رسائل ومسائل – جلد سوم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد سوم۔ اس جلد میں 117 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «تاویل قرآن کے صحیح اصول»، «قرآن کی تاویل کا صحیح طریقہ»، «آیت' لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ …'کے معنی»، «قادیانیوں کا معاملہ»، «مسلمانوں کے امتیازی حقوق کا معاملہ»، «اقتدار میں جبر» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قادیانیوں کی غلط تاویلات:
سوال:قادیانی مبلغ اپنا انتہائی زور اجرائے نبوت کے ثبوت پر صرف کرتے ہیں۔اس سلسلے میں وہ مندرجہ ذیل دو آیتیں خصوصی طور پر پیش کرتے ہیں اور انھی پر اپنے دعوے کی بنیاد رکھتے ہیں:
(۱) وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًاo النسائ 69:4
’’ اور جو اﷲ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اﷲ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔‘‘
اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات میں بالترتیب چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ ان کی دانست میں ان میں سے تین درجے یعنی صدیقین، شہدا اورصالحین تو امت محمدیہ کومل چکے ہیں، لیکن چوتھا درجہ نبی ہونا باقی تھا،اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ملا ہے۔ان کا کہنا یہ ہے کہ اگرمعیت کا مطلب یہ ہے کہ اُمت محمدیہ کے لوگ قیامت کے دن صرف مذکورہ گروہ کی رفاقت میں ہوں گے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کوئی صالح، شہید اور صدیق ہے ہی نہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جب آیت میں چار مراتب (گروہوں) کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر گروہ انبیا کے امت میں موجود ہونے کو کس دلیل کی بِنا پر مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔
۲۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَo الاعراف 35:7
’’اے بنی آدم! اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھیں،پس جو ڈرااور اصلاح کرلی ،ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
اس آیت سے وہ یہ استدلا ل کرتے ہیں کہ اس آیت میں خطاب تمام نوع انسانی سے ہے، اور نزو ل کے لحاظ سے یہ آیت نبی اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے ۔ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر اجرائے نبوت مقصود نہ ہوتا تو پھر نبیؐ پر یہ آیت کیوں نازل ہوتی۔ نیز یہ کہ اس میں مضارع کا صیغہ (یَاْتِیَنَّکُمْ) مع نون ثقیلہ استعمال کیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’بالضرور تمہار ے پاس میرے نبی آئیں گے۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں نبی آسکتا ہے۔
آپ سے استدعا ہے کہ اس مسئلے پر اپنے رسالے میں مدلل بحث فرمائیں، تاکہ یہ افادۂ عام کا موجب ہو۔
جواب: جب کسی مسئلے کا فیصلہ اﷲاور اس کے رسول نے بالکل صاف اورصریح نصوص میںکردیا ہو تو پھر اسی مسئلے میں ان نصوص کو چھوڑکر دوسری آیات واحادیث سے، جو دراصل اس خاص مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے وارد نہیں ہوئی ہیں، اپنے مطلب کے معنی نکالنا اور نصوص قطعیہ کے بالکل خلاف عقیدہ یا عمل اختیار کرلینا درحقیقت انتہائی گمراہی ،بلکہ خدا اور رسول کے خلاف بدترین بغاوت ہے۔ جو شخص علانیہ اﷲ اور اس کے فرمان کے خلاف کوئی مسلک اختیار کرتاہے وہ تو کم تر درجے کی بغاوت کرتا ہے۔ مگر یہ بہت زیادہ بڑے درجے کی بغاوت ہے کہ آدمی اﷲ اور رسول کے فیصلے کے خلاف خود اﷲ اور رسول ہی کے ارشادات کو توڑ مروڑ کر استعمال کرنے لگے ۔یہ کام جو لوگ کرتے ہیں ان کے متعلق ہم کسی طرح بھی یہ فرض نہیں کرسکتے کہ وہ سچے دل سے اﷲ اور اس کے رسول کو مانتے ہیں۔
