ سب دیا دلایا ضائع جارہا ہے یا عنداﷲ عشر اور زکوٰۃ میں محسوب ہورہا ہے؟
اس اصول پر کہ(جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا)دلیل کی حیثیت سے جو قولہ تعالیٰ اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ۰ۭ الفاطر10:35 کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کہاں تک صحیح ہے؟ کیا کسی حدیث میں عمل صالح کی تفسیر فرائض اور الکلم الطیب کی نفلی اذکار کے ساتھ وارد ہوئی ہے؟
جواب: آپ کے تمام سوالات جس وجہ سے پیدا ہوئے ہیں،وہ صرف یہ ہے کہ ایک صحیح مسئلہ ذرا غلط طریقے سے بیان کردیا گیا ہے۔ کسی عمل کا قبول کرنا یا نہ کرنا انسانوں کے اختیار میں نہیں ہے، خداوند عالم کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کے ذمے فرضوں کی قضا لازم ہو اور فرض کی قضا ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاص کی بِنا پر وہ سنن ونوافل بھی ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس کے اس خلوص کو رد فرما دے۔ ہاں، اگر فرض کی قضا سے غافل رہ کر یہ کام کرے تو امید نہیں کہ یہ فعل اﷲ کے ہاں مقبول ہو گا، کیوں کہ فرض کی قضا بمنزلۂ قرض ہے،اور قرض ادا کرنے سے غفلت برت کر خیرات کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
البتہ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایک زمانہ حالتِ جاہلیت میں گزار دیا ہو اور اس میں بے شمار نمازیں چھوڑ دی ہوں، ان کے لیے پچھلی قضا بھی ادا کرنا اور سنن ونوافل بھی پڑھنا مشکل ہے۔ اس میں اندیشہ ہے کہ اکثر کسل کی بِنا پر وہ قضاادا کرنے سے رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اس میں بڑی سہولت ہے کہ ہر وقت کی فرض نماز کے ساتھ جتنی سنتیں بالعموم پڑھی جاتی ہیں، ان کو سنت کی نیت سے پڑھنے کے بجائے آدمی پچھلے چھوٹے ہوئے فرائض کی قضا کے طور پر پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اس امر کا گمان غالب ہوجائے کہ پچھلی سب قضائیں ادا ہوچکی ہیں۔ اس طرح آدمی بغیر کسی دقت کے بآسانی اس فرض سے سبک دوش ہوسکتا ہے۔
آپ پڑھی ہوئی نمازوں کے ضائع ہونے یا نہ ہونے کا قصہ چھوڑیں، اب جب کہ یہ مسئلہ آپ کو معلوم ہوگیا ہے تو آیندہ تمام سنتیں اور نوافل پچھلے چھوٹے ہوئے فرضوں کی نیت کرکے پڑھنا شروع کردیں۔
چھوٹی ہوئی نمازوں ہی کی طرح قضا روزوں کا معاملہ بھی ہے۔جس کے فرض روزے چھوٹ گئے ہوں وہ نفل روزے رکھنے کے بجائے فرض کی نیت سے پچھلی قضا کیوں نہ ادا کرے۔
یہی معاملہ زکوٰۃ کا بھی ہے۔ آپ خود سوچیے، آخر یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ جس کے ذمے فرض زکوٰۃ واحب ہو وہ اسے تو ادا نہ کرے او ریوں خیرات کرتا پھرے۔ آخر کیوں نہیںوہ اسی طرح خیرات کو زکوٰۃ کا حساب لگا کر ادا کرتا؟ضائع کرنے یا قبول کرلینے کے اختیارات تو اﷲکو ہیں، مگر جو بات ہماری اور آپ کی عقل میں آجاتی ہے کہ فریضے سے غفلت برت کر نوافل ادا کرنے میں کوئی معقولیت نہیں ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اﷲ میاں کی سمجھ میں اتنی بات بھی نہ آئے گی؟ اگر وہ پوچھیں کہ جو کچھ میں نے لازم کیا تھا،وہ توتو نے ادا نہیںکیا اور اپنی خوشی سے یہ سب کچھ دے دیا تو آخر کسی کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا؟
آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے ،اس کے متعلق میرے علم میں کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ الکلم الطیب سے مراد نفلی اذکار اور عمل صالح سے مرادفرائض ہیں۔جن صاحب نے یہ استدلال پیش کیا ہے ،آپ انہی سے دریافت کریں۔ ممکن ہے کہ ان کے علم میں ایسی کوئی حدیث ہو۔ البتہ یہ ابن عباسؓ کی تفسیر ہے کہ الکلم الطیب سے مراد اﷲ کا ذکر ہے اور عمل صالح سے مراد فرائض ہیں۔ اوریہ بھی انھی کی رائے ہے کہ جو فرائض ادا کرے،اس کا عمل اس کے ذکر اﷲ کو لے کر اوپر صعود کرے گا، مگر جو محض ذکر کرے اور فرائض ادا نہ کرے ،اس کا ذکر رد کردیا جائے گا۔ (ترجمان القرآن۔ فروری ۹۵۹اء)
