رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
رسول اﷲؐ کی میراث کا مسئلہ:
سوال: باغ فد ک کے مسئلے پر آپ کی تحقیق کیا ہے ؟اس کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا پر ظلم کیا گیا۔ کیا آںحضورؐ کی میراث میں سے حضرت فاطمہ ؓ کا حق نہ دینا خلیفۂ اوّل ودوم کے لیے درست تھا؟
جواب: باغ فدک کے مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا سرکار رسالت مآبؐ کے پاس آپ کی وفات کے وقت کوئی ذاتی جائداد تھی بھی کہ اس میں میراث جاری ہوتی؟یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نبوت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا تمام وقت دعوتِ حق کے کام پر صرف ہونے لگا تھا اور کاروبار تجارت بند ہوچکا تھا۔مکہ معظمہ میں جب تک قیام رہا، اس اثاثے پر گزر بسر ہوتی رہی جو آپ ؐ کے اور حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے پاس پہلے کا بچا بچایا موجود تھا۔ ہجرت فرمائی تو گویا دامن جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے او رمدینہ طیبہ پہنچ کر آپ بالکل بے سروسامان تھے۔ ابتدائی زمانہ انتہائی عسرت اور تنگ دستی کے ساتھ گزرا۔ پھر جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے اموال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنے کا حکم دیا، اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق عطا فرمایا کہ جس قدر مناسب سمجھیں اور ضرورت محسوس فرمائیں، اپنی ذات پر اور اپنے قرابت داروں کی حاجات پر صَرف کرنے کے لیے اس حصے میں سے لے لیا کریں، باقی اﷲ کے کام میں اور یتامٰی، مساکین اور مسافروں کی خبر گیری میںصَرف فرمائیں۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ الانفال8:41
یہ پہلا ذریعۂ معاش تھا جو آپؐ کو عطا کیا گیا۔
اس کے بعد ہجرت کے چوتھے سال اﷲ تعالیٰ نے مدینہ کے یہودی قبیلے بنی النضیر پر آپؐ کو فتح عطا فرمائی اور وہ اپنی جائدادیں چھوڑ کر شہر سے چلے گئے۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:
وَمَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْہِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللہَ يُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۶ [٥٩:٦] مَآ اَفَاۗءَ اللہُ عَلٰي رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۰ۙ كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۰ۭ الحشر59:6-7
’’اور جو کچھ دلوایا اﷲ نے ان سے اپنے رسو ل کو، نہیں دوڑائے اس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ، مگر اﷲ مسلط کردیتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جو کچھ دلوادے اﷲ( اس طریقے پر) اپنے رسول کو بستیوں کے لوگوں سے تو وہ اﷲ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں اور یتامٰی اور مساکین اور مسافروں کے لیے تاکہ یہ مال تمہارے دولت مندوں ہی کے درمیان نہ گردش کرتا رہے۔‘‘
اس آیت کی رو سے اﷲ تعالیٰ نے ان تمام اموال،جائدادوں اور علاقوں کو جو براہِ راست جنگی کارروائی کے ذریعے سے فتح نہ ہوئے ہوں بلکہ اسلامی حکومت کے رعب اور دبدبے سے مسخر ہوجائیں،غنیمت سے الگ کرکے حکومت کی ملک قرار دے دیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق عطا فرمایا کہ وہ اپنی اور اپنے قرابت داروں کی ضروریات کے لیے اس سرکاری مال میں سے جس قدر مناسب سمجھیں لے لیں۔
