رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
واقعۂ قرطاس کی تحقیق:
سوال: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت مشہور واقعہ قرطاس کی اصل نوعیت کیا ہے؟حضرت عمرؓ کا اس معاملے میں کیا مؤقف ہے؟
جواب: اس واقعے کے متعلق امام بخاریؒ نے کتاب العلم، کتاب الجزیہ اور کتاب المغازی میں، امام مسلمؒ نے کتاب الوصیۃ میں، اور امام احمدؒ نے مسند ابن عباس میں متعدد روایات مختلف سندوں سے نقل کی ہیں جن کا سلسلہ ابن عباسؓ پر تمام ہوتا ہے۔ کسی دوسرے صحابی سے اس باب میں کوئی صریح روایت منقول نہیں ہوئی ہے۔خلاصہ ان سب روایات کا یہ ہے کہ وفات سے چار روز پہلے جمعرات کے دن حضور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدید تکلیف طاری تھی اور آخری وقت قریب معلوم ہورہا تھا۔اس حالت میں آپؐ نے حاضرین سے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لائو،میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔اس وقت گھرمیں بہت سے لوگ جمع تھے۔حضرت عمر ؓ نے کہا رسولؐ اﷲ اس وقت سخت تکلیف میں ہیں،ہمارے پاس قرآن موجود ہے،اﷲکی کتاب ہمارے لیے کافی ہے۔اس پر اختلاف ہوگیا۔بعض لوگوںنے کہا:نہیں، سامان کتابت لے آنا چاہیے تاکہ حضورؐ وہ چیز لکھوا دیں جس کے بعد ہم گمراہ نہ ہوسکیں۔ اور بعض اصحاب نے حضرت عمر ؓ کے خیال کی تائید کی۔ کچھ اور لوگوں نے کہا کہ حضورؐ سے پھر دریافت کرلو،آپؐواقعی کچھ لکھوانا چاہتے ہیں یا یہ بات آپؐ نے غلبۂ مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں فرمائی ہے [اصل الفاظ ہیں: مَا شَانُہٗ اَھَجَرَ اِسْتَفْھَمُوْہُ۔ بعض لوگوں نے غلطی سے اَھْجَرَ سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ تمام معتبر روایات میں اَھَجَرَ آیا ہے، یعنی اِس میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ اور ھَجَرَ یَھْجُرُ کے معنی ہیں وہ باتیں جو مریض غلبۂ مرض کی حالت میں گھبراہٹ کی وجہ سے یا بے حواسی کے عالم میں کرتا ہے۔
نیز یہ قول کسی روایت میں بھی حضرت عمرؓ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے بلکہ قالوا کے ساتھ منقول ہوا ہے۔ یعنی جو لوگ وہاں موجود تھے، ان میں سے بعض نے یہ کہا]۔اس طرح بعض لوگ آپس میں بحث کرنے لگے اور بعض حضورؐ سے آپؐ کا مدعا پوچھنے میں لگ گئے۔ اس پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذَرونِیْ فَالَّذِیْ اَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْ عُوْنِیْ اِلَیْہِ۔ قُوْمُوْا عَنِّیْ وَلَاَ یْنَبَغِیْ عِنْدِیْ التَّنَازُعَ۔
’’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو،میں جس حالت میں ہوں،وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔میرے پاس سے اٹھ جائو،میرے پاس جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ایک یہ کہ مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔دوسری یہ کہ جو وفود باہر سے آئیں،ان کی اسی طرح خاطر داری کرنا جس طرح میں کرتاتھا ۔اور تیسری بات یاتو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان سے ادا نہ ہوئی،یا راوی سے فراموش ہوگئی۔روایات اس باب میں بھی واضح نہیں ہیں کہ ابن عباسؓ نے اس کو فراموش کیا یا بیچ کے کسی راوی نے۔
یہ ہے کل کائنات اس قصے کی۔اگر کوئی سیدھے طریقے سے بات سمجھنا چاہے تو اصل صورت معاملہ کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔ اپنے محبوب ترین پیشوا اور رہبر کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ کر سب لوگوں پر اضطراب کا عالم طاری تھا۔مرض شد ت پکڑ چکا تھا۔سب کی آنکھوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سخت کرب کی حالت میں مبتلا تھے۔ابن عباسؓ کا اپناحال یہ تھا کہ اس واقعے کے سال ہا سال بعد ایک روز شاگردوں کے سامنے ان کی زبان پر جمعرات کا لفظ آیا اور یکایک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ شاگردوں نے پوچھا: جمعرات کا کیا قصہ ہے جسے یاد کرکے آپ یوں بد حال ہوئے جا رہے ہیں۔ فرمایا: وہ دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت تکلیف کا تھا (اِشْتَدَّ بِالنَّبِیِّ ﷺ وَجْعَہٗ )۔ اس سے انداز ہ کیا جاسکتا ہے کہ عین اس وقت جب کہ حضورؐ پر یہ حالت طاری تھی، آپ کے جاں نثار خادموں پر کیا گزر رہی ہو گی۔ اس حالت میں قلم دوات منگوانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشافرمایا اور غرض یہ بیان فرمائی کہ ایسی کوئی چیز لکھوا دیں جس سے اُمت بعد میں گمراہ نہ ہونے پائے۔ مرض کی شدت میں ممکن ہے کہ بات صاف بھی زبان مبارک سے ادا نہ ہوئی ہو۔ اسی وجہ سے حاضرین کو شبہ ہوا کہ گھبراہٹ میں آپؐ نے کچھ فرمایا ہے جسے پھر پوچھ کر تحقیق کرنا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر جو کچھ کہا، اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ’’حضورؐاس وقت سخت تکلیف میں مبتلا ہیں،اس حالت میں آپؐاُمت کے لیے فکرمند ہورہے اور کچھ لکھوانے کی زحمت اٹھانا چاہتے ہیں، تاکہ لوگ آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائیں۔ لیکن اس وقت آپؐ کو یہ زحمت دینی مناسب نہیں ہے، اُمت کی ہدایت کے لیے قرآن موجود ہے، ان شاء اﷲ وہی گمراہی سے بچانے کے لیے کافی ہو گا۔‘‘ ممکن ہے اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کو یہ بھی اندیشہ ہوا ہو کہ اگر تحریر لکھواتے لکھواتے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وقت آن پورا ہوا ا ور بات اُدھوری رہ گئی تو کہیں وہ اُلٹی فتنے ہی کی موجب نہ بن جائے۔ بہرحال یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس موقع پر کوئی علم اور ہدایت کی حرص میں اس بات کا طالب ہوا کہ حضورؐ سے ضرورکچھ لکھوا لیا جائے، اور کسی نے محبت کی وجہ سے بھی اور دور اندیشی کی بِنا پر بھی آپؐ کو یہ زحمت دینا مناسب نہ سمجھا، اور کوئی اس شک میں پڑ گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واقعی کچھ لکھواناہی چاہتے ہیں یا شدت مرض کی وجہ سے گھبراہٹ میں کچھ فرما رہے ہیں۔ ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے کسی کی بات بھی ایسے موقع پر نہ تو خلاف توقع ہی تھی اور نہ اسے نامناسب ہی کہا جاسکتا ہے۔
اب رہ گئی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لکھوانا چاہتے تھے،آیا اس کی نوعیت عام نصائح کی سی تھی یا کسی ایسے اہم حکم کی جسے ثبت کرادینا اُمت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا، تو اس کا فیصلہ بعد کے واقعات نے خود ہی کردیا۔حضورؐ اس واقعے کے بعد بھی چار دن تک زندہ رہے۔ ان دنوں میں مرض کی شدت کا حال بھی یکساں نہیں رہا اور اس زمانے میں وہی سب لوگ آپؐ کے پاس بیٹھے بھی نہیں رہے جو جمعرات کے دن اس وقت خاص پر موجود تھے، بلکہ اس مدت میں آپؐ کو مسجد نبوی میں تشریف لے جانے اور جماعت صحابہ ؓ سے خطاب کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ اگر واقعی کوئی اہم حکم ایسا ہوتا جسے ضبط تحریر میں لانا ضروری تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں کسی وقت بھی اپنے کاتبوں میں سے،یا خود اہل بیت میں سے کسی کو بلا کر اسے لکھوا سکتے تھے، یا زبانی ارشادفرما سکتے تھے۔اس سے حضرت عمرؓ کے اس موقف کی صحت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھا تھا کہ شدت مرض میںاُمت کی فلاح کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند ہورہے ہیں اور کچھ نصائح لکھوانا چاہتے ہیں،کسی بنیادی مسئلے کا فیصلہ لکھوانا اس حالت میں پیش نظر نہیں ہے۔ اس لیے اس تکلیف اور کرب کے عالم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زحمت دینا ٹھیک نہیں، ہمیں قلم دوات لانے کے بجائے حضورؐ کویہ اطمینان دلانا چاہیے کہ آپؐ ہمارے لیے پریشان نہ ہوں،آپؐ اپنی اُمت کو وہ کتابِ ہدایت دے کر جارہے ہیں جو ان شاء اﷲاسے کبھی گمراہ نہ ہونے دے گی۔
آخر میں حضرت علیؓ کی بھی ایک روایت ملاحظہ فرمالی جائے،جسے مسند احمد میں نقل کیا گیا ہے۔ اس میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
اَمَرَنِی اَنْ اتِیْہِ بِطَبقٍ یَکْتُبُ فِیْہِ مَا لَاتَضِلُّ اُمَّۃٌ بَعْدِہٖ قَالَ فَخَشَیْتُ اَنْ تَفُوْتَنِیْ نَفْسُہٗ قَالَ قُلْتُ اِنِّی اَحْفَظُ وَاَعِیْ قَالَ اُوْصِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ وَمَامَلَکَت اَیْمَانُکُمْ۔
’’مجھے نبیؐ نے حکم دیا کہ شانے کی ایک ہڈی لے آئوں تاکہ آپؐاس میں ایک ایسی چیز لکھ دیں جس سے آپؐ کی اُمت آپؐ کے بعد گمراہ نہ ہونے پائے۔ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے لاتے لاتے آپؐ کی وفات نہ ہوجائے۔ اس لیے میں نے عرض کیا:آپؐ فرمائیں،میں یاد رکھوں گا۔ اس پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وصیت کرتا ہوں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنے کی اور ان غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی جو تمہاری ملک میں ہوں۔‘‘ (ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)