رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اذان اور نماز کی دعائوں کے متعلق چند شبہات:
سوال: ایک دن میں صبح کی اذان سن رہا تھا کہ ذہن میں عجیب وغریب سوالات اُبھرنے لگے اور شکو ک وشبہات کا ایک طوفان دل میں برپا ہوگیا… اذان سے ذہن نماز کی طرف منتقل ہوا، اورجب سوچنا شروع کیا تو نماز کی عجیب صورت سامنے آئی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ نماز کس طرح پڑھوں اور کیا پڑھوں؟
ایک مسلمان کو ماں کی گود ہی میں جو اوّلین درس ملتا ہے،وہ یہ ہے: ’’اﷲ ہی لائق عبادت ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں‘‘… پھر
(۱) اذان بلاوا ہے خالصتاً اﷲکی عبادت کے لیے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں، تو اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ کے ساتھ ہی اشھد ان محمد رسول اللّٰہ کے کیا معنی؟
(۲) نماز میں سورۂ فاتحہ، اخلا ص یا کوئی اور سورت جو ہم پڑھتے ہیں،ان میں صرف اﷲ ہی کی حمدو ثنااور عظمت وبزرگی کا بیان ہے۔ اسی طرح رکوع وسجود میں اسی کی تسبیح وتحلیل بیان ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو حضور سرورکائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے کہ تشہد اور دونوں درود شریف وغیرہ۔ کیا اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کی عبادت میں شریک نہیں ہو جاتے؟
(۳) دونوں درود شریف جو ہم پڑھتے ہیں،ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں پڑھتے ہوں گے۔ کیوں کہ ہم توپڑھتے ہیں: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی الِ مُحَمَّدٍ (اے اﷲ! رحمت فرما محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر) یہ دونوں درود شریف درحقیقت دعائیں ہیں اور اسی طرح تشہد اور دعا رَبِّ اجْعَلْنِیْ بھی۔عبادت نام دعائوں کا نہیں بلکہ اس خالق ارض وسماکی حمد وثنا بیان کرنے کا نام ہے، تو کیا یہ زیادہ مناسب نہیں کہ عبادت کے اختتام پر دعائیں مانگی جائیں، بہ نسبت اس کے کہ عین عبادت میں دعائیں مانگنی شروع کردی جائیں؟میرا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تشہد اور درود شریف وغیر ہ نہیں پڑھتے ہوں گے، کیوں کہ آپ ؐ سے یہ بعید ہے کہ عین نماز میں آپؐ اپنے لیے دعا ئیں مانگنے لگتے۔پھر ذرا تشہد پر غور فرمایئے۔ظاہر ہے کہ درود کی طرح اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشہد بھی پڑھتے تھے تو وہ بھی الگ ہوگا۔ کیوں کہ ’’اے نبی! تم پر سلام اور خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں‘‘ کی جگہ آپؐ پڑھتے ہوں گے: ’’مجھ پر سلام اور خداکی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔‘‘
(۴) اﷲ کی جو عبادت ہم بجا لاتے ہیں،اس کا نام الصلوٰۃ یعنی نماز ہے۔پھر یہ فرض ،سنت، وتر،نفل کیا چیز ہیں اور یہ پڑھ کر ہم کس کی عبادت کرتے ہیں۔جاتے تو ہم ہیں اﷲ کی عبادت بجا لانے اور پڑھنے لگتے ہیں نماز سنت،جس کی نیت بھی یوں باندھتے ہیں: دو رکعت نماز سنت،سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی، وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس طرح بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کااﷲ کی عبادت میں شریک ہوجانا ثابت نہیں ہوتا؟
(۵) نماز کے آخر میں جو سلام ہم پھیرتے ہیں،اس کا مخاطب کون ہے؟
(۶) کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزانہ پانچ نمازیں بجا لاتے تھے ؟اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے تھے جتنی ہم پڑھتے ہیں؟اس سوال کی قدرے میں نے تحقیق کی لیکن کوئی مستند حوالہ فی الحال ایسا نہیں ملا کہ اس سوال کا جواب ہوتا۔ بخلاف اس کے بخاری شریف میں یہ حدیث نظر آئی کہ نبیؐ نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔اسی طرح مؤطا کتا ب الصلوٰۃ میں یہ لکھا دیکھا کہ رات دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ یہ دونوں حدیثیں دو دو رکعت نماز ثابت کرتی ہیں۔