ان احکام کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینۂ طیبہ میں بنی النضیر کے چھوڑے ہوئے باغوں میں سے چند نخلستان،خیبر میں سے کچھ اراضی ،اور فدک میں سے کچھ اراضی اپنے لیے مخصوص کرلی تھی۔ اس جائداد کی آمدنی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اور اپنے اہل واعیال کی ضروریات پوری کرتے تھے، اپنے قرابت داروں کی مدد فرماتے تھے، اور جو کچھ بچتا تھا، اسے اﷲ کی راہ میں صرف فرما دیتے تھے۔
غور کیا جائے تو صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ ان دونوں ذرائع(غنیمت اور فے) سے جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا،اس کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ آپؐ نے اپنے ذاتی کاروبار سے کوئی جائداد پیدا کی ہو اور وہ آپؐ کے بعد بھی آپؐ کی ملک رہے اور آپؐ کے وارثوں میںتقسیم ہو،بلکہ اس کی نوعیت یہ تھی کہ آپؐ اسلامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا سارا وقت سرکاری کام پر صرف فرماتے تھے اور اپنا کوئی ذاتی ذریعۂ معاش نہ رکھتے تھے،اس لیے آپؐ کو یہ حق عطا فرمایا گیا کہ حکومت کی املاک میں سے اتنی جائداد اپنے تصرف میں رکھیںجس سے آپؐ کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ ظاہر ہے کہ اﷲ کے رسولؐ نے نبوت کا یہ کار ِعظیم اپنے لیے جائدادیں اور جاگیریں پیدا کرنے کے لیے تو نہیں کیا تھا۔ یہ تو ایک خدمت تھی جو خالص اﷲ کے لیے آپؐ انجام دے رہے تھے اور اس کا اجر اﷲ ہی کے ذمے تھا۔ریاست کے مال میں آپ کا حصہ بس اتنا تھا کہ آپؐ اپنے نفس کے اور اپنے اہل وعیال اور حاجت مند قرابت داروں کے حقوق ادا کرسکیں۔یہ حصہ آپؐ کی حیات طیبہ تک ہی باقی رہ سکتا تھا۔آپؐ کی وفات کے بعد اس کو ذاتی املاک کی طرح وارثوں میں تقسیم کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔اس بات کو حضور ؐ نے خود اپنی زندگی ہی میں صاف کردیا تھا:
لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنا رًا وَلَا دِرْھَمًا، مَاتَرُکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمُؤنَۃَ عَامِلِیْ فَھُوَصَدَقَۃٌ۔ (بخاری،مسلم،مؤطا،مسند احمد)
’’میرے وارث کوئی دینار ودرہم آپس میں تقسیم نہ کریں۔ میں نے جو کچھ چھوڑا ہے،میری بیویوں کا نفقہ اور میرے عامل کا حق الخدمت ادا کرنے کے بعد وہ سب صدقہ ہے۔‘‘
لَا نُوْرَثُ مَا تَرَ کْنَا فَھُوْ صَدَقَۃٌ اِنَّمَا یَاکُلُ اٰل مُحَمَّدٍ مِيْ ھٰذا المالِ لیسَ لَھُمْ اَن یَّزِیْدُوْا عَلَی الْمَاکَلِ۔ (بخاری،مسند احمد،مسلم)
’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا،جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے۔محمدؐ کے گھر والے تو اس مال میں سے بس کھالیتے ہیں۔کھانے بھر سے زیادہ لینے کا انہیںحق نہیں ہے۔‘‘
اِن اللّٰہ عزوجل اِذا اَطْعَمَ نَبِیًا طَعْمَۃً ثُمَّ قَبَضَہٗ جَعَلَہٗ لِلَّذِیْ یَقُوْمُ بَعْدَہٗ۔
(مسند احمد، مرویات ابوبکر صدیق ؓ)
’’اﷲ عزو جل کسی نبی کو بسر اوقات کے لیے جو کچھ دیتا ہے وہ اس کی وفات کے بعد اس شخص کے حوالے کردیتا ہے جو اس کا جانشین ہو۔‘‘