سوال: گزشتہ’’ ترجمان القرآن‘‘ کے رسائل ومسائل میں ایک سوال کے جواب میں چھوٹی ہوئی نمازوں اور دیگر فرائض شرعیہ کی قضا کے بارے میں آپ نے لکھا ہے:’’ان کی قضا کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فرض نمازوں کے بعد جو سنتیں عموماًپڑھی جاتی ہیں، انہیں چھوٹے ہوئے فرضوں کی قضا کی نیت کرکے پڑھا جائے تو اس طرح آسانی سے آدمی اس قرض سے سبک دوش ہوسکتا ہے۔‘‘
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فی الواقع اس طرح سے چھوٹے ہوئے فرائض کی قضا لازماًہر اس شخص کو دینی پڑے گی جس نے اپنی زندگی کا کچھ حصہ جاہلیت کی حالت میں گزارا ہے؟ ظاہر ہے کہ سائل کا منشا ان فرائض شرعیہ کی قضا کے متعلق تو دریافت کرنے کا نہیں ہے جو کسی شرعی عذر کی بِنا پر آدمی سے چھوٹ جاتے ہیں بلکہ ان فرائض سے ہے جن سے وہ دیدہ دانستہ اور محض بے عملی کی وجہ سے ایک مدت (پانچ، دس، بیس، تیس سال) تک غفلت اور بے پروائی برتتا رہا ہے۔ اب اگر وہ پورے عزم واستقلال کے ساتھ اپنی سابقہ زندگی سے تائب ہوکر آیندہ اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق بسر کرنے کا عہد کرتا ہے اور فرائض شرعیہ کی پوری پوری پابند ی کرتا ہے، تو کیا سابقہ زندگی کے متروکہ فرائض کی قضا بھی اسے لازماً دینی ہوگی؟کیا توبہ اس کے سابقہ گناہوں کی تلافی نہیں کرسکے گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر توبہ کا مصرف کیا ہے؟ سورۂ مریم کی ان آیات سے تو صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّـبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّاo اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَــنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔاo مریم 19:59-60 یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی اکثر دوسری آیات اور احادیث نبویہؐ سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ‘‘ ان آیات واحادیث کی روشنی میں آپ کے ارشادات کی کیا توجیہ ہوگی؟
آپ نے ان فرائض شرعیہ کی قضا کے متعلق جو طریقہ تجویزکیا ہے ،اگر انسان اس پر عمل کرنا چاہے تو اس میں بھی کئی طرح کی اُلجھنیں پید اہوتی ہیں۔ سنتیں پڑھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرضوں کی بجا آوری میں آدمی سے جو کوتاہیاں ہوجاتی ہیں ان کی تلافی سنتیں اور نوافل پوری کرسکیں۔اب اگر سابقہ زندگی کی چھوٹی ہوئی فرض نمازوں کی قضا دیتے ہوئے سنتیں اور نوافل پڑھنے کا موقع آدمی نہ پاسکے تو اس کی تمام نمازیں ادھوری رہ جائیں گی۔ یہی معاملہ روزوں اور زکوٰۃ وغیرہ کا بھی ہے ۔ظاہر ہے کہ جس شخص نے بلوغت کے بعد اپنی عمر کے بیس پچیس سال حالت جاہلیت میں گزارے ہیں وہ اگر آپ کے تجویز کردہ طریقے کے مطابق ان کی قضا دینا بھی چاہے تو نہ وہ اس سے کماحقہٗ عہد ہ برآ ہو سکتا ہے اور نہ وہ اس پر مطمئن ہی ہو سکے گا۔ اور پھر یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اس کی بقیہ زندگی کتنی رہ گئی ہے؟
میرے خیال میں اس مسئلے کا تعلق قریب قریب ہر مسلمان سے ہے۔اس لیے کہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کے پیش نظر عوام تو ایک طرف رہے،بڑے بڑے دین دار گھرانوں کی نئی نسلیں بھی اسی بے عملی میں مبتلا ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرے تو آپ کے اس جواب سے اس پر بددلی اور مایوسی طاری ہوسکتی ہے۔براہِ کرم اس کی مزید وضاحت فرما کر مشکور فرماویں۔
