مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد سوم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ناروا تعصب:

میں نے کبھی نہ اپنے آپ کو معصوم عن الخطا سمجھا، نہ کہا۔ میںنہ صرف اپنے اوپر اور اپنی ہر بات پر تنقید کو جائزسمجھتا ہوں بلکہ خود اس کی دعوت دیتا ہوں اور اس کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔آپ میری ہی نہیں، جماعت اسلامی کے کسی شخص کی بھی کسی عبارت کا ایک لفظ اس الزام کے ثبوت میںپیش نہیں کرسکتے کہ ہم اسلام کی تعبیر کا حق صرف اپنے لیے مخصو ص کرتے ہیں، یا اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں۔لیکن اگر آپ برا نہ مانیں تو میں صاف کہوں کہ آپ نے اس نمبر میں جو کچھ لکھا ہے،وہ سراسر تعصب کی بِنا پر لکھا ہے۔ جو حضرات میرے اوپر طرح طرح کے بہتان لگاتے ہیں،میری عبارتوں کو توڑ مروڑ کر ان کو غلط معنی پہناتے ہیں، اور بدترین قسم کے جھوٹے الزامات لگا کر نہ صرف تضلیل وتکفیر کے فتوے جڑتے ہیں،بلکہ جگہ جگہ تقریروں اور اشتہاروں کے ذریعے سے میرے خلاف عوا م کو بھڑکاتے بھی پھرتے ہیں،وہ تو آپ کے نزدیک صرف ’’تنقید ‘‘ کرنے والے ہیں اور ان کا یہ فعل کسی درجے میں بھی آپ کو قابل اعتراض یا قابل شکایت نظر نہیں آتا۔البتہ ہزاروں زیادیتوں پر صبر کرنے کے بعد اگر کبھی جماعت اسلامی کے کسی شخص کی زبان وقلم سے کوئی ایک لفظ ان کی تردید میں نکل جاتا ہے تو وہ آپ کو طعن نظر آتا ہے اور اس کی آپ شکایت فرماتے ہیں۔

۱۴۔ تنقید کا لفظ جس معنی میں آپ نے اپنے اعتراض نمبر ۱۳ میں استعمال فرمایا ہے، اس معنی میں تو صحابہ کرامؓ کجا، کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے انسان پر بھی تنقید کرنا میرے نزدیک سخت گناہ ہے۔ البتہ تنقید کے جو معنی اہل علم میں معلوم ومعروف ہیں،ان میں اﷲ تعالیٰ اور انبیا علیہم السلام کے سوا کسی انسان کو بھی میں تنقید سے بالا تر نہیں مانتا۔ کسی صحابی کا قول یا فعل بھی محض اپنے قائل وفاعل کی شخصیت کی بِنا پر حجت نہیں ہے بلکہ اس کی دلیل دیکھ کر رائے قائم کی جائے گی کہ آیا اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ دلیل کے لحاظ سے کسی بات کو جانچنے کا نام ہی تنقید ہے اور یہ تنقید مجھے نہیں معلوم کہ کس زمانے میں ناجائز رہی ہے۔ فقہ کے بکثرت مسائل میں مختلف صحابہ کے مختلف قولی اور عملی آثار پائے جاتے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ تابعین اورتبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین نے دلیل کی بِنا پر ان میں سے کسی کو قبول اور کسی کو رد کیا ہے۔آپ فقہ کی مبسوط کتابوں میں سے جس کو چاہیں اٹھا کر دیکھ لیں،آپ کو اس تنقیدکی ہزاروں مثالیں مل جائیں گی۔کیا وہ سب لو گ آپ کے نزدیک گناہ گار تھے جنہوں نے صحابہ کے مختلف اقوال وافعال میں اس طرح تنقیدی محاکمہ کیا؟ ’’اصحابی کالنجوم‘‘ [واضح رہے کہ اس حدیث کی سند نہایت کمزور ہے]۔والی حدیث کا اگر آپ نے یہ مطلب لیا ہے کہ ہرصحابی کا ہرقول و فعل واجب الاتباع ہے تو سلف وخلف میں کوئی صاحب علم بھی مجھ کو اس کا قائل نہیں ملا۔ آپ کو ملا ہو تو اس کا نام مجھے بھی بتائیں۔ البتہ ساری اُمت اپنے دین کے ہر مسئلے میں بہرحال کسی نہ کسی صحابی کے ذریعے ہی سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے، اور یہی اس حدیث کا منشا ہوسکتا ہے۔ ( ترجمان القرآن۔رمضان ۳۷۵اھ۔ مئی ۹۵۶اء)