ان خیالات وشکو ک نے ذہن کو پراگندہ کررکھا ہے اور اکثر مجھے یقین سا ہونے لگتا ہے کہ ہماری موجودہ نماز وہ نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہو گی۔ خدارا میری اُلجھن کو دور فرمایے اور مجھے گمراہ ہونے سے بچایے۔مجھے نما ز چھوٹ جانے کا خطرہ ہے۔
جواب: آپ کے دل میں اگر وساوس پیدا ہوا کریں تو ان کی وجہ سے نماز ترک نہ کردیا کریں،بلکہ نماز پڑھتے رہیں اورا پنے وساوس کے متعلق کسی جاننے والے سے پوچھ کر اپنا اطمینان کرلیا کریں۔
جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کے جوابات یہ ہیں:
(۱) اذان میں محمدؐ کے رسو ل ہونے کی شہادت دی جاتی ہے نہ کہ خدا ہونے کی۔ پھر آپ کے دل میں یہ شبہ کیوں پیدا ہوا کہ رسالت کی شہادت دینے سے عبادت میں شرک واقع ہوجائے گا؟رسالت کی شہادت تو اس لیے دی جاتی ہے کہ ہم خدا کی عبادت اس عقیدے اور طریقے کے مطابق کررہے ہیں جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے۔ ہم نے خود اپنی فکر سے یہ طریقہ اور عقیدہ ایجاد نہیں کرلیا ہے۔
(۲) تشہد کی پوری عبارت پرآپ غور کریں۔پہلے آپ اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنا سلام پیش کرتے ہیں۔پھر رسول ؐ کے لیے رحمت وبرکت کی دعا کرتے ہیں۔پھر اپنے حق میں اور تمام نیک بندوں کے حق میں سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ پھر اﷲ کی وحدانیت اور محمدؐ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں جو دراصل اﷲ ہی سے اس امر کی دعا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نوازشات کی بارش فرمائے۔پھر اﷲ سے اپنے حق میں اور اپنے والدین کے حق میں بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ ان سارے مضامین کو آپ خود دیکھیں۔ ان میں کیا چیز ہے جسے آپ شرک کہہ سکتے ہیں؟ یہ تو ساری دعائیں اﷲ تعالیٰ ہی سے ہیں۔ کیا اﷲ سے دعا کرنا شرک ہے؟ اور کیا اﷲ کے رسول کو رسول ماننا بھی شرک ہے؟
(۳) یہ غلط فہمی آپ کو کہاں سے ہوگئی کہ عبادت صرف اﷲ کی حمد وثنا کرنے کا نام ہے اور اﷲ سے دعا کرنا عبادت نہیں ہے۔دعا تو رُوح عبادت ہے۔قرآن میں جگہ جگہ ان مشرکین کو جو غیر اﷲ سے دعائیں مانگتے ہیں،غیر اﷲ کی عبادت کرنے والا قرار دیا گیا ہے، حتیٰ کہ اکثر مقامات پر یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کہنے کے بجائے یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور حکم دیا گیا ہے کہ اﷲ ہی سے دعا مانگو۔
یہ تشہد جو ہم پڑھتے ہیں ،یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو سکھایا تھا اور انہیں ہدایت فرمائی تھی کہ تم یہ پڑھا کرو،اس لیے ہم کو نماز میں یہی پڑھنا چاہیے۔رہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تشہد، تو اس کے متعلق احادیث میں کوئی صراحت نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود کیا پڑھتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ آپؐ کے تشہد میں الفاظ کچھ مختلف ہوتے ہوں، اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یہی تشہد پڑھتے ہوں۔ اگر ہم نماز میں اپنے لیے دعا کرتے ہیں تو آخر آپ کو اس پر کیا اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز میں اپنے لیے دعا فرماتے ہوں؟ اسی طرح اگر ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی شہادت نماز میں دیتے ہیں تو اس میں آخر کیا خرابی ہے کہ نبیؐ بھی اپنی نبوت کی شہادت دیتے ہوں؟