اس مال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایات کچھ خفیہ نہ تھیں بلکہ تمام جلیل القدر صحابہ ؓ ان کو جانتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓہی تنہا ان کے راوی نہیں ہیں۔ حضرت علی ؓ، حضرت عباسؓ، حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت ابو ہریرہ ؓاور تمام ازواجِ مطہراتؓ کی یہ شہادت نہایت مستند روایات سے ہم تک پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے کی یہی نوعیت بیان فرمائی تھی۔ اس فرمان مبارک کے ہوتے ہوئے کون شخص یہ تصور کرسکتا ہے کہ حضورؐ کے خلفا آپؐ کی چھوڑی ہوئی جائداد کے معاملے میں کوئی دوسرا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوسکتے تھے۔
اب دیکھیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مطالبۂ میراث کس طرح اٹھا اور آپؐ کے خلفا نے اس پر اپنے اپنے زمانوں میں کیا کارروائی کی۔ شرعی قاعدے کے مطابق میراث کامطالبہ کرنے کے حق دار تین فریق ہوسکتے ہیں۔ایک سیّدہ حضرت فاطمۃالزہراہؓ، بیٹی کی حیثیت سے، دوسرے حضرت عباس ؓ چچا کی حیثیت سے ،تیسرے جملہ ازواج مطہراتؓ بیویوں کی حیثیت سے۔ ان میں سے پہلے دو فریقوں یعنی سیّدہ فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت ابو بکرؓ کے خلیفہ مقرر ہونے کے فوراً بعد خیبر، فدک اور مدینہ طیبہ کی اس تمام جائداد کے متعلق، جو حضورؐ کے تصرف میں تھی، اپنا دعویٰ پیش کیا۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ ؓ نے استدلا ل کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ جب تمہاری وفات کے بعد تمہارا ترکہ تمہارے اہل وعیال ہی میں تقسیم ہونا ہے تو آخرمیرے باپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد ان کے ترکے میںسے مجھے کیوں میراث نہ ملے؟ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓنے جو کچھ فرمایا،وہ یہ تھا:
اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہ قال لا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ وقالَ لَسْتُ تارِ کًا شیئًا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ یَعْمَلُ بِہٖ اِلاِ عَمِلْتُ بِہٖ فَانِّیْ اخشی اِنْ تَرَکْتُ شَیئًا مِنْ اَمْرِہٖ اَنْ اَزِیْغَ۔ (بخاری،کتاب فرض الخمس، مسند احمد،مرویات ابو بکر صدیق ؓ)
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ پھر حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ میں کوئی ایسا کام نہ رہنے دوں گا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اورمیں وہ نہ کروں، کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ اگرمیں نے آپؐ کے اوامر میں سے کسی کو بھی چھوڑ دیا تو گمراہ ہوجائوں گا۔‘‘
وَلٰکِنْ اَعُوْلُ مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَعُوْلُہٗ وَاُنْفِقُ عَلٰی مَنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہﷺ یُنْفِقُ۔ (ترمذی، کتاب السیر،باب ماجا ء فی ترکۃ النبیؐ۔ مسند احمد، مرویات ابو بکر صدیق ؓ)
’’مگر میں ان سب لوگوں کی عیال داری کروں گا جن کی عیال داری رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، اور ان سب لوگوں پر خرچ کروں گا جن پر حضورؐ خرچ فرمایا کرتے تھے۔‘‘
وَاللّٰہِ لَقَر اَبۃُ رَسُوْلِ اللّٰہ اَحَبُّ اِلَیَّ اَنْ اَصِلَ مِنْ قَرَاَبِتیْ۔
(بخاری، کتاب المغازی،باب حدیث بنی النضیر)
’’خدا کی قسم! میرے لیے اپنے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنے کی بہ نسبت رسول اﷲؐ کے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنا زیادہ محبوب ہے۔‘‘
