رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تصوف سے متعلق چند تصریحات:
سوال: میں دعوت الی اﷲ اور اقامت دین اﷲ کے کام میں آپ کا ایک خیر خواہ ہوں،اور مل کر کام کرنے کی ضرورت کا احساس رکھتا ہوں۔ میں آپ کی طرف سے لوگوں کے اس اعتراض کی مدافعت کرتا رہتا ہوں کہ آپ تصوف کو نہیں مانتے۔آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے میرے ایک سوال کا جواب یہ دیا تھا کہ میرے کام میں اہل تصوف اور غیر اہل تصوف سب کی شرکت کی ضرورت اور گنجایش ہے۔باقی میں جب صوفی نہیں ہوں تو مکار تو نہیں بن سکتا کہ خواہ مخواہ تصوف کا دعویٰ کروں۔آپ کا یہ جواب سیدھا سادا اور اچھا تھا، مگر قلم کی لغزش انسان سے ہوسکتی ہے۔ آپ اپنے رسالے ہدایات( صفحہ ۳ا) میں لکھتے ہیں:
’’ذکر الٰہی جو زندگی کے تمام احوال میں جاری رہنا چاہیے،اس کے وہ طریقے صحیح نہیں ہیںجو بعد کے ادوار میں صوفیہ کے مختلف گروہوں نے خود ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے۔‘‘
یہ چوٹ اگر آپ جمیع صوفیہ پر نہ کرتے تو آپ کی دعوت کو کیا نقصان پہنچتا؟اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو واقعی صوفیہ کا حا ل معلوم نہیں یا آپ صوفیہ سے نفرت ظاہر کرکے تحریک اسلامی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔امید ہے کہ آپ اپنی اس عبارت میں تبدیلی کردیں گے۔‘‘
جواب: کسی مسئلے میں کسی شخص یا گروہ سے اختلاف کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدمی اس شخص یا گروہ کا مخالف ہے یا اس کا دشمن، یا جملہ مسائل میں اسے غلط کار سمجھتا ہے۔ آخر آپ حضرات خود شوافع، حنابلہ اور مالکیہ کی بہت سی آرا سے اختلاف کرتے ہیں اور بسا اوقات بڑے زور شور سے ان کی آرا کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنی لینے میں کوئی شخص حق بجانب ہوگا کہ آپ ان ائمۂ ثلاثہ اور ان کے پیرو علما کے مخالف ہیں اور ان کو قاطبۃً خطا کار قرار دیتے ہیں اور ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں؟
اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ آپ اپنے اس طرز فکر پر نظر ثانی فرمائیں اور اختلاف رائے کو مخالفت وعداوت اور عناد کے ساتھ خلط ملط نہ فرمائیں۔
میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصلاح باطن اور تزکیۂ نفس کا جو طریقہ قرآن وسنت اور عمل صحابہؓ سے ثابت ہے وہی کافی ہے اور اسی پرہمیں اکتفا کرنا چاہیے۔اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہے اور اس میں کمی وبیشی کرنا نہ درست ہے نہ مفید۔ اس سے ہٹ کر جو طریقے جس نے بھی ایجاد کیے ہیں، یا دوسرے ادیان و ملل کے متبعین سے اخذ کیے ہیں،ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس رائے میں اگر کوئی غلطی ہے تو آپ اس پر مجھے دلائل کے ساتھ متنبہ فرمائیں۔ میں پھر اس پر غور کروں گا۔ لیکن میں اس الزام سے براء ت ظاہر کرتا ہوں کہ اس اختلاف رائے کی وجہ سے میں صوفیہ کا مخالف ہوں، یا تصوف کا دشمن ہوں ،یا اہل تصوف کو بالکلیہ مطعون کرتا ہوں۔