اس سلسلے میں ایک سوال میں اپنے متعلق بھی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ ہے کہ میری اہلیہ ۵۰ء میں تپ دق میں مبتلا ہوگئی تھی ۔چوں کہ وہ ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے بچپن ہی سے صوم وصلوٰۃ کی پابندی کرتی رہی ہے۔ تقریباًسات سال تک اس مرض میں مبتلا رہنے کے بعد اب دو تین سال سے رو بصحت ہے اور اپنے آپ کو اس قابل سمجھتی ہے کہ رمضان کے روزے رکھ سکے گی۔اگر میں اسے اس سے روکوں تو اندیشہ ہے کہ کہیں عند اﷲ معتوب نہ ہوجائوں، اور اگر اسے اس کی اجازت دے دوں تو ظاہر ہے کہ اس موذی مرض میں مبتلا ہوجانا یقینی ہوگا۔واضح رہے کہ اس مرض میں مبتلا ہوجانے کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھا کہ میرے منع کرنے کے باوجود شدید گرمی کے ایام میں حالت حمل اور حالت رضاع میں بھی وہ رمضان کے روزے رکھتی رہی ہے اور اسی وجہ سے بے حد کمزور ہوکر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوگئی۔ اب اس کا کہنا یہ ہے کہ تمام زندگی میں اس سعادت سے محروم رہوں تو خدا کو کیا جواب دوں گی اور ان کی قضا دینے سے کس طرح عہدہ برآ ہوسکوں گی؟ کیا فدیۂ طعام مسکین ساری زندگی کے روزوں کی تلافی کرسکتا ہے ؟اور اگر مرد کسی وجہ سے دو وقت اپنی بیوی کی طرف سے کسی مسکین کو کھانا نہ کھلا سکے یا اس سے کوتاہی ہوجائے تو اس کا مؤاخذہ مرد کو ہوگا؟… براہِ کرم اس کی وضاحت فرما ویں۔
جواب: پہلے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ پہلے میں خود بھی یہی خیال رکھتا تھا کہ جاہلیت کی حالت میں جو نمازیں قصداً یا غفلت سے چھوڑ ی گئی ہیں،ان کے لیے صرف تو بہ کافی ہے اور ان کی قضا واجب نہیں۔ لیکن تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اگر آدمی کافر نہ تھا ،صرف جہالت اور غفلت کی بِنا پر تارکِ نماز رہا،تو اس کے لیے صرف توبہ کافی نہیںبلکہ پچھلی نمازوں کی قضا بھی کرنی چاہیے۔ ابن تیمیہؒ نے اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے یہ اصولی بات بیان کی ہے کہ توبہ کے ساتھ سابق کی تلافی اور آیندہ کے لیے اصلاح دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی گناہ ایسا ہو جس کی تلافی کے امکانات ہی نہ ہوں تو بات دوسری ہے۔اس صورت میں توبہ اور ندامت وشرمساری کافی ہوسکتی ہے۔ لیکن جن گناہوں کی تلافی ممکن ہو ،ان پر توبہ کے ساتھ تلافی کیے بغیر کام نہیں چل سکتا۔مثلاً کسی کا قرض آپ کے ذمے تھا اور آپ نے مدتوں اسے ادا نہ کیا، تو اب اس گناہ کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوسکتی بلکہ وہ قرض ادا کرنا بھی اس کے ساتھ ناگزیر ہے۔
رہا یہ سوال کہ سنتیں فرائض کے نقائص میں جو جبر کسرکاکام کرتی ہیں،یہ تو قضائے فوائت کی صورت میں نہ ہوسکے گا،تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضائے فوائت کا ثواب ان شاء اﷲ یہ کسر پوری کردے گا۔ آدمی کا پچھلے گناہ پر نادم ہوکر اس کی تلافی کے لیے کوشش کرنا اپنے اندر ایک زائد ثواب رکھتا ہے۔
بقیہ عمر کتنی رہ گئی ہے ،اس کی تو آدمی کو خبر نہیں ہوسکتی، لیکن جس وقت بھی آدمی تلافی مافات شروع کردے ،اﷲ تعالیٰ اس کی قدر فرمائے گا، اور اگر تمام مافات کی تلافی کرنے سے پہلے اس کی اجل آجائے تو امید ہے کہ اﷲ کے ہاں اس کی یہ کوشش اتنی مقبول ہوگی کہ اﷲ تعالیٰ خود ہی اس کے مافات کو معاف فرمادے گا۔
آپ کی اہلیہ کے معاملے کا جواب یہ ہے کہ اگر طبیب کی رائے یہ ہو کہ اب روزے رکھنا ان کے لیے مہلک ہوگا تو وہ روزے نہ رکھیں اور رمضان کے زمانے میں ایک مسکین کو کھانا کھلاتی رہیں۔آپ کو اگر ان کی زندگی عزیز ہے تو یہ ایثار آپ کو خود ہی کرنا چاہیے کہ انہیں ایک مسکین کے کھانے کا خرچ دیتے رہیں۔اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو چاہے گناہ گار نہ ہوں،لیکن اس صورت حال میں آپ کو بیوی کی جان خطرے میں ڈالنی ہوگی۔ (ترجمان القرآن۔مارچ ۹۵۹اء)