جناب سیّدہؓ اور حضرت عباس ؓ سے حضرت ابوبکر ؓ کی اس گفتگو کے متعلق جتنی مستند روایات ہم تک پہنچی ہیں،ان میں سے کسی میں بھی یہ بات کہیں اشارتاً یا کنایتاً بھی مذکور نہیں ہے کہ جناب سیدہ ؓ یا حضرت عباس ؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی یہ بات سن کرجواب میں فرمایا ہو کہ آپ نبیؐ کی طرف ایک غلط بات منسوب کررہے ہیں۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس فرمان کی نسبت صحیح تھی تو پھر خلیفۂ رسول کے لیے واجب العمل قانون اس کے سوا اور کوئی نہ ہوسکتا تھا جو رسول پاکؐ سے ثابت تھا۔ آخر اس فرمان کی زدصرف جناب سیدہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما ہی کے مفاد پر تو نہ پڑتی تھی۔خو د خلیفہ کی اپنی صاحب زادی حضرت عائشہ ؓ کا مفاد بھی اسی کی لپیٹ میں آجاتا تھا۔ کیوں کہ وہ بھی اس کی بِنا پر اپنے شوہر کی میراث سے محروم ہوتی تھیں۔ خلیفۂ برحق نے آخر انہی کو اس قانون سے کب مستثنیٰ کیا؟ [اِس واقعے کی تفصیل اور مستند روایات کے لیے ملاحظہ ہو:
بخاری: کتاب فرض الخمس۔کتاب فضائل اصحاب النبیؐ۔کتاب المغازی۔کتاب الفرائض۔
مسلم: کتاب الجہاد، باب حکم الفیٔ۔
نسائی: کتاب قسم الفیٔ
ترمذی: کتاب السیر، باب ماجاء فی ترکۃ النبیؐ۔
مسند احمد: مرویات ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ]۔
اب رہ گیا تیسرا فریق، یعنی ازواج مطہرات کا گروہ،تو اس نے بھی ارادہ کیا تھا کہ حضرت عثمانؓ کو اپنا نمائندہ بناکر حضرت ابوبکرؓ کے پاس بھیجے اور حضورؐ کے ترکے میں سے اپنے آٹھویں حصے کا مطالبہ کرے۔مگر حضرت عائشہ ؓ نے اس کی مخالفت کی اور تمام ازواج مطہرات کو خطاب کرکے فرمایا:
اَلَا تَتَّقِیْنَ اللّٰہَ اَلَمْ تَعْلَمْنَ اَنَّ النَّبِیّ کَانَ یَقُوْلُ لَانُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ (یُرِیْدُ بِذَالِکَ نَفْسَہ) اِنَّمَا یَأکُلُ اٰلُ مُحَمَّدٍ فِیْ ھَذذا الْمَالِ۔
’’کیا آپ اﷲؐ سے نہیں ڈرتیں ؟کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔محمدؐ کے اہل وعیال تو بس اس مال میں سے کھا سکتے ہیں۔‘‘
حضرت عائشہ ؓ کی یہ بات سن کر سب ازواج مطہرات اپنے دعوے سے دست بردار ہوگئیں [ری: کتاب المغازی،باب حدیث بنی النضیر۔کتاب الفرائض،باب قول النبیؐ ، لانورث… مسلم: کتاب الجہاد، باب حکم الفئی مؤطا: باب ماجاء فی ترکۃ النبیؐ]۔
ایک بات اس سلسلے میں یہ کہی جاتی ہے کہ فدک کے متعلق نبیؐ نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کردیا تھا کہ وہ حضرت فاطمہ ؓ کو دیا جائے گا۔جناب سیّدہ نے حضرت ابوبکرؓ سے خاص طورپر اسی کا مطالبہ کیا تھا اور شہادت میں حضرت علیؓ اور ام ایمن کو پیش کیا تھا۔لیکن حضرت ابوبکرؓ نے ان کی شہادت قبول نہ کی اور فدک کی جائدادان کے حوالے کرنے سے انکارکردیا۔
مگریہ قصہ حدیث کی مستند روایات میں سے کسی میں بھی مذکور نہیں ہے۔البتہ بلاذری اور ابن سعد نے اسے نقل کیاہے اور ان کے بیان میں بھی کافی اضطراب ہے۔ ابن سعد کی روایت یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے یہ بات خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی بلکہ ام ایمن سے سنی تھی اور ان ہی کو شہادت میں پیش کردیا۔بخلاف اس کے بلا ذُری کی روایت یہ ہے کہ جناب سیّدہ نے خود یہ دعویٰ کیا تھا کہ میرے والدؐ نے فدک مجھے دیا ہے۔پھر ایک روایت کی رو سے انہوں نے حضرت علیؓاور ام ایمن کو شہادت میں پیش کیا، اور دوسری روایت کی رو سے ام ایمن اور رباح(نبیؐ کے آزاد کردہ غلام) کو [طبقات ابن سعد،ذکر میراث النبیؐ ۔فتوح البلدان للبلاذری ،ذکر فدک]۔
