رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کفارۂ جرم اور مسئلۂ کفاء ت:
سوال: (۱) کیا اگر کسی گناہ(مثلاً زنا) کی شرعی سزا ایک شخص کو اسلامی حکومت کی جانب سے مل جائے تو وہ آخرت میں اس گناہ کی سزا سے بری ہوجائے گا یا کہ نہیں؟
(۲) کیا حدیث یا قرآن میں کوئی اصولی ہدایت اس امر کی موجود ہے کہ ہر شخص اپنی قوم(ذات) میں ہی شادی کرے۔واضح رہے کہ میں کفاء ت کا اس معنی میں تو قائل ہوں کہ فریقین میں مناسبت ہونی چاہیے،غیر ضروری معیار کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔
جواب: (۱) شرعی سزا جاری ہونے کے بعد آخرت میں آدمی کی معافی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ آدمی نے اس کے ساتھ خدا سے توبہ بھی کی ہو اور اپنے نفس کی اصلاح کرلی ہو۔لیکن اگر بالفرض ایک شخص نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا،مگر اس نے اپنے گناہ پر اپنے خدا کے سامنے کوئی اعتراف ندامت نہ کیا، کوئی توبہ نہ کی،چوری چھوڑ دینے کا کوئی فیصلہ نہ کیا،بلکہ اُلٹا اپنے دل میں اس شریعت ہی کو کوستا رہا جس نے اس کا ہاتھ کٹوایاہے،تو خدا کے ہاں اس کے معاف کردیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(۲) قرآن یا حدیث میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ ہرشخص اپنی قوم میں ہی شادی کرے۔ بلکہ نبیؐ اور صحابہ کرام ؓ کا عمل اس کے خلاف پایا جاتا ہے۔ (ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)