یہ سوال کہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں یا نہیں؟اور آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ہم آیت ’’وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ‘‘ اور آیت ’’یٰبَنِیْ اٰدَمَ‘‘ اور ایسی ہی دوسری آیتوں کی طرف صرف اسی صورت میں رجوع کرسکتے تھے جب کہ اﷲ اور اس کے رسول نے خاص طور پر اسی سوال کا جواب کسی خاص نص میں نہ دے دیا ہوتا۔ مگر جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آیت خاتم النّبیین میں اور نبی ؐ کی طرف سے بکثرت احادیث صحیحہ میں ہم کو خاص طور پر اسی سوال کا واضح جو اب مل چکا ہے تو آیت وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ اور یٰبَنِیْٓ آدَمَ اور ایسی ہی دوسری آیات کی طرف رجوع کرنا، اور پھر ان سے نصوص قطعیہ صریحہ کے خلاف مطالب نکالنا صرف اسی شخص کا کام ہوسکتا ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہوچکا ہو اور جسے یہ بھی یقین نہ ہو کہ کبھی مر کر خدا کے سامنے جواب دہی بھی کرنی ہوگی۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے تعزیرات پاکستان کی ایک خاص دفعہ میں ایک فعل کو بالفاظ صریح جرم قرار دیا گیا ہو او رکوئی شخص اس دفعہ کو چھوڑ کر قانون کی دوسری غیر متعلقہ دفعات کا جائزہ اس غرض سے لیتا پھرے کہ کہیں سے کوئی اشارہ اور کہیں سے کوئی نکتہ نکال کر اور پھر انہیں جوڑجاڑ کر اسی فعل کو جائزثابت کر دے جسے قانون کی ایک صریح دفعہ جرم قرار دے رہی ہے۔ اس طرح کا استدلال اگر دنیا کی پولیس اور عدالت کے سامنے نہیں چل سکتا توآخر یہ خدا کے ہاںکیسے چل جائے گا؟
پھر جن آیات سے یہ لو گ استدلال کرتے ہیں بجائے خود ان کو پڑھ کر دیکھا جائے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ ان میں سے وہ مضمون آخر کہاں نکلتا ہے جو یہ لوگ زبردستی ان سے نچوڑنا چاہتے ہیں۔
پہلی آیت جو آپ نے نقل کی ہے ،اس میں جو بات فرمائی گئی ہے ،وہ صرف یہ ہے کہ اﷲاور رسولؐ کی اطاعت کرنے والے انبیاو صدیقین اور شہدا وصالحین کے ساتھ ہوں گے۔ اس سے یہ مضمون کیسے نکل آیا کہ جو لوگ اﷲ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ یا تو نبی ہوجائیںگے یاصدیق یا شہید یا صالح۔ پھر ذرا سورۂ حدید کی آیت ۱۹ ملاحظہ فرمائیے، اس میں ارشاد ہوا ہے کہ
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ۰ۤۖ وَالشُّہَدَاۗءُ عِنْدَ رَبِّہِمْ۰ۭ
الحدید57: 19
’’اور جو لوگ ایمان لائے اﷲاور اس کے رسولوں پر،وہی صدیقین اور شہدا ہیں اپنے رب کے نزدیک۔‘‘
اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ ایمان کے نتیجے میں جو دولت کسی کو مل سکتی ہے وہ صرف صدیق اور شہید ہوجانے کی ہے۔ رہے انبیا تو ان کی معیت نصیب ہوجانا ہی اہل ایمان کے لیے کافی ہے۔ کسی عمل کے انعام میں کسی شخص کا نبی ہوجانا ممکن نہیں ہے۔ اسی بِنا پر سورۂ نساء کی آیت میں فرمایا کہ اﷲ اور رسول کی اطاعت کرنے والے انبیا اور صدیقین وشہدا کے ساتھ ہوں گے۔ اور سورۂ حدید کی آیت میں فرمایا کہ اﷲ اور رسول پر ایمان لانے والے خود صدیق اور شہدا بن جائیں گے۔
دوسری آیت ایک سلسلۂ بیان سے تعلق رکھتی ہے،جو سورۂ اعراف میں آیت ۱۱ سے ۳۶ تک مسلسل چل رہا ہے۔اس سیاق وسباق میں رکھ کر اسے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی آدم سے یہ خطاب آغاز تخلیق انسانی میںکیا گیا تھا، اوریہ مضمون قرآ ن مجیدمیں صرف اسی مقام پر بیان نہیں ہوا ہے بلکہ سورۂ بقرہ آیت ۳۸،۳۹ میں بھی قریب قریب اسی طرز پر آیا ہے۔اس کو پڑھ کر یہ مطلب کیسے نکالا جاسکتا ہے کہ ان آیات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیا کے آنے کا ذکر ہے۔ اس میں تو اس وقت کا قصہ بیان کیاجارہا ہے جب حضرت آدم اور ان کی بیوی کو جنت سے نکال کر زمین پر لایا گیا تھا۔(ترجمان القرآن،مئی ۹۶۲اء)