یہ تو ہے اس قصے کی حیثیت باعتبار روایت۔ اب قانونی حیثیت سے دیکھیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل یا تو ہبہ ہوسکتا تھا یا وصیت۔ اگر کہا جائے کہ ہبہ تھا، تو وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں فدک کا قبضہ حضرت فاطمہ ؓ کودے دیا ہوتا۔ورنہ محض زبان سے کسی چیز کو کسی کے لیے نام زد کردینااور یہ نیت کرنا کہ وہ چیز مالک کے مرنے کے بعد معطیٰ لہ کو ملے گی،ہبہ نہیں بلکہ وصیت ہے۔اب اگر کہاجائے کہ یہ وصیت تھی، تو قرآن مجید میں میراث کا قانون نازل ہوجانے کے بعد آں حضرتؐ خود یہ اعلان فرما چکے تھے کہ ’’لَا وَصِیَّۃَ لَوَارِتٍ‘‘ ‘‘ ’’اب ترکے کی تقسیم کے معاملے میں کسی وارث کے حق میں وصیت نہیںکی جاسکتی۔‘‘پھر یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی اعلان کردہ قانون کے خلاف دوسرے وارثوں کو چھوڑ کر ایک خاص وارث کے حق میںکوئی وصیت فرمائی ہوگی۔
علاوہ بریں ہبہ یا وصیت کے سوال کو نظر انداز کرکے صرف اس شہادت ہی کو دیکھا جائے جو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کی گئی تھی تو وہ صریح قرآنی قانون شہادت کے لحاظ سے ناکافی تھی۔ قرآن کی رو سے یا تو دو مردوں کی شہادت معتبر ہے یا ایک مرد اور دو عورتوںکی شہادت۔ جناب سیّدہ(اگر یہ قصہ درست مانا جائے) صرف ایک عورت، یا ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی لائی تھیں۔ اس صورت میں قانون کے خلاف فیصلہ کیسے کیا جاسکتا تھا؟ کیا شخصیتوںکو دیکھ کر شہادت کا شرعی نصاب بد ل دیا جاتا؟
اس کے بعد یہ مسئلہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں دوبارہ اٹھا۔ان کی خلافت پر دو سال گزر چکے تھے کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے کا مسئلہ پیش کیا،اور انہوں نے خیبر وفدک کو مستثنیٰ کرکے مدینے والی جائدا د دونوں صاحبوں کی تولیت میں اس شرط پر دے دی کہ وہ اس کی آمدنی انہی مصارف میںصرف کریں گے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں صرف فرماتے تھے [بخاری، کتاب فرض الخمس وکتاب المغازی۔مسند احمد،مرویات ابو بکر صدیق ؓ۔ مسلم،کتاب الجہاد، باب حکم الفئی ]۔لیکن اس کے بعد حضرت علیؓ اورحضرت عباسؓ کے درمیان اس جائداد کے انتظام پر نزاع واقع ہوگئی اور وہ اس قضیے کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے۔ اس کانہایت مفصل قصہ مالکؓ بن اوس بن حدثان کے حوالے سے تمام معتبرکتب حدیث میں روایت ہوا ہے۔
حضرت مالک ؓ کہتے ہیں کہ میںحضرت عمرؓ کے پاس بیٹھا تھاکہ ان کے حاجب نے آکر عرض کیا کہ عثمانؓ بن عفان، عبدالرحمنؓ بن عوف، زبیرؓ بن العوام اور سعدؓ بن ابی وقاص حاضری کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اجازت دے دی اور وہ تشریف لے آئے۔اس کے تھوڑی دیر بعد وہ پھر آیا اور اطلاع دی کہ عباسؓ بن عبدالمطلب اور علی ؓبن ابی طالب تشریف لائے ہیں اور وہ بھی اجازت کے طالب ہیں۔ حضرت عمرؓ کے اجازت دینے پر دونوں صاحب اندر تشریف لے آئے اور سلام کے بعدبیٹھتے ہی حضرت عباسؓ نے کہا کہ اے امیر المومنین!میرے اور اس کے(اپنے بھتیجے حضرت علیؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) مقدمے کا فیصلہ فرما دیجیے۔اس کے ساتھ چچا نے بھتیجے کے حق میں کچھ سخت سست الفاظ بھی استعمال کیے۔دوسرے حاضرین نے کہا: واقعی امیر المومنین!ان کا قضیہ بہت طول کھینچ گیا ہے،آپ انہیں اس جھگڑے سے نجات دلایئے۔ حضرت عمرؓ نے کہا ٹھہریے،میں آپ صاحبوں کو اس خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوںجس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں،کیا آپ جانتے ہیں کہ رسولؐ اﷲنے فرمایا تھا: ’’ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے؟‘‘چاروں صاحبوںنے کہا:ہاں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓاور حضرت عباسؓ کو اسی طرح اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھا:کیا آپ دونوں صاحب جانتے ہیں کہ حضورؐنے ایسا اور ایسا فرمایا تھا؟ دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا:اچھا اب میں آپ لوگوںکو اس معاملے کی حقیقت بتاتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے فے کے معاملے میں اپنے رسولؐ کو وہ مخصوص اختیارات عطا فرمائے تھے جو کسی دوسرے کو عطا نہیں فرمائے۔ پھرسورہ حشرکی آیت ’’وَمَا اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ‘‘آخر تک تلاوت کرکے حضرت عمرؓ نے فرمایا:س آیت کی رو سے یہ اموال فے خالصتاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے۔مگر خدا کی قسم!حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو چھوڑکر ان سب کو اپنے لیے نہیں سمیٹ لیا اور نہ ان کے معاملے میں کوئی خود غرضی برتی، بلکہ انہیں آپ ہی لوگوں میں تقسیم کردیا، یہاں تک کہ تین جائدادیں(مدینہ، فدک اور خیبر والی )بچ گئیں۔ ان جائدادوں میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اور اپنے اہل وعیال کا سال بھر کا نفقہ لے لیتے تھے اور باقی ساری آمدنی انہی کاموں میں صرف فرماتے تھے جن میں اﷲ کا مال صرف کیا جاتا ہے۔ یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ان اموال کے معاملے میں زندگی بھر رہا ہے۔میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ یہ بات آپ سب لوگوں کے علم میں ہے؟ چاروں صاحبوںنے جواب دیا: جی ہاں۔ پھرحضرت عباسؓاور حضرت علیؓ سے مخاطب ہوکر کہا: میں آپ دونوں کو بھی اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ،آپ یہ بات جانتے ہیں؟انہوںنے جواب دیا :جی ہاں ہم جانتے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے کہا:پھر اﷲ نے اپنے نبیؐ کو اٹھا لیا اور ابوبکرؓ نے یہ کہہ کر کہ اب میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں، ان اموال کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ان کے معاملے میں اسی طریقے پر عمل کیا جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ اﷲ جانتا ہے کہ اس میں ابوبکر ؓ بالکل سچے تھے اور ٹھیک ٹھیک حق کے تابع تھے۔پھر اﷲ نے ابوبکرؓ کو بھی اٹھا لیا اور میں ان کا ولی ہوا۔ میں نے اپنی امارت کے پہلے دو سال تک اموال کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسی طرح عمل کیا جس طرح رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرؓ کرتے تھے۔اﷲ جانتاہے کہ میں بھی اس میں سچا اور تابع حق تھا۔پھر(حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا:) آپ دونوں صاحب میرے پاس آئے اور آپ نے مجھ سے اس جائداد کے معاملے میں گفتگو کی۔اس وقت آپ دونوں کے درمیان اتفاق تھا۔اے عباس! آپ نے مجھ سے اپنے بھتیجے کی میراث طلب کی، اور اے علی! آپ نے مجھ سے اپنی بیوی کے واسطے سے ان کے والد کی میراث مانگی۔