سوال: آپ نے تھوڑی سی بدگمانی سے کام لے کر یہ سمجھا کہ شاید میں اختلاف اور مخالفت میں فرق نہیں کرتا۔ الحمد ﷲ مولانا… نے ایسی تربیت دی کہ ہم دونوں میں فرق کریں۔ اصلاح باطن کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے،بعینہٖ یہی نصیحت ہم اپنے متعلقین کو کرتے ہیں۔ ہم میں اور آپ میں شاید کوئی لفظی اختلاف ہورہا ہو۔مثلاً شوافع وحنابلہ سے ہم اختلاف کرتے ہیں مگر ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ امام شافعیؒ کی رائے غیر صحیح یا باطل ہے۔ مزید آپ فرماتے ہیں کہ وہ طریقے صحیح نہیں ہیں جو بعد کے ادوار میں صوفیہ کے مختلف گروہوں نے ایجاد کیے یا دوسروں سے لیے۔ میں ان کی کچھ مثالیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ نیز یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جو شخص صحیح کے خلاف طریقے پر ہے، اس کو آپ کیا فرمائیں گے؟ میں تو اس کے ساتھ صرف اختلاف نہیں بلکہ مخالفت بھی رکھتا ہوں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ ایک شخص کو صحیح کے خلاف طریقے پر بھی سمجھیں اور پھر اس کے ساتھ مخالفت بھی نہ رکھیں۔
جو طریقہ کتاب وسنت سے ہٹ کر نہ ہو،بلکہ اس کی روح اور مغز تک پہنچنے کے لیے ایجاد کیا گیاہو،اس کو غالباً آپ اپنے اصول کے مطابق اجتہاد فرمائیں گے (بدعت نہیں فرمائیں گے)۔ اسے قبول کرنے نہ کرنے کا آپ کو اختیار حاصل ہے مگر اسے باطل یا غیر صحیح نہیں فرما سکتے۔اگر فرمائیں گے تو پھر اس سے نہ صرف اختلاف رائے ہوگا بلکہ مخالفت ضروری ہوگی۔
ان امور کے بارے میں تصریح فرماویں تو بحث ختم ہوجائے گی۔
جواب: پچھلے عنایت نامے کے جواب میں شاید میں اپنی بات آپ کے سامنے پوری طرح واضح نہ کرسکا،اسی لیے آپ کو پھر اس سلسلے میں کچھ ارشاد فرمانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ورنہ اگر میرا مدعا آپ پر واضح ہوجاتا تو امید نہ تھی کہ یہ ضرورت محسوس ہوتی۔ میں مختصراً اپنی بات کی پھر وضاحت کرتا ہوں۔
یہ تو آپ جیسے صاحب علم سے مخفی نہیں ہے کہ المجتھد یُخْطی ویُصِیْبُ پھر یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ سلف سے خلف تک اہل علم نے نہ تو یہ طریقہ کبھی اختیار کیا ہے کہ جس کے فضل وشرف کے قائل ہوںاس کو بے خطا سمجھیں،اور نہ یہی ان کا طریقہ رہا ہے کہ جس کے اجتہاد میں کسی چیز کو غلط اور خطا سمجھیں، اس کی مخالفت پر اُتر آئیں اور اس کے فضل کا انکار کردیں۔اس کے بجائے انہوں نے جس چیز کو خطا سمجھا،اسے دلیل کے ساتھ رد کردیا،مگر اجتہاد کی غلطی کو کسی صاحب فضل کے فضل میں قادح نہیں مانا۔ وہ خطائے اجتہادی کو خطا بھی کہتے تھے اور اس سے اختلاف بھی کرتے تھے،مگر اس کے ساتھ مجتہد کا احترام بھی ملحوظ رکھتے تھے اور اس کی خطا کے سبب سے اس کے صواب پر پانی نہ پھیر دیتے تھے۔
یہی مسلک اس معاملے میں میرا بھی ہے۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ مثلاًجن بزرگوں نے سماع کو تقرب الی اﷲ کے ذریعہ کی حیثیت سے اختیار کیا ،ان کا اجتہادصحیح تھا۔ یا مثلاً جن حضرات نے تصور شیخ کا طریقہ اختیار کیا، وہ اپنے اجتہاد میں صائب تھے۔میں ان چیزوں کو غلط سمجھتا ہوں اور ان سے اختلاف کرنا اور لوگوں کو ان سے اجتناب کا مشورہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ مگراس کے ساتھ ان صوفیائے کرام کی شان میں کوئی گستاخی کرنا درست نہیں سمجھتا جن کی طرف یہ طریقے منسوب ہیں۔ (ترجمان القرآن۔اگست ا۹۶اء)