(۴) فرض نماز کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو اس کے عائد کردہ فریضۂ صلوٰۃ کو ادا کرنے کے لیے کم سے کم لازم ہے۔جس کے بغیر حکم کی تعمیل سے ہم قاصر رہ جائیں گے۔ سنت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو فرض کے علاوہ نبیؐ ہمیشہ ادا کیا کرتے تھے اور جس کی آپؐ نے ہمیں تاکید کی ہے۔ نفل سے مراد ہے خدا کی وہ عبادت جو ہم اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔جسے ہم پر نہ لازم کیا گیا ہے اور نہ جس کی تاکید کی گئی ہے۔ اب فرمایئے کہ اس میں شرک کہاں سے آگیا؟’’سنت رسول اللہ کی ‘‘کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھی جارہی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرض سے زائد پڑھا کرتے تھے اور آپؐ کے اتباع میں ہم بھی پڑھتے ہیں۔
(۵) کسی عمل کو ختم کرنے کے لیے آخر اس کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔نماز ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ جو قبلہ رو بیٹھ کر عبادت کررہے تھے، اب دونوں طرف منہ پھیر کر اس عمل کو ختم کردیں۔اب منہ پھیرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ چپکے سے منہ پھیر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خدا سے تمام خلق کے لیے سلامتی کی دعا کرتے ہوئے منہ پھیریں۔آپ کو ان میں سے کون سی صورت پسند ہے؟
(۶) جن احادیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ابتدائی دور کی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل جب کہ نمازکے احکام بتدریج مکمل ہوچکے تھے، یہی تھا کہ آپؐ پانچوں وقت وہی رکعتیں پڑھتے تھے جو اب تمام مسلمانوں میں رائج ہیں۔ یہ چیز دوسری متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ حضرت عمرؓ کا جو قول آپ نے نقل کیا ہے وہ نوافل سے متعلق ہے۔
(ترجمان القرآن۔فروری ا۹۶اء)
زکوٰۃ اور ٹیکس میں فرق:
سوال: موجودہ آزاد تمدنی دَور میں بھی کیا غربا ومساکین کے لیے امرا ورؤسا سے زکوٰۃ فنڈ جبراً وصول کیا جانا مناسب ہوگا جب کہ وہ دیگر کئی ٹیکسوں کے علاوہ انکم ٹیکس بھی ادا کرتے ہوں ؟
جواب: زکوٰۃ کے متعلق پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک عبادت اور رکن اسلام ہے،جس طرح نماز،روزہ اور حج ارکان اسلام ہیں۔جس شخص نے بھی کبھی قرآن مجید کو آنکھیں کھول کر پڑھا ہے ،وہ دیکھ سکتا ہے کہ قرآن بالعموم نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہے اور اسے اس دین کا ایک رکن قرا ر دیتا ہے جو ہر زمانے میں انبیائے کرام کا دین رہا ہے۔اس لیے اس کو ٹیکس سمجھنا اور ٹیکس کی طرح اس سے معاملہ کرنا پہلی بنیادی غلطی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جس طرح اپنے ملازموں سے دفتری کام اور دوسری خدمات لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب نماز کی ضرورت باقی نہیں، کیوں کہ انہوں نے سرکاری ڈیوٹی دے دی ہے، اسی طرح وہ لوگوں سے ٹیکس لے کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب زکوٰۃ کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ٹیکس لے لیا گیا ہے۔اسلامی حکومت کو اپنے نظام الاوقات لازماًاس طرح مقرر کرنے ہوں گے تاکہ اس کے ملازمین نماز وقت پر ادا کرسکیں۔ اسی طرح اس کو اپنے ٹیکسیشن کے نظام میں زکوٰۃ کی جگہ نکالنے کے لیے مناسب ترمیمات کرنی ہوں گی۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حکومت کے موجودہ ٹیکسوں میں کوئی ٹیکس ان مقاصد کے لیے اس طرح استعمال نہیں ہوتا ہے جن کے لیے قرآن میں زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور جس طرح اس کے تقسیم کرنے کا حکم ہے۔ (ترجمان القرآن،دسمبر ا۹۶اء)