میں نے آپ سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ لہٰذا اگر آپ چاہیں تو میں اس شرط پر یہ جائداد آپ کے حوالے کرسکتا ہوں کہ آپ اس میں اسی طرح عمل کریں جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ابو بکرؓ عمل کرتے رہے اور خلیفہ ہونے کے بعد سے میں عمل کررہا ہوں ۔لیکن اگریہ شرط آپ کو منظور نہ ہو تو مجھ سے اس معاملے میں بات نہ کیجیے۔ پھر حضرت عمرؓ نے چاروں صاحبوں کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھا: کیوں حضرات! میں نے اسی شرط پر یہ جائداد ان دونوں اصحاب کے حوالے کی تھی؟انہوں نے کہا: ہاں۔پھر حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کو بھی اسی طرح خدا کا واسطہ دے کرپوچھا کہ اس جائداد کو حوالے کرتے وقت میری یہی شرط تھی؟انہوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا:اب آپ چاہتے ہیں کہ میں اس سے مختلف کوئی فیصلہ کردوں۔ اس خدا کی قسم جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں،میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کروں گا،اگر آپ اس شرط پر عمل نہیں کرسکتے تو یہ جائداد میرے حوالے کردیجیے،میں اس کا انتظام کرلوں گا [بخاری:کتاب فرض الخمس، کتاب المغازی، کتاب النفقات، کتاب الفرائض،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔
مسلم:کتاب الجہاد۔
ترمذی: کتاب السیر،باب ماجاء فی ترکۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم۔
ابو دائود: کتاب الخراج والفئی،باب صفایا رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم۔
مسند احمد: مرویات عمر فاروقؓ]۔
یہ ہے اس معاملے کی پوری تاریخ جو حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانے میں پیش آئی۔ اسے دیکھ کر ہر شخص خود رائے قائم کرسکتا ہے کہ اس معاملے میں جو کچھ کیا گیا، وہ ظلم تھا یا عدل اور حق؟ اس کے ساتھ دو باتیں اور بھی ہیں جو صحیح رائے قائم کرنے کے لیے نگاہ میں رہنی چاہییں:
اوّل یہ کہ اصل بحث صرف یہ تھی کہ اس جائداد کو نبیؐ کے بعدمیراث میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں،یہ بحث نہ تھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال اور قرابت داروں کو بیت المال سے نفقہ پانے کا حق ہے یا نہیں؟ تاریخ گوا ہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ نے خود اپنی ذات اور اپنے خاندان والوں سے بدرجہ ہازیادہ ان حضرات کی خدمت کی۔ان کے حق کو ہر دوسرے حق پر مقدم رکھا، اور جو وظائف ان کے لیے جاری کیے ،وہ خیبر اور فدک اور مدینۂ طیبہ کی جائدادوں کے محاصل سے کہیں بڑھ کر تھے۔
دوسری بات جو اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے، بلکہ اس مسئلے میں فیصلہ کن ہے،وہ یہ ہے کہ خود سیّدنا حضرت علیؓ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی اس جائداد کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث قرار دے کر وارثوںمیں تقسیم نہیںکیا بلکہ اسے بدستور وقف فی سبیل اﷲ ہی رہنے دیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی میراث ہی تھی تو حضرت علیؓ کے لیے اپنے زمانہ اقتدار میں وارثوں کو اس سے محروم رکھنا کیسے جائز ہوگیا؟اسے ظلم ہی کہنے کو کسی کاجی چاہتا ہو تو پھر اسے اتنا انصاف تو کرنا ہی چاہیے کہ جس جس نے اس کا ارتکاب کیا ہے،ان سب کو ظالم کہے۔ایک ہی فعل پر کسی کے حق میں ایک فیصلہ اور کسی دوسرے کے حق میں دوسرا فیصلہ کرنا حق پرست آدمی کا کام نہیں ہے۔(ترجمان القرآن۔نومبر ۹